web117
بین الاقوامی

’خارجہ پالیسی کا بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کو روکنا ہے‘

امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ شمال مشرقی ریاستوں میں کامیابی کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال واضح کیے ہیں۔

واشنگٹن میں بین الاقوامی امور پر اپنی پہلی تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر براک اوباما کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں’سب سے پہلے امریکہ‘ کو اولین ترجیح دیں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ کی پالیسی ’مکمل طور پر تباہ کن ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر سے پہلے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی کی تفصیلات ’ٹرمپ ڈاکٹرِن‘ نہیں ہوں گی اور اگر وہ منتخب ہو گئے تو اس میں تبدیلی کے لیے کچھ لچک رکھیں گے۔

ٹرمپ کی تقریر میں زیادہ زور اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر تھا جسے انھوں نے’ کمزور، مبہم اور منتشر‘ قرار دیتے ہوئے امید کا اظہار کیا کہ وہ اسے تبدیل کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے بارے میں کہا کہ ’ان کے دن پورے ہو چکے ہیں، میں ان کو نہیں بتاؤں گا کہ یہ کب ہوئے اور کس طرح ہوئے۔‘

اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کی تیل تک رسائی کو ختم کر کے اسے کمزور کر دیں گے اور وہ ان کے خلاف تفتیش کے لیے واٹر بورڈنگ سمیت دیگر طاقتور طریقے استعمال کرنے کے حق میں ہیں، تاہم بدھ کی تقریر میں انھوں نے ان تجاویز پر بات نہیں کی۔

تقریر میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں بڑا ہدف انتہا پسند اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور درحقیقت یہ دنیا کا بھی ہدف ہو گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ زیادہ قریبی کام کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو میں موجود امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ نئی بات چیت کی جائے گی تاکہ اس تنظیم کے ڈھانچے کو نئی شکل دی جا سکے اور اس میں امریکی مالی وسائل کا توازن قائم کرنے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔

اس کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ بھی بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ اسلامی انتہا پسندی کے بارے میں اتفاق رائے قائم ہو سکے۔

چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنا چاہیں گے، لیکن یہ کام کیسے کیا جائے گا اس کے بارے میں انھوں نے کچھ نہیں بتایا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکہ جن ممالک کا دفاع کرتا ہے انھیں اس دفاع کی قیمت ادا کرنا ہو گا اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو امریکہ کو تیار ہونا ہو گا کہ یہ ممالک اپنا دفاع خود کریں۔ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

ٹرمپ نے گذشتہ ماہ نیویارک ٹائمز اخبار سے بات کرتے ہوئے جاپان کے بارے میں کہا تھا کہ اگر ہم پر حملہ ہوتا ہے تو وہ ہمارے دفاع کے لیے نہیں آئیں گے اور اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تو ہمیں مکمل طور پر ان کا دفاع کرنا ہو گا اور یہی اصل مسئلہ ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے کنیٹیکٹ، ڈیلاویئر، میری لینڈ، پینسلوینیا اور روڈز آئی لینڈ میں کامیابی کے بعد خود کو رپبلکن پارٹی کا ’ممکنہ نامزد صدارتی امیدوار‘ کہا ہے۔

جولائی میں پارٹی کے قومی کنونشن سے قبل یہ نتائج انھیں صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیے مطلوبہ تعداد کے قریب لے آئے ہیں۔