نئی پاکستانی فلم میں فحش مناظر اور بے ہودہ جملوں کی بھرمار،یو اے ای میں نمائش کی اجازت نہ ملی

کراچی : سلمان اقبال فلم ،اے آر وائی فلم اور سکس سگما پلس کے اشتراک سے بننے والی فلم “پنجاب نہیں جاونگی “کے پرئمیر شوز کاکراچی اور لاہور کے مقامی سینما وں میں انعقاد کیا گیاجس میں فلم کی کاسٹ سمیت ، ہدایتکار، پروڈیوسر، فنکار برادری اور صحافی برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور رومینٹک ڈرامہ اور مزاح سے بھرپور فلم کو پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئے بہترین کاوش قرار دیا، فلم پہلی ستمبر سے بڑے پردے کی زینت بنے گی۔فلم ’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ایک رومینٹک ڈرامہ ہے جس کی ہدایات ایوارڈ یافتہ معروف ڈائریکٹر ندیم
بیگ نے دیں ہیں ، جبکہ فلم کے پروڈیوسرز میں سلمان اقبال، شہزاد نصیب، ہمایوں سعیداور جرجیس سیجا شامل ہیں، فلم کی کہانی’’ صدقے تمہارے‘‘ اور ’’پیارے افضل‘‘ جیسے ڈرامو ں کے خالق لجنڈری پلے رائٹر خلیل الرحمان قمر نے لکھی ہے، جبکہ فلم کے کرداروں میں ہمایو ں سعید، مہوش حیات، احمد علی بٹ، عروہ حسین، اظفر رحمان، سہیل احمد بہروز سبزواری، صبا حمید، وسیم عباس اور نوید شہزاد شامل ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر ندیم بیگ نے فلم سے متعلق نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سال 2017پاکستانی سینماوں کی بحالی کے لئے سنگ میل کی حیثیت اختیار اور فلم پاکستانی فلمی صنعت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوجس کے بعد شائقین فلم ایک بار پھر معیاری فلموں سے لطف اندوز ہونے کے لیے سینماوں کا رخ کریں۔ اس موقع پر فلم کے پروڈیوسر ہمایوں سعید نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس فلم کا بطور ایکٹر نہ صرف حصہ ہونے پر نہ صرف خوشی ہو رہی ہے بلکہ فلم کے پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی اس بات پر فخر ہے کہ اپنے ملک میں معیاری فلموں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کررہاہوں۔ فلم ’’پنجاب نہیں جاؤں گی ‘‘کے پروڈیوسر شہزاد نصیب کا فلم سے متعلق کہنا تھا کہ ہم نے اپنی جانب سے فلم کے لیے بے انتہا محنت کی ہے،ان کا کہنا تھا کہ جس طرح فلم کے ٹریلر کو عوام نے پسند کیا ہے ہمیں امید ہے کہ شائقین کو فلم بھی ضرور پسند آئے گی۔ میں ذاتی طور پر خود اس فلم کا زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرپارہاہوں، اور ہمیں اس فلم سے بہت امیدیں ہیں کہ فلم اپنے شائقین کے لیے تفریح کا بہترین ذریعہ اور ملک میں سینماوں کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے گی ان خیالات کا اظہاراے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اورفلم کے کو پروڈیوسر جرجیس سیجا نے تقریب کے موقع پر کیا۔پاکستان کی فلم انڈسٹری کی بحالی کے عمل میں ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے نئی پاکستانی رومانوی فلم’’ پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ کی عید الالضحیٰ سے قبل لاہور کے مقامی سنیما میں یادگار پریمئر منعقد ہوا۔ ستاروں جیسی جگمگاتی تقریب میں فلم کے ستاروں سمیت شوبز سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات، دیگر صنعتوں سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد اور فلم کے مرکزی اسپانسر بینک الفلاح کے سینئر انتظامی عہدے داران نے شرکت کی۔فلم کے افتتاحی شو میں شریک افراد کی جانب سے بھرپور پذیرائی دی گئی جو فلم کی کامیابی کی دلیل ہے۔ ’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ ایک رومانوی کامیڈی فلم ہے جس کی ہدایات ندیم بیگ نے دی ہیں جو اس سے قبل 2015میں کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والی فلم ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ بھی بناچکے ہیں۔ فلم کی کہانی خلیل الرحمٰن قمر نے تحریر کی ہے۔ بینک الفلاح کی اسپانسر شدہ یہ فلم ہمایوں سعید، مہوش حیات اور عروہ حسین کے درمیان محبت کی تکون کے گرد گھومتی ہے۔فلم میں شامل دیگر نمایاں فنکاروں میں احمد علی بٹ، صباء حمید، سہیل احمد، اظفر رحمٰن اور نوید شہزاد شامل ہیں۔تفریح سے بھرپور یہ فلم ملک بھر کے سینماؤں میں عیدالالضحیٰ پر ریلیز کی جائے گی۔ اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بینک الفلاح کے چیف مارکیٹنگ آفیسر علی مستنصر نے کہا کہ’’ بینک الفلاح پاکستان میں جدید اختراعات کے ساتھ تخلیقی سرگرمیوں اور فنون لطیفہ کی بھرپور معاونت فراہم کرتا ہے۔ ہمارے لیے پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی ہمیشہ سے اہم ترجیح رہی ہے۔بینک نے نہ صرف معروف فلم سازوں کے ساتھ تعاون کیا بلکہ بینک الفلاح کے رائزنگ ٹیلنٹ پلیٹ فارم سے بھی نئے فلم سازوں کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا ہے۔‘‘بینک الفلاح دیگر ذرائع کے علاوہ اپنے رائزنگ ٹیلنٹ پلیٹ فارم کے ذریعے فلم، فیشن اور، جدید اختراعات اور کھیلوں کی سرپرستی اور معاونت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔بینک کی معاونت کے نتیجے میں متعدد فلم ساز، فیشن ڈیزائنرز، موجدین اور کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کرتے ہوئے اپنے کیریئر کو مضبوط بناچکے ہیںدریں اثناء فلم نا معلوم افراد 2 میں سینئر اداکار جاوید شیخ اور نیئر اعجاز جیسے لوگ بھی کام کر رہے ہیں لیکن متحدہ عرب امارات میں اس فلم کو فحش لباس اور بے ہودہ جملوں کی وجہ سے نمائش کی اجازت نہیں مل سکی ۔ نامعلوم افراد 2 متحدہ عرب امارات میں 31 اگست کو ریلیز ہونا تھی لیکن اس کی ریلیز التوا کا شکار ہوگئی ہے۔یو اے ای کے سینسر بورڈ نے فلم کی ریلیز روکی ہوئی ہے، اور معاملہ نیشنل میڈیا کونسل کو بھجوایا ہوا ہے جہاں سے کلیئرنس ملنے کے بعد ہی فلم کو ریلیز کی اجازت دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فلم میں اداکاراؤں کی جانب سے زیب تن کیے جانے والے فحش لباس، فلم میں عربوں کا اڑایا جانے والا مذاق اور انتہائی گھٹیا جملے بازی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے فلم کو مشکلات کا سامنا ہے۔ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور فلم کی کاسٹ دبئی گئی تھی تاکہ وہاں تشہیری تقریبات میں حصہ لیا جا سکے لیکن سینسر بورڈ کے فیصلے کے باعث یہ ایونٹس منسوخ کردیے گئے۔اردو ون فلم ڈویژن کے یوسف شارق کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے سینسر بورڈ کی طرف سے فلم ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، ہو سکتا ہے کہ کچھ قطع و برید کے بعد فلم ریلیز کرنے کی اجازت دے دی جائے، فلم سے متعلقہ 7 لوگ دبئی آئے ہیں لیکن ہم نہیں چاہتے کہ انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں