استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 20 سال بیت گئے!

لاہور سروں کے بادشاہ استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے بیس سال بیت گئے مگر ان کی آواز کا جادو آج بھی سرچڑھ کر بول رہا ہے۔عالمگیرشہرت رکھنے والے نصرت فتح علی خان کوقوالی، صوفیانہ کلام، گیت، غزل اور کلاسیکل سمیت گائیکی کی ہرصنفت پر مکمل عبورحاصل تھا جب کہ ان کا بلند پایاں کلام اورراگ آج بھی کئی دلوں کو موہ لیتا ہے۔نصرت فتح علی خان نے 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد کے قوال گھرانے میں آنکھ کھولی، بڑوں سے قوالی کا فن سیکھا اور پھر خداد صلاحیتوں کے باعث استاد نصرف فتح علی خان بن گئے جب کہ اپنی مہارت سے شہنشائے قوال کا لقب پایا۔نصرت فتح علی خان نے درجنوں ملکوں میں پرفارم کرکے گوروں کو بھی جھومنے پر مجبور کیا، استاد نصرت فتح علی خان کا گایا ہواکلام اورقوالی آج بھی کئی محفلوں کی جان ہے، وطن کی محبت سے سرشار استاد نصرت فتح علی خان نے کیرئیر کا آخری ملی نغمہ میرا ایمان پاکستان گایا اور شدید علالت کے باعث نصرف فتح علی خان 16اگست 1997کواس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  امریکا میں پاکستانی سفارتخانے میں راحت فتح علی خان کا کنسرٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں