ہیران کن ڈاکیومنٹری: دنیاکی معاشیاتی فورم پرعمران خان کےبلین ٹری سنامی کوپہچان دی. گلوبل وارمنگ کے خیلاف سنگ میل بنیاد کرار.

loading...

خیبر پختون خوا : صوبائی حکومت کی جانب ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے درخت اگانےکی مہم ’بلین ٹری سونامی’ کا منصوبہ تکیمل کے مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت اب تک صوبہ بھر میں 94 کروڑ درخت لگائے جاچکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ایک ارب درخت لگائے جائیں گے۔
خصوصی ڈاکیومنٹری دیکھیئے:


ماحولیات کے تحفظ کےلیے سرگرم عالمی ادارے آئی سی یو ان کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت خیبر پختون خوا کا شمار دنیا کے ان صوبوں میں ہونے لگا ہے جس نے عالمی معاہدے ‘بون چیلنج’ کے تحت 350000 ہیکٹر رقبے پر پودے لگانے کا ہدف پورا کیا ہے۔

سنہ 2013 میں بلین ٹری سونامی منصوبے کے لیے ٹاسک فورس بنائی گئی تاہم اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز 2015 میں تحریک انصاف رہنما عمران خان نے کیا۔

اس منصوبے پر کام گرین گروتھ انسٹیٹویشن کر رہا ہے جس کے چیئرمین ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ شجر کاری صوبے کے تین بڑے ڈویژنوں ہزارہ، مالاکنڈ اور جنوبی اضلاع میں کی گئی ہے اور 40 فیصد پودے اُن علاقوں میں لگائے ہیں جہاں پہلے سے جنگلات موجود نہیں تھے ۔ جن علاقوں میں پہلے جنگلات کا وجود نہیں تھا وہاں 21 مختلف قسم کے درخت اگائے گئے جن میں کیکر، شیشم،لاچی اور روبینیہ شامل ہیں۔ ملک اسلم کا مزید کہنا تھا کہ بلین ٹری سونامی منصوبے صوبے سمیت ملک بھر میں جنگلات کا مجموعی رقبے میں اضافہ ہو گا۔

ادھر ماحولیات پر تحقیق کرنے والی عالمی ادارے آئی یو سی این نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں گذشتہ کچھ سالوں کے دوران وسیع پیمانے پر شجرکاری کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت خیبر پختونخوا کا شمار دنیا کے ان صوبوں میں ہو رہا ہے جس نے عالمی معاہدے ‘ بون چیلنج‘ کے تحت 350000 ہیکٹر رقبے پر پودے لگانے کا ہدف پورا کیا ہے۔’
یاد رہے کہ بون چیلنج ایک عالمی معاہدہ ہے جس کے تحت دنیا کے درجنوں ممالک سنہ 2020 تک 150 ملین ہیکٹر رقبے پر جنگلات میں اضافہ کریں گے۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں۔  سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز ٗ پاکستان نے آسٹریلیا کو 45 رنز سے شکست دے دی

ملک میں جنگلات پر تحقیق کرنے والے سرکاری تدریسی ادارے پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کےمطابق ملک میں 90 کی دہائی میں 35 لاکھ 90 ہزار ہیکٹر رقبے پر جنگلات پر تھے جو دو ہزار کی دہائی میں کم ہو کر اب 33 لاکھ 20 ہزار ہیکٹر تک تک پہنچ گئے ہیں۔
فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ 2002 میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ ہوا اور ملک میں پانچ اعشاریہ ایک فیصد رقبہ جنگلات پر محیط ہے۔ تاہم اقوام متحدہ سمیت دیگر اہم غیر ملکی ادارے ان اعداد و شمار کو درست نہیں مانتے۔ ان کے مطابق پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی سے مسلسل ہر سال جنگلات کا رقبہ کم ہو رہا ہے۔ جس کے تحت یہ رقبہ کل رقبے کے تین فیصد تک رہ گیا ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان دنیا کے ان سات ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور جہاں ان کے تباہ کن اثرات سے ہر سال ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں