ایڈیٹوریل پاکستان کی خبریں

فضول خرچی: بڑھتے ہوئے مسائل کی اہم وجہ.

most urgent for edition

فضول خرچی :بڑھتے ہوئے مسائل کی اہم وجہ
فضول خرچی سے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں جبکہ کفایت شعاری کو اپنانے سے تنگدستی اور افلاس سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے
فضول خرچی سے بچنے اور کفایت شعاری کو اپنانے کے لئے روزمرہ کا حساب لکھنا ضروری ہے
اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ کونسی ایسی چیزیں ہیں جن میں زیادہ خرچ ہو رہا ہے تاکہ اسے کنٹرول کیا جائے اور سادہ زندگی بسر کرنے کی عادت ڈالی جائے۔
ہمیں چاہیے کہ خرچ کرتے وقت کئی بار سوچیں کہ آیا یہ ہمارے لیے ضروری ہے ؟اگر ضروری ہے بھی تو اعتدال سے خرچ کیا جائے
مدیحہ ر حمانی

قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ بے شک زندگی کی گاڑی چلانی، عزت اور صحت کو بحال رکھنے اور دوسرے حق داروں پر خرچ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ فضول خرچی اور غیر ضروری اور نا مناسب اخراجات سے گریز کیا جائے اور اعتدال پسندی کو اپنا شعار بنایا جائے جبکہ فضول خرچی ایک ایسی عادت ہے جو ہر حال میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہے فضول خرچی سے بچنا اور کفایت شعاری اپنانا تفکرات اور پریشانیوں کو کم کرتا ہے زندگ خوش اسلوبی اور چین سے گزرتی ہے ضرورت کے لئے تو خرچ بہرحا ل کرنا ہی پڑتا ہے کوئی ضرورت کے مطابق کرتا ہے کوئی ضرورت سے زیادہ اور کوئی ضرورت پر بھی نہیں کرتا یہ مختلف طریقے ہیں جس سے انسان زندگی گزارتا ہے لیکن اس سب سے بہتر طریقہ کفایت شعاری اپنانا اور فضول خرچی سے بچنا ہے۔کیونکہ رسو ل اللہؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ بہترین کام وہ ہے جن میں میانہ روی اختیار کی جائے فضول خرچی نہ خدا کو پسند ہے نہ رسولؐ کو۔ اس میں اپنا بھی نقصان ہے۔ خون پسینے سے کمایا ہویا روپیہ فضول اور غیر ضروری کاموں پر خرچ کر دینا اور خود تکلیف اٹھانا بھی تو کوئی عقلمندی نہیں ہے۔ ایک تو روپیہ کا ضیاع اور دوسرے اپنے بال بچوں کو محروم کر دینا دوراندیشی کے یکسر منافی ہے ہمیں سادہ زندگی گزارنا چاہیے اس سے تسکین بھی رہتی ہے اور فضول خرچی کے نقصانات سے بھی انسان بچا ر ہتا ہے۔
فضول خرچ لوگ ہمیشہ پریشان ہی دیکھے گئے ہیں چاہے ان کی کتنی بھی آمدنی کیوں نہ ہو۔ شادی بیاہ‘ غم خوشی پر بے جا اسراف ہوتا ہے۔ کیا یہ بہت نہیں کہ وہی روپیہ اپنے ضروری کاموں پر لگایا جائے جن سے ملک وقوم کی اور پریشان حال لوگوں کی خدمت ہو سکے۔
فضول خرچی سے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں جبکہ کفایت شعاری کو اپنانے سے تنگدستی اور افلاس سے چھکاراپایا جا سکتا ہے ایک مشہور مفکر کا قول ہے:
’’آپ اگر اپنی آمدنی میں اضافہ نہ کرسکتے ہوں تو اپنے خرچ میں کمی کیجئے۔ اپنے خرچ میں کمی کرکے آپ اپنی آمدنی بڑھا سکتے ہیں۔‘‘ اور اپنے خرچ میں کمی صرف فضول خرچی سے بچ کر ہی کی جا سکتی ہے۔
کیونکہ اکثر اوقات ہم اپنی ضرورت اور استعداد سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں۔ امیر کی دیکھا دیکھی غریب بھی اسی مصیبت میں مبتلا ہو گیا ہے سادہ زندگی بسر کرنے اور فضول خرچی کی عادت کو چھوڑنے کے لئے پہل امیر طبقے کو کرنی چاہیے ورنہ معاشرہ کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔
غریب اپنی جھوٹی عزت بنانے کے لئے مجبور ہیں حالانکہ لوگوں کی زبانوں کو ر وکا نہیں جا سکتا۔ مسئلہ انفرادی نوعیت کا نہیں بلکہ اجتماعی قسم کا ہے امراء توزیادہ خرچ کرسکتے ہیں مگر غریب لوگ بھی اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں وہ شخص جھوٹا بھرم ر کھنے کے لئے ایسا کرتے ہیں اگر سادہ زندگی بسر کرنے اور فضول خرچی سے بچنے کی عادت اپنائی جائے تو تقریبات بھی سادگی سے سرانجام دی جا سکتی ہیں۔ جھوٹا وقار انسان کو ذلیل کرکے رکھ دیتا ہے۔ فضول خرچی سے بچنے اور کفایت شعاری کو اپنانے کے لئے ر وزمرہ کا حساب لکھنا ضروری ہے اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ کون ایسی چیزیں ہیں جن میں زیادہ خرچ ہو رہا ہے تاکہ اسے کنٹرول کیا جا ئے اورسادہ زندگی بسر کرنے کی عادت ڈالی جائے۔ ہمیں چاہیے کہ خرچ کرتے وقت کئی بار سوچیں کہ آیا یہ ہمارے لیے ضروری ہے؟اگر ضروری ہے بھی تواعتدال سے خرچ کیا جائے عقلمندی او ر دوراندیشی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنی آمدنی سے کچھ نہ کچھ بچایا ضرور جائے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم فضول خرچی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں اوراس موذی مرض سے نجات کادل میں مصمم ارادہ کرلیں۔