کشمیر کا مقدمہ اور اقوامِ متحدہ

loading...

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیریز سے ملاقات کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا۔ ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل کشمیریوں کی خواہشات کا عکاس ہونا چاہیئے۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ بھارت سے کہا جائے کہ وہ مہم جوئی سے باز رہے۔

قبل ازیں غیر ملکی میڈیا کے ساتھ انٹرویو میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہشمند مگر دوسری جانب بھارت مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کر رہا ہے۔

پاک بھارت مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں لیکن ہندوستان مذاکرات سے بھاگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال کر رہا ہے۔ وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں فروغ چاہتے ہیں۔

فلاحی اور انسانی ترقی ہماری حکومت کی ترجیح ہے۔ پاکستانی سیاسی قیادت کا نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اتفاق ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سابقہ پاکستانی حکومتیں طالبان کی حامی نہیں بلکہ ملکی مفاد کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ طالبان کو کس نے تربیت دی تھی۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ حالات کے ساتھ دوست بھی بدل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقت کے طور پر امریکہ خصوصی حیثیت چاہتا ہے، پاکستان بھی امریکہ کے ساتھ دوستی چاہتا ہے لیکن استثنائی بنیادوں پر نہیں برابری کی بنیاد پر۔

اصولی طور پر نیویارک میں پاکستان بھارت وزرائے خارجہ میں باضابطہ ملاقات ہونا تھی جو وزیراعظم عمران خان کی دو طرفہ مذاکرات کی بحالی کی تجویز پر خود بھارت کی جانب سے طے کی گئی اور اس ملاقات کا ایجنڈہ بھی طے کر لیا گیا۔ اگر یہ ملاقات ہو جاتی تو اس کی بنیاد پر پاکستان بھارت تنازعات بشمول کشمیر اور پانی کے تنازعات پر باضابطہ طور پر دوطرفہ مذاکرات کا راستہ نکل آتا مگر پاکستان کے ساتھ اپنے ہی پیدا کیے گئے تنازعات کے تصفیے کے لیے بھی بھارت کسی قسم کے مذاکرات کا روادار نہیں اور مذاکرات کی ہر میز کو حیلے بہانے سے الٹانا اس کی شروع دن کی بدنیتی ہے کیونکہ مذاکرات کی میز پر اسے کشمیر پر اپنی ہٹ دھرمی بہر صورت ترک کرنا پڑے گی اور پانی کے تنازعات کے حل کے لیے بھی کسی نہ کسی فارمولے پر متفق ہونا پڑے گا۔

مزید پڑھیں۔  پیپلز پارٹی کو ضیاء الحق اور مشرف نہ تو ڑ سکا بلکہ انکے اپنے گل چھروں نے تباہ کیا ،شاہ محمود قریشی

بھارت اس سے بچنے کے لیے ہی کسی بھی سطح کے مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھنے دیتا اور کسی نہ کسی حیلے بہانے سے مذاکرات سبوتاژ کرکے پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھا لیتا ہے۔ وہ در حقیقت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی بدنیتی رکھتا ہے اس لیے تشکیل پاکستان کے وقت ہی سے اس نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی بنیاد رکھ دی اور کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا۔

اس کی اس بدنیتی سے ہی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنا ہی اس کا اصل ایجنڈہ ہے جس کے لیے اسے ریاست جموں و کشمیر بہترین ہتھیار نظر آئی چنانچہ اس نے کشمیر کے اس غالب حصے پر اپنا فوجی تسلط قائم کر لیا جہاں سے آنے والے دریاؤں سے پاکستان کی زرعی معیشت پھل پھول سکتی تھی۔

اس بدنیتی کے تحت بھارت پاکستان کو بھوکا پیاسا مار کر اور اسے ریگستان میں تبدیل کرکے کمزور کرنا چاہتا تھا۔ ایک اور تماشہ یہ کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل کے لیے ہمیں دوبارہ اقوام متحدہ یا کسی بھی دوسرے عالمی اور علاقائی فورم پر جانے سے بھی روک دیا اور پھر اس نے کبھی دو طرفہ مذاکرات کی بھی نوبت نہیں آنے دی جس سے بھارتی مکاری اور چالبازی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نہ صرف یو این قراردادوں پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آنے دی بلکہ وہ کشمیر کا ذکر شروع ہونے پر علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کو بھی سبوتاژ کرنے کے در پے ہو گیا۔

یہ تنظیم 80 کی دہائی میں ابتدائی طور پر اس خطے کے چھ ممالک نے باہمی اتفاق رائے سے قائم کی تھی جس کا مقصد خطے کی خوشحالی و ترقی کے لیے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا تھا۔ یہ خواب علاقائی امن و آشتی کی فضا قائم ہونے سے ہی شرمندہ تعبیر ہو سکتا تھا جس کے لیے پاکستان اور بھارت کا باہم شیروشکر ہونا ضروری تھا جبکہ ایسا صرف مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل سے ہی ممکن تھا مگر بھارت نے کشمیر پر اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھنے کی خاطر نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کو سبوتاژ کیا بلکہ وہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات سے بھی بدکنے لگا اور پھر اس نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھا کر علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کو بھی غیرمؤثر بنا دیا۔

مزید پڑھیں۔  پراپیگنڈہ سیاست: جمہوریت کے خلاف سازش

پاکستان میں 25 جولائی کے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف بھارتی وزیراعظم کو خیر سگالی کا پیغام بھجوا کر مسئلہ کشمیر سمیت تمام دو طرفہ مسائل کا باہمی مذاکرات کے ذریعہ حل نکالنے کی خواہش کا اظہار کیا بلکہ باہمی تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے بھارت کی غیر مؤثر کی گئی سارک تنظیم کو بھی فعال بنانے کا عندیہ دے دیا جس کے لیے گزشتہ سال کی ملتوی شدہ سارک سربراہ کانفرنس کے اسلام آباد میں انعقاد کا بھی اعلان کر دیا گیا۔

اس حوالے سے خطے کے عوام میں بھی امید کی نئی کرن پیدا ہوئی مگر پھر یکا یک بھارت کی کہہ مکرنی والی عادت غالب آ گئی اور مودی سرکار کی جانب سے مضحکہ خیز انداز میں وزرائے خارجہ کی ملاقات منسوخ کر دی گئی اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان پر الزام تراشیوں اور اس کی سالمیت کے خلاف پروپیگنڈہ کا سلسلہ شروع کرکے کشیدگی بھی بڑھا دی گئی۔

گزشتہ تین سال کے دوران بھارتی فوجیں جس وحشیانہ انداز میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو سبوتاژ کرنے کے لیے انہیں گولیوں سے بھون رہی ہیں، نتیجتاً اب تک ہزاروں کشمیری عوام بالخصوص نوجوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں جس کے ایک ایک لمحہ کی دنیا کو خبر ہے اور اسی بنیاد پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے چکی ہے۔

کشمیریوں کی آزادی کی منزل مزید قریب آ رہی ہے۔ ہمارے لیے بہرصورت یہی بہترین حکمت عملی ہے کہ بھارت کی مکاریوں اور سازشوں کو ہر علاقائی اور عالمی فورم پر بے نقاب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور کشمیر پر اپنے دیرینہ اصولی مؤقف پر کسی قسم کی کمزوری پیدا نہ ہونے دی جائے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں