بین الاقوامی

حوثیوں کو شکست دینے تک یمن نہیں چھوڑیں گے،سعودی فورسز سعودی عرب اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھی کوشاں ہے،کرنل حمید کی گفتگو

1034712824

الخوبہ (این این آئی)سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کی بحالی کے لیے مارچ 2015ء میں فوجی مداخلت کے بعد سے سرحدی علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ حوثی باغی سعودی سکیورٹی فورسز کی جانب گولہ باری کرتے رہتے ہیں اور وہ سرحدی علاقے میں دراندازی کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔سرحدی علاقے میں تعینات سعودی سکیورٹی فورسز نے گولہ باری سے اڑنے والے گردوغبار سے بچنے کے لیے اپنی چوکیوں میں گیس ماسک بھی بڑی تعداد میں رکھے ہوئے ہیں۔اس علاقے میں واقع گاؤں الخوبہ میں ایک چوکی سرحدی محافظوں کے ان اڈوں میں سے ایک ہے جس کو یمن کے حوثی باغی متعدد مرتبہ نشانہ بنا چکے ہیں۔فرانسیسی خبررساں ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کی ’’ حملہ کرو اور بھاگ جاؤ‘‘ کی جنگی حکمت عملی کے باوجود سعودی عرب کا یمن کے ساتھ طویل سرحد پر کنٹرول کم زور نہیں پڑا ہے
لیکن یہ ضرور ہوا ہے کہ الخوبہ ایسے بیسیوں سرحدی دیہات حوثی ملیشیا کے حملو ں کی زد میں ہیں ۔سعودی عرب کی بارڈر سکیورٹی فورسز کے کرنل محمد الحمید کا کہناتھاکہ حوثی یہ خیال کرتے ہیں، ہم یہاں سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور سرحدی علاقے کو خالی کردیں گے لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے،ہم وہیں موجود ہیں اور ہمارا بھرپور کنٹرول ہے۔وہ جب صحافیوں سے یہ گفتگو کررہے تھے تو ان کے پاؤں کے نیچے گولیوں کے خول اور ٹوٹے ہوئے شیشوں کے ٹکڑے پڑے تھے۔ان کی چوکی کی دیواروں میں گولیوں کے نشان تھے اور لوہے کی چھت پر بھی گولیوں اور گولوں کے سوراخ صاف نظر آرہے تھے۔کرنل حمید کا کہنا تھا کہ انھوں نے گیس ماسک حوثیوں کے ممکنہ کیمیائی حملے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے سرحد کے دوسری جانب یمنی علاقے میں پہاڑ کی چوٹی پر حوثیوں کی چوکیاں بھی دکھائیں جہاں سے وہ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے سعودی چوکیوں کو بآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔حوثیوں نے یمن میں سعودی عرب کے فضائی حملوں کے ردعمل میں متعدد مرتبہ سرحدپار دراندازی کرکے چھاپا مار کارروائیاں کی ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھی کوشاں ہے۔ کیونکہ حوثی ملیشیا نے سوشل میڈیا پر متعدد پروپیگنڈا ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کی ہیں ،ان میں انھوں نے سعودی علاقے میں اپنے جنگجوؤں کی دراندازی دکھانے کی کوشش کی ہے۔تاہم کرنل حمید کا کہنا تھا کہ حوثی جھوٹے ہیں، جھوٹے ہیں ، جھوٹے ہیں ‘‘۔ انھوں نے بتایا کہ حوثیوں کے حملوں میں سعودیوں کا بہت تھوڑا جانی نقصان ہوا ہے۔غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2015ء کے بعد سے ملیشیاؤں کے سرحدپار حملوں میں 140 سعودی فوجی اور شہری شہید ہوئے ہیں۔ البتہ لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں سعودی شہری متاثر ہوئے ہیں اور انھیں سرحدی علاقوں سے دوسرے مقامات کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔یمن کے ساتھ سرحدی علاقے میں سعودی عرب کی بڑی تعداد میں فوج تعینات ہے اور اس کی طاقتور فضائیہ ہے۔اگر حوثی کسی علاقے پر قبضہ کر بھی لیتے ہیں تو انھیں اس کو برقرار رکھنا مشکل ہوگا کیونکہ انھیں تباہ کن فضائی بمباری کا سامنا ہوسکتا ہے۔