لاہور چیمبر میں ودہولڈنگ ٹیکس کے خلاف تاجرکنونشن

لاہور چیمبر میں ودہولڈنگ ٹیکس کے خلاف تاجرکنونشن
کاروباری برادری پریشان ہے، مسئلہ فورا حل کیا جائے: ملک طاہر جاوید
تاجروں پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے سے مسائل مزید بڑھیں گے، مراعات دیکر ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جائے: صدر لاہور چیمبر

loading...

لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید نے کہا ہے کہ بینک ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے تاجروں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے، ایسے غیر منصفانہ ٹیکس نئے ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی کریں اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں مزاحم ہونگے لہذا حکومت تاجروں کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ودہولڈنگ ٹیکس فورا ختم کرے۔ لاہور چیمبر میں ودہولڈنگ ٹیکس پر ایک بڑے تاجر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو صورتحال کا فوری نوٹس لیں کیونکہ ودہولڈنگ ٹیکس اور اس کے ساتھ صوابدیدی اختیارات کا بے جا استعمال کاروباری صورتحال خراب کررہے ہیں، ودہولڈنگ ٹیکس کے مسئلہ نے حکومت و تاجر برادری کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پیدا کررکھی ہے جو معیشت کے مفاد میں نہیں۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید، امجد علی جاوا، ناصر حمید خان، طاہر منظور چودھری، فہیم الرحمن سہگل، نعیم حنیف، محمد بشیر اور صنعتی و تجارتی ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ بینکوں سے لین دین پر ٹیکس عائد کرکے حکومت نے ٹیکس وصولیوں میں اضافے کی کوشش کی لیکن اس کا فائدہ ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہورہا ہے کیونکہ متعلقہ اداروں کے پاس فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان فرق جاننے کے لیے مستند ڈیٹا موجود نہیں ۔ کنونشن کے شرکاءنے کہا کہ اگر یکم نومبر تک یہ مسائل نہ ہوئے تو نیا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنے کے بجائے حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے کوئی اور دانشمندانہ طریقہ کار اختیار کرتی تو بہتر ہوتا۔ انہو ں کہ ودہولڈنگ ٹیکس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تاجروں نے پہلے ہی بینکوں کے ذریعے لین دین کم کردیا ہے، اگر ان کی دہائی پر کان نہ دھرے گئے تو یہ بالکل بند ہوجائے گا جس سے ایف بی آر کو کو محاصل کے نام پر کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ، ا±لٹا تاجروں کا اعتماد متزلزل ہوجائے گا جو معیشت کے لیے تباہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے لین دین پر ٹیکس عائد کرنا قطعی طور پر ایک غیر منطقی فیصلہ تھا جس نے ہنڈی و حوالہ اور نقد لین دین کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جبری ودہولڈنگ ٹیکس سے ایف بی آر کو اہداف حاصل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی لہذا اسے فوری طور پر ختم کرکے تاجر برادری کی مشاورت سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے قابل فہم اقدامات اٹھائے جائیں۔

شعبہ اطلاعات

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں