بین الاقوامی لاہور کی خبریں مشہور خبر پاکستان کی خبریں کھیلوں کی خبریں

ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز

لاہور: کرکٹ کا شمار دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں ہوتا ہے۔ ون ڈے کرکٹ سے وابستہ ان کھلاڑیوں نے ایسے ریکارڈز بنائے جنھیں ا?سانی سے توڑنا ممکن نہیں ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے آل راؤنڈرز کے بارے میں تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، ہم اس مضمون میں اپنے قارئین کو ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز کے بارے میں بتائیں گے۔
شاہد آفریدی
شاہد آفریدی کو ایک روزہ کرکٹ کا شاندار آل را?نڈر کہا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے بہت مشہور ہیں تو دوسری طرف ان کی لیگ سپن با?لنگ نے بھی ایک طویل عرصہ تک بلے بازوں کو پریشان کیے رکھا۔ انہیں بوم بوم آفریدی بھی کہا جاتا تھا۔ انہوں نے پہلے ہی ایک روزہ میچ میں تیز ترین سنچری بنا ڈالی تھی۔ ان کا یہ ریکارڈ کئی سال تک برقرار رہا۔ ان کا سٹرائیک ریٹ بھی سب سے زیادہ ہے اور انہوں نے جتنے چھکے مارے ان کا مقابلہ بھی کوئی نہیں کر سکا۔ ان کی ایک اور خوبی ان کی شاندار فیلڈنگ تھی۔ انہوں نے 7000 سے زیادہ رنز بنائے اور 350 سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ انہیں صحیح معنوں میں گیم چینجر کہا جاتا تھا۔
شکیب الحسن
ایک روزہ کرکٹ کے اس باکمال آل راؤنڈر نے زبردست کارنامے سرانجام دیے۔ وہ ایک روزہ کرکٹ کے بہترین آل را?نڈرز میں سے ایک ہیں۔ بنگلا دیش نے ایک روزہ کرکٹ میں جتنی فتوحات حاصل کیں، ان میں شکیب الحسن کا کردار بڑا اہم رہا ہے۔ انہیں آل ٹائم بیسٹ آل را?نڈر بھی کہا جاتا ہے۔
جیک کیلس
جنوبی افریقا کے جیک کیلس کے بارے میں کیا کہا جائے۔ ان کا ریکارڈ خود ہی ان کی عظمت کی گواہی دے رہا ہے۔ وہ کھیل کے تمام شعبوں میں ناقابل یقین مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں بھی کمالات دکھائے اور ایک روزہ کرکٹ میں بھی ان کے کارنامے حیرت انگیز ہیں۔ انہیں آل ٹائم گریٹسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں دس ہزار سے زیادہ رنز بنائے اور 250 کے قریب وکٹیں حاصل کیں۔
سنتھ جے سوریا
سری لنکا سے تعلق رکھنے والے سنت جے سوریا بڑے باکمال کرکٹر تھے۔ ٹیسٹ ہو یا ایک روزہ کرکٹ، انہوں نے دونوں میں زبردست کھیل پیش کیا۔ ان کے جارحانہ کھیل کا ہر کوئی معترف تھا۔ انہوں نے 445 ایک روزہ میچ کھیلے اور 13000 سے زائد رنز بنائے۔ ان کی اوسط 32.36 رہی۔ اسی طرح انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں 323 وکٹیں حاصل کیں اور ان کی اوسط 36.75 رنز رہی۔
شین واٹسن
آسٹریلیا کے ایک شاندار آل را?نڈر نے جتنا کھیلا خوب کھیلا۔ ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں ان کی کارکردگی ہمیشہ بے مثال رہی۔ ان کے کھیل کا انداز بھی جارحانہ تھا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 190 ایک روزہ میچ کھیلے اور 40.54 کی اوسط سے 5718 رنز بنائے جبکہ با?لنگ میں 31.79 رنز کی اوسط سے 168 وکٹیں حاصل کیں۔ انہیں کھیلتے ہوئے دیکھ کر شائقین کو واقعی خوشی حاصل ہوتی تھی۔ انہوں نے کرکٹ شائقین کو اپنے شاندار کھیل سے ہمیشہ مخطوط کیا۔
اینڈریو سائمنڈ
آسٹریلیا کے ایک اور کھلاڑی اینڈریو سائمنڈ نے بھی ایک روزہ کرکٹ میں بڑا نام کمایا۔ ویسے تو آسٹریلیا کے ایک اورسابق بلے باز مائیکل بیون کا بھی نام لیا جا سکتا ہے لیکن مائیکل بیون ایک روزہ کرکٹ کے شاندار بلے باز تو تھے لیکن وہ با?لر نہیں تھے۔ آسٹریلیا نے جتنے کرکٹ ورلڈ کپ جیتے ان میں سے دو میں وہ شامل تھے۔ انہوں نے 39.75 رنز کی اوسط سے 5088 رنز بنائے جبکہ 37.25 رنز کی اوسط سے 133 وکٹیں حاصل کیں۔
عبدالرزاق
پاکستان کے مایہ ناز آل را?نڈر عبدالرزاق کے ایک روزہ کرکٹ میچوں میں کارنامے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ عبدالرزاق نے بھی شاہد آفریدی کی طرح چند ٹیسٹ میچ کھیلے اور اس حوالے سے ان کے موہالی ٹیسٹ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں انہوں نے کامران اکمل کے ساتھ مل کر پاکستان کے شکست سے بچایا تھا۔ ان کی اس اننگز کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن بات افسوسناک ہے کہ عبدالرزاق کو ہمارے سلیکٹرز نے ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ مواقع نہیں دیے اور ایک روزہ کرکٹ تک ہی محدود کر دیا۔ وہ جتنے باصلاحیت تھے اس کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بہت سی کامیابیاں سمیٹ سکتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کو بے شمار ایک روزہ میچوں میں جتوایا۔ عبدالرزاق نے 265 ایک روزہ میچ کھیلے اور 29.70 رنز کی اوسط سے 5080 رنز بنائے۔ بالنگ میں انہوں نے کمالات دکھائے وہ سوئنگ اور ریورس سوئنگ بہت اچھی کرتے تھے۔ انہوں نے 265 ایک روزہ میچوں میں 31.83 رنز کی اوسط سے 269 رنز بنائے۔1999ء4 کے ورلڈ کپ میں بھی انہوں نے بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
شان پولاک
یہ بھی جنوبی افریقا سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ایک روزہ کرکٹ میں بھی بہت نام کمایا۔ پورٹ الزبتھ میں پیدا ہونے والے اس کھلاڑی کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ویسے تو ٹیسٹ میچوں میں بھی انہوں نے خوب کمالات دکھائے لیکن ایک روزہ میچوں میں ان کی بات کچھ اور ہی ہے۔ انہوں نے 303 ایک روزہ میچ کھیلے اور 26.45 رنز کی اوسط سے 3519 رنز بنائے۔ ان کی با?لنگ بھی بڑی موثر تھی۔ وہ بڑی نپی تلی با?لنگ کراتے تھے اور ان کی با?لنگ پر رنز کرنا آسان نہیں ہوتا تھا۔ وہ کا?نٹی کرکٹ بھی کھیلتے رہے اور یہاں بھی ان کی کارکردگی متاثر کن رہی۔ ان کے والد گراہم پولاک بھی بہت معیاری کھلاڑی تھے۔ شان پولاک کو 1992ء4 میں جنوبی افریقا کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ایلن ڈونلڈ کے ساتھ مل کر بہت اچھی گیند بازی کی۔
اینڈریو فلنٹوف
انگلینڈ نے اینڈریو فلنٹوف کی شکل میں ایک بہت شاندار آل را?نڈر پیدا کیا۔ انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں بہت نام کمایا۔ وہ کا?نٹی کرکٹ بھی کھیلتے رہے اور وہاں بھی ان کی کارکردگی زبردست رہی۔ ایک زمانے میں وہ لنکا شائر میں وسیم اکرم کی کپتانی میں بھی کھیلتے تھے۔ وسیم اکرم سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے جارح بلے باز کی حیثیت سے بھی شہرت حاصل کی اور فاسٹ با?لنگ میں بھی اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ اینڈریو فلنٹوف نے مجموعی طور پر 141 ایک روزہ میچ کھیلے اور 32.1 کی اوسط سے 3394 رنز بنائے۔ انہوں نے 24.38 رنز کی اوسط سے 168 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ابھی مزید کھیل سکتے تھے لیکن پہلے ہی ریٹائر ہو گئے۔ یہ بات خاصی حد تک درست ہے جانے وہ کیا حالات تھے جنہوں نے اینڈریو فلنٹوف کو کرکٹ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اینڈریو فلنٹوف کا شمار ایک روزہ کرکٹ میں تاریخ کے عظیم ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو بہت متاثر کیا۔
یووراج سنگھ
بھارت سے تعلق رکھنے والے یووراج سنگھ نے کرکٹ کے میدان میں آتے ہی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیے۔ وہ پہلے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے فن کے جوہر دکھاتے رہے لیکن بعد میں ایک روزہ کرکٹ میں انہوں نے بہت شہرت حاصل کی۔ وہ ایک جارح بلے باز تھے اور ایک عمدہ لیگ سپن با?لر تھے۔ اگرچہ وہ اتنے اچھے با?لر نہیں تھے جتنے اچھے بلے باز پھر بھی انہیں بہترین آل را?نڈر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے 296 ایک روزہ میچ کھیلے اور 8540 رنز بنائے۔ ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 38.41 رنز کی اوسط سے 111 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے وقت سے پہلے ہی کرکٹ چھوڑ دی۔ اس بات کی بہرحال اب تک تصدیق نہیں ہو سکی کہ انہوں نے خود کرکٹ کو الوداع کیا یا انہیں کرکٹ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ یووراج سنگھ کو سرطان کا مرض بھی لاحق ہو گیا تھا اور وہ اس سلسلے میں امریکا بھی گئے تھے۔ صحت یابی کے بعد ہی ان کی کرکٹ زوال کی دلدل میں پھنستی چلی گئی۔ بہرحال یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ وہ ایک شاندار آل را?نڈر تھے اور تاریخ میں ان کا نام زندہ رہے گا۔
لانس کلوزنر
جنوبی افریقا کے اس سابق آل راؤنڈر نے ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کیں۔ لانس کلوزنر نے ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرح کی کرکٹ کھیلی اور اپنے جارحانہ کھیل سے پوری دنیا کے کرکٹ شائقین کو متاثر کیا۔ ان کی کرکٹ کا سب سے یادگار سال 1999ء تھا۔ انہیں ’’پلیئر آف دی ٹورنامنٹ‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے درمیان کھیلا گیا سیمی فائنل اس لحاظ سے زبردست تھا۔ کلوزنر نے اس ٹورنامنٹ میں 17 وکٹیں حاصل کیں اور 250 رنز بنائے۔ لانس کلوزنر نے جنوبی افریقا کو کئی میچ جتوائے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 171 ایک روزہ میچ کھیلے اور 41.10 رنز کی اوسط سے 3576 رنز بنائے۔ ایک روزہ کرکٹ میچ میں انہوں نے 29.75 رنز کی اوسط سے 192 وکٹیں حاصل کیں۔ لانس کلوزنر کے کھیل کو شائقین کرکٹ کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بلے بازی اور با?لنگ میں جتنی ورائٹی ان کے پاس تھی وہ بہت کم کرکٹرز کے پاس ہوتی ہے۔