Untitled-1111
مشہور خبر پاکستان کی خبریں

اساتذہ گروپوں کی طرف سے جامعہ پنجاب کے سینٹ کے ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ

جامعہ پنجاب میں اساتذہ کے تین گروپوں نے سینٹ کے الیکشن کا بائیکاٹ کرتے ہوۓ الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کردیا۔ اس ضمن میں 30 سے زائد اساتذہ جن میں سینٹ، سینڈیکیٹ اور اے ایس اے کے موجودہ اور سابقہ عہدیداران شامل ہیں، نے نگران وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو مراسلہ ارسال کیا۔
سینٹ جامعہ پنجاب کے انتظامی ڈھانچے میں مقتدر ترین ادارہ ہے جو کہ جامعہ کے آئین 1973 کے لئے قوانین کی منظوری دینے کے علاوہ بجٹ کی منظوری جیسے اہم فرائض انجام دیتا ہے۔ جامعہ کے 1973 کے آئین کے تحت ہر تین سال بعد جامعہ 15 اساتذہ انتخابات کے ذریعے اس ادارے کا حصہ بنتے ہیں۔ اپنے 8 سالہ دور میں ڈاکٹر مجاہد کامران نے صرف ایک بار جولائی 2012 میں یہ انتخابات کرواۓ جن کی مدت جولائی 2015 میں ختم ہوچکی ہے۔ انتخابات کی اس مدت کے ختم ہونے کے بعد اپنی قانونی مدت ملازمت میں ڈاکٹر مجاہد کامران نے یہ انتخابات دوبارہ نہیں کرواۓ۔
جامعہ پنجاب کے آئین کی مختلف شقوں اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوۓ اساتذہ کا کہنا تھا کہ ایک نگران وائس چانسلر ٹاپنے محدود اختیارات سے تجاوز کر کے سینٹ کے الیکشن نہیں کروا سکتا جبکہ سینٹ کے الیکشن کروانے کا مجاز صرف مستقل وائس چانسلر ہے۔ مزید برآں جامعہ میں تعینات رجسٹرار بھی جامعہ کے 1973 کے آئین کے تحت غیرقانونی ہے اور سینٹ کے الیکشن کروانے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔
اساتذہ کا کہنا تھا کہ سینٹ کے انتخابات کے اس غیرقانونی عمل کو فوری روکا جاۓ کیونکہ اساتذہ اس غیرقانونی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ مزید یہ کہ اگر ان انتخابات کو نہ روکا گیا تو وہ ہر قسم کی قانونی یا انتظامی کاروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔