بزرگ افراد کا عالمی دن: بڑھاپے میں صحت مند کیسے رہ سکتے ہیں

افراد

آج یکم اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بزرگ افراد کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔

امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایجنگ کے مطابق دنیا کی 10.8 فیصد آبادی بزرگوں پر مشتمل ہے۔ اس دن کو منانے کی باقاعدہ منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14 دسمبر 1990 کو دی۔ اس دن کو منانے کا مقصد بزرگ افراد کی ضروریات، ان کے مسائل اور تکالیف کے بارے میں معاشرے کو آگاہی فراہم کرنا اور لوگوں کی توجہ بزرگ  افراد کے حقوق کی طرف  دلوانا ہے۔

ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق صرف ایشیاء  میں معمر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایشیاء میں اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ تقریباً 2 کروڑ معمر افراد موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں معمر افراد کی موجودگی کے باعث مختلف ایشیائی ممالک اپنے صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ معمر افراد کی دیکھ بھال  پر خرچ کر رہے ہیں۔

افراد

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھاپے میں لاحق ہونے والی مختلف بیماریوں جیسے ڈیمنشیا، الزائمر، اور دیگر جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اوائل عمری سے ہی صحت کا خیال رکھا جائے اور صحت مند غذائی عادات اپنائی جائیں۔

بچپن سے متحرک طرز زندگی گزارنا بڑھاپے میں جوڑوں کے درد اور مختلف قسم کی تکالیف سے نجات دے سکتا ہے۔

اسی طرح ریٹائرمنٹ کے بعد  اپنے آپ کو مصروف رکھا جائے تو ذہنی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کم محنت والی کوئی جز وقتی ملازمت، کوئی زبان سیکھنے کا کورس، کوئی مشغلہ جیسے باغبانی اپنانا، یا رضا کارانہ طور پر کمیونٹی خدمات انجام دینا بڑھاپے کی روایتی بیماریوں سے کسی حد تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جب لوگ اپنے بارے میں یہ تصور کرلیتے ہیں کہ وہ بوڑھے ہوگئے ہیں تو وہ حقیقتاً بوڑھے ہوجاتے ہیں۔

ماہرین نے اس تحقیق کے لیے بوڑھے، اور بڑھاپے میں چست رہنے والے افراد کا انتخاب کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ افراد جو بڑھاپے میں بھی چست تھے، دراصل وہ کبھی بھی یہ سوچ کر کسی کام سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے کہ زائد العمری کی وجہ سے اب وہ اسے نہیں کرسکتے۔

افراد

وہ نئے تجربات بھی کرتے تھے اور ایسے کام بھی کرتے تھے جو انہوں نے زندگی میں کبھی نہیں کیے۔ یہ ہی نہیں وہ ہمیشہ کی طرح اپنا کام خود کرتے تھے اور بوڑھا ہونے کی وجہ دے کر اپنے کاموں کی ذمہ داری دوسروں پر نہیں  ڈالتے تھے۔

ماہرین نے دیکھا کہ ایسے افراد بڑھاپے میں لاحق ہونے والی عام  بیماریوں جیسے جوڑوں میں درد، دماغی امراض اور جسمانی بوسیدگی کا شکار کم تھے۔

اس کے برعکس بوڑھے دکھنے والے افراد ہر کام سے یہی سوچ کر پیچھے ہٹ جاتے تھے کہ وہ اب بوڑھے ہوگئے ہیں اور یہ کام نہیں کرسکتے۔ وہ جسمانی طور پر کم غیر فعال تھے اور نتیجتاً  کئی  ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار تھے۔

Spread the love
  • 6
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں