ڈینگی سے لڑنے کے آسان اور سستے طریقے

کراچی: خیبر پختونخوا میں ڈینگی بخار بڑی تیزی سے وبائی صورت اختیار کر چکا ہے اور اب تک وہاں اس کے 1000 سے زیادہ مریض سامنے آچکے ہیں۔ دوسری جانب حکومتِ پنجاب نے بھی خصوصی طبّی ٹیمیں خیبرپختونخوا بھیج دی ہیں جو مریضوں میں ڈینگی بخار کی تشخیص اور علاج پر کام کر رہی ہیں۔
البتہ گزشتہ 10 سال کے تجربات و مشاہدات سے ثابت ہوچکا ہے کہ ڈینگی وبا کا مقابلہ کرنا صرف صوبائی یا وفاقی حکومتوں کے لیے ممکن نہیں بلکہ اس عمل میں عوامی شراکت سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
ڈینگی سے بچاؤ؛ عوام کیا کریں؟

ڈینگی کا معاملہ خاص طور پر دو وجہ سے حساس ہے۔ اوّل یہ کہ احتیاط نہ کرنے کی صورت میں ڈینگی بخار بگڑ کر ’’ڈینگی جریانی بخار‘‘ (ڈینگی ہیموریجک فیور) میں تبدیل ہوسکتا ہے جس میں جسم سے خون کا اخراج متاثرہ فرد کو موت کے منہ میں دھکیل سکتا ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ڈینگی کی وجہ بننے والا مچھر ’’ایڈیز‘‘ ہی چکن گنیا اور زیکا جیسی تکلیف دہ بیماریوں کی وجہ بھی ہے۔
واضح رہے کہ ایڈیز مچھر کی خاص نشانی اس کی لمبی ٹانگیں ہیں جن پر کالی سفید دھاریاں دکھائی دیتی ہیں اور اسی لیے یہ ’’ٹائیگر مچھر‘‘ بھی کہلاتا ہے۔
ڈینگی بخار کی مخصوص علامات میں تیز بخار، متلی، سر میں درد، کمر میں (پیٹ سے پچھلے مقام پر) درد، بدن میں اینٹھن اور جسم پر سرخ دانے نکل آنا بھی شامل ہیں۔ بیماری شدید ہونے پر ان علامات کے ساتھ ساتھ مریض کی ناک اور منہ سے خون بھی نکلنے لگتا ہے اور ایسی صورت میں متاثرہ شخص کو جلد از جلد اسپتال پہنچا دینا چاہیے۔
ایڈیز مچھر کے بارے میں ایک اور اہم بات یہ بھی یاد رکھیے کہ یہ صبح سویرے اور شام کے وقت زیادہ سرگرم ہوتا ہے اور عموماً ان ہی اوقات میں کاٹتا بھی ہے۔ یعنی ان مواقع پر خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے تاہم دن کے دوسرے اوقات میں بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیجئے۔
مچھر مار دواؤں کا اسپرے ایڈیز مچھروں کا وقتی طور پر کسی حد تک خاتمہ ضرور کرتا ہے لیکن یہ ڈینگی وبا کو قابو میں رکھنے کا ضامن ہرگز نہیں کیونکہ ملیریا پھیلانے والے عام مچھروں کے برعکس، ڈینگی بردار ایڈیز مچھر صاف پانی میں پروان چڑھتے ہیں جو گھروں میں (بالٹیوں اور ٹنکیوں کے اندر) کئی دنوں تک محفوظ کر کے رکھا جاتا ہے۔ گھر کی پارکنگ یا چھت پر رکھے ہوئے پرانے ٹائروں کے اندر جمع ہو جانے والے پانی میں بھی ایڈیز مچھر اپنی کالونیاں بنا سکتے ہیں۔
اس لئے ضروری ہے کہ ان تمام جگہوں کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہیے اور ان میں موجود پانی خشک کرتے رہیے۔
اس کے علاوہ پنکچر کی دکانوں پر بھی پانی سے بھرے ہوئے ٹب رکھے ہوتے ہیں جن میں ٹائر ڈال کر پنکچر چیک کیا جاتا ہے۔ ایسے کسی ٹب کا پانی کئی دنوں تک تبدیل نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے یہاں بھی ایڈیز مچھر بہ آسانی پروان چڑھتے ہیں۔ اگر پنکچر شاپ پر ٹب کا پانی روزانہ تبدیل کیا جاتا رہے تو اس سے بھی ڈینگی بردار ایڈیز مچھر کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے۔
مزید کم خرچ احتیاطی تدابیر یہ ہیں:
گھر میں صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھیے اور اگر کیاریوں یا گملوں میں پودے لگا رکھے ہوں تو ان پر باقاعدگی سے کیڑے مار دواؤں کا (خاص کر مچھر مار دواؤں کا) اسپرے کرتے رہیے۔
گھر میں اور گھر کے آس پاس پانی کھڑا ہونے نہ دیجئے۔ واضح رہے کہ گندے اور بدبودار پانی کے علاوہ اگر صاف پانی بھی زیادہ دیر تک کسی کھلی جگہ پر کھڑا رہے تو اس میں بھی ڈینگی پھیلانے والے یعنی ایڈیز مچھر پیدا ہو سکتے ہیں۔
چونکہ ایڈیز مچھر صاف پانی میں نشوونما پاتا ہے، اس لئے گھر میں رکھی گئی پانی کی ٹنکیوں اور پانی رکھنے والے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھیے اور اگر ممکن ہو تو انہیں صبح و شام صاف بھی کرتے رہیے۔
یہی معاملہ مسہریوں، چارپائیوں اور گھروں میں بنے ہوئے اسٹور رومز کا بھی ہے جہاں کاٹھ کباڑ اور پرانا سامان رکھا رہتا ہے۔ گھر میں ایسے مقامات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو زیادہ وقت تاریکی اور نمی میں رہتے ہوں کیونکہ یہاں مچھروں کے ساتھ ساتھ لال بیگ اور دوسرے کیڑے مکوڑے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ وقفے وقفے سے ان جگہوں سے سامان نکال کر اچھی طرح صفائی کی جائے اور کیڑے مار دواؤں کا اسپرے کردیا جائے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ ان مقامات پر سیلن پیدا نہ ہونے پائے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ فلیٹوں کی گیلریوں میں گملے اور چڑیوں کے لئے پانی کے پیالے رکھ دیئے جاتے ہیں جن میں پانی جمع رہتا ہے۔ بہتر ہے کہ پیالوں میں روزانہ پانی تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ گملوں پر کیڑے مار دوائیں پابندی سے چھڑکی جائیں۔
پانی ابال کر یا فلٹر کرکے استعمال کرنا ہر موسم میں اچھی صحت کے لئے ضروری ہے۔
اگر ممکن ہو تو گلی محلے کے بچوں کو ذمہ داری دیجئے کہ وہ کھیل کے دوران آس پاس کے علاقے میں (خاص طور پر تنگ گلیوں میں) کھڑے ہوئے پانی اور گندگی کے بارے میں اپنے گھر کے بڑوں کو فوری طور پر بتائیں تاکہ ان جگہوں کو جلد از جلد صاف کیا جائے اور وہاں مچھر، مکھیاں وغیرہ پیدا نہ ہونے پائیں۔ چند سال پہلے جب ڈینگی کے خلاف مہم کے دوران کراچی کے بعض علاقوں میں بچوں کو اس انداز سے شریک کیا گیا تو زبردست نتائج سامنے آئے۔
کیڑے مکوڑوں کو بھگانے والی معیاری دوائیں جسم کے کھلے حصوں پر لگائیے لیکن اگر کسی دوا سے الرجی کا خطرہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے مختلف دوا استعمال کیجئے۔
کوشش کیجئے کہ لمبا، ڈھیلا ڈھالا اور ہلکے رنگ والا لباس پہنیں کیونکہ ایسا لباس آپ کے پورے جسم کو ڈھک کر رکھتا ہے اور کیڑے مکوڑوں سے بچانے میں بھی بہت مددگار رہتا ہے۔
مچھروں سے بچاؤ کے لئے مچھر بھگانے والا کوائل اور میٹ وغیرہ استعمال کیجئے اور اگر علاقے میں بہت زیادہ مچھر ہوں تو اضافی طور پر مچھر دانی لگا کر سوئیے۔

loading...

ڈینگی کا مریض کیا کرے؟

ڈینگی کے مریض کو چاہئے کہ روزانہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں پانی استعمال کرے اور کوشش کرے کہ سوپ یا مشروبات کی شکل میں اپنی غذائی ضروریات پوری کرے۔
ڈینگی کی صورت میں آرام کرنا زیادہ بہتر رہتا ہے کیونکہ اس سے جسم کا قدرتی دفاعی نظام (امیون سسٹم) بہتر کام کرتا ہے جس سے بیماری کی شدت قابو میں رہتی ہے۔
واضح رہے کہ اب تک ڈینگی کی کوئی دوا یا ویکسین دستیاب نہیں اس لیے اگر کوئی مہنگی دوا یہ کہہ کر فروخت کی جا رہی ہو کہ اس سے ڈینگی کا مکمل علاج ہو جاتا ہے تو ایسے کسی دعوے کا یقین نہ کیجیے۔ درد اور بخار ختم کرنے والی عام اور کم خرچ دوائیں (مثلاً ڈسپرین، پیناڈول، پیراسیٹامول وغیرہ) ڈینگی کے دوران بخار کی شدت کم کرنے میں مناسب رہتی ہیں البتہ مناسب ہو گا کہ انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کیا جائے۔
پچھلے چند سال کے دوران تواتر سے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ڈینگی کے مریضوں کو پپیتے کے پتوں کا رس پلانے سے فائدہ پہنچا ہے۔ اگرچہ اب تک اس بارے میں کوئی سنجیدہ طبی تحقیق تو نہیں کی گئی ہے لیکن سابقہ تجربات کی روشنی میں اس کے استعمال میں کوئی حرج بھی نہیں کیونکہ اگر یہ مفید نہ بھی ہوں تب بھی ان سے کوئی نقصان بھی نہیں۔
جو کچھ بھی اوپر لکھا گیا، اس میں سے کچھ بھی نیا نہیں بلکہ یہ معلومات بار بار عوام کی نظروں سے گزرتی رہتی ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ صرف حکومتیں ہی نہیں بلکہ عوام بھی صرف اسی وقت احتیاطی تدابیر اور دوسرے عملی کاموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جب بیماری سے پیدا ہونے والا بحران شدید ہوجائے؛ حالانکہ پورے سال کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے، آسان اور کم خرچ عوامی اقدامات سے ایک بڑے حادثے کو ٹالا جاسکتا ہے۔
تمام ضروری معلومات آپ کے سامنے ہیں؛ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ ان مشوروں پر عمل کرتے ہیں یا پھر پرانی روِش پر ہی قائم رہتے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں