فیس بک کی جانب سے اپنے صارفین کا نجی ڈیٹا امریکہ منتقل پر آئرش ہائی کورٹ میں سماعت

فیس بک

.ڈبلن : فیس بک کی جانب سے دنیا بھر سے جتنا بھی ڈیٹا جمع ہوتا ہے وہ امریکہ بھجوایا جاتا

کمپنی کو اس اقدام سے روکنے کیلئے آئرلینڈ میں ایک مقدمہ زیر سماعت تھا، آئرش ہائی کورٹ نے اسی مہینے یہ مقدمہ یورپی عدالت انصاف کو بھیجنے کی سفارش کی تھی، جس کے بعد فیس بک انتظامیہ حرکت میں آگئی اور کیس کی یورپی عدالت انصاف میں منتقلی رکوانے کیلئے سرگرم ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اس کوشش میں ہے کہ اس کے لاتعداد صارفین کے نجی کوائف کی امریکا منتقلی سے متعلق آئرلینڈ میں دائر کیے گئے ایک مقدمے کو کسی بھی طرح یورپ کی اعلیٰ ترین عدالت میں پہنچنے سے روک دیا جائے۔

فیس بک کے ایک وکیل نے تصدیق کی ہے کہ فیس بک کی انتظامیہ اپنے خلاف آئرش پرائیویسی کیس کو یورپی عدالت انصاف تک پہنچنے سے رکوانے کے لیے حرکت میں آ گئی ہے۔فیس بک اپنے خلاف ان ممکنہ عدالتی اقدامات سے بچنا چاہتی ہے، جن کے تحت اس کے لیے ان قانونی شقوں کا استعمال غالبا ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے جن کی بنیاد پر یہ کمپنی اپنے صارفین کا نجی ڈیٹا ابھی تک امریکا منتقل کر دیتی ہے۔فیس بک کے قانونی مشیر پال گالاہر نے ڈبلن میں آئرش ہائی کورٹ کو بتایا کہ یہ امریکی کمپنی ایک حکم امتناعی کے ذریعے آئرش ہائی کورٹ کو اس امر سے روکنا چاہتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک مقدمہ سماعت کے لیے یورپی عدالت انصاف کو بھیج دے۔

پال گالاہر کے بقول ایسا اس لیے ضروری ہے کہ اس مقدمے کو یورپ کی اعلیٰ ترین عدالت میں بھیج دینے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ آئرش ہائی کورٹ کے بجائے آئرش سپریم کورٹ کو کرنا چاہیے اور آئرش سپریم کورٹ کو اس حوالے سے اپیل کی سماعت کے لیے وقت درکار ہو گا۔واضح رہے کہ فیس بک کی جانب سے اپنے صارفین کا نجی ڈیٹا امریکہ منتقل کیا جاتا ہے، فیس بک کو اس اقدام سے روکنے کیلئے آئرش ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ زیر سماعت تھا۔ رواں ماہ آئرش ہائی کورٹ نے معاملہ یورپی عدالتِ انصاف کو بھیجنے کی سفارش کی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مقدمہ یورپی عدالت انصاف میں گیا اور فیصلہ فیس بک کے خلاف آگیا تو اسے نہ صرف بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے بلکہ پہلے سے مسائل میں گھری کمپنی کو مارکیٹ میں ایک بڑے حصے سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں