قومی

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا انہترواں یوم وفات عقیدت و احترام سے منایا گیا

download (2)

کراچی(این این آئی)بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا انہترواں یوم وفات پیرکو عقیدت و احترام سے منایا گیا۔گورنرسندھ محمدزبیر اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزراء کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی اور پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔تفصیلات کے مطابق بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا69واں یوم وفات پیر11ستمبرکو عقیدت واحترام سے منایا گیا ۔بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی 69 ویں برسی کی مناسبت سے گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، میئر کراچی وسیم اختر اور ڈی جی رینجرزسندھ میجر جنرل محمد سعید سمیت اعلی سیاسی و عسکری شخصیات نے مزار قائد پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔ میڈیا سے بات چیت میں گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ قائد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے، پاکستان بابائے قوم کے خواب پر پورا اترے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کیلیے معاشی ترقی بہت اہم ہے۔ قائد اعظم کے اصولوں پرعمل کر کے ملک کوامن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔گورنرسندھ نے کہا کہ آج کا دن ملک کی تاریخ کا اہم دن ہے، آج بابائے قوم کی برسی ہے یہاں حاضری دینا ہم سب کافرض ہے۔میڈیا سے بات چیت میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہاکہ قائد کے خیالات پر سیاسی لیڈروں کو بھی چلنا ہوگا، انتظامی مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں انہیں حل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ، وزیر اعلی نے کہا آئی جی سندھ سے کوئی تنازع نہیں، عدالتی احکامات کے مطابق کام ہورہا ہے ،عدالت کا معاملہ تھا وہیں سے فیصلہ آیا اور ہم نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا۔مزارقائد پرحاضری کے بعد میئرکراچی وسیم اختر نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ آج کے دن بہت بڑے لیڈر ہم سے جدا ہوئے،یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم قائداعظم کے احکامات پر پورا نہیں اتر رہے، میری پاکستانی نوجوانوں سے گزارش ہے کہ بابائے قوم کی تعلیمات پرعمل کریں۔دوسری جانب تینوں مسلح افواج کے نمائندوں نے بھی مزارقائد پر حاضری دی، ڈی جی رینجرزسندھ میجرجنرل محمد سعید کی مزارقائد پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پھول چڑھائے۔بانی پاکستان کی برسی کی مناسبت سے قوم کے عظیم قائد کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ کراچی میں واقع قائد اعظم کے مزار پر اہم شخصیات کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے طبقات نے مزار قائد پر حاضری دی،پھولوں چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کے کیڈٹس کی جانب سے بھی قرآن خوانی کی گئی۔ قائد اعظم کے یوم وفات کے سلسلے میں مختلف تنظیموں کی جانب سے ملک بھر میں سیمینارز اور دیگر تقریبات کا اہتمام بھی کیا گیا ،جس میں بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی شہر سے حاصل کی اور پھر اعلی تعلیم کے حصول کے لیے لندن تشریف لے گئے۔ جہاں انہوں نے 1896میں قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ وطن واپس لوٹنے کے بعد وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے اور پھر 1909 میں مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔قائداعظم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کانگریس میں شمولیت سے کیا۔ 1906 میں انتہا پسند ہندو لیڈروں کے عزائم دیکھ کر مسلم لیگ جوائن کر لی ۔ قائداعظم محمد علی جناح کچھ عرصہ تک کانگریس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کے بھی رکن رہے اور پھر مسلم لیگ کے پرچم تلے برصغیر کے مسلمانوں کو جمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔انیس سو انتیس میں انہوں نے موتی لال نہرو کو نہرو رپورٹ کے جواب میں اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے۔ جن میں برصغیر کے مسلمانوں کے مسائل کا حل تجویز کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے لندن میں گول میز کانفرنسوں میں مسلمانان ہندوستان کی نمائندگی کی تاہم کچھ عرصے کے لئے سیاست سے دلبرداشتہ ہوکر انگلستان ہی میں مقیم ہوگئے لیکن جب ہندوستان کے مسلمانوں نے انہیں اپنی قیادت کے لیے آواز دی تو وہ اس پر لبیک کہتے ہوئے وطن واپس لوٹ آئے۔انیس سو سینتیس میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے اور پھر قیام پاکستان تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1940 میں ان کی زیر صدارت لاہور میں تاریخی قرارداد پاکستان پیش کی گئی جس میں واشگاف الفاظ میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا ان کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں یہ مطالبہ انگریزوں نے بھی تسلیم کیا اوربالآخر 1947 میں دنیا کے نقشے پر ایک نئی مسلم ریاست پاکستان کا اضافہ ہوگیا۔قیام پاکستان کے بعد قائداعظم، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ وہ پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہاں تھے لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا اور مسلمانان پاکستان 11 ستمبر 1948 کو اپنے اس عظیم رہنما کی قیادت سے محروم ہوگئے۔