حکومت کی 100 روزہ کارکردگی اور درپیش مشکلات

حکومت کی 100 روزہ کارکردگی
loading...

وزیراعظم عمران خان نے حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں کرپشن کے خاتمہ، منی لانڈرنگ کی روک تھام، ٹیکس ریفارمز، سیاحت کیلئے اصلاحات اور تعلیم، صحت بارے اقدامات پر اعلانات کا اعادہ اس طرح کیا جیسا کہ انہوں نے اپنی حکومت کے قیام کے بعد ان ایشوز کو اجاگر کرتے ہوئے اس پر موثر عمل درآمد کا عزم ظاہر کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو حکومت میں آ کر پتہ چلا کہ مسائل کی سنگینی کیا ہے۔ معیشت کس حال میں ہے۔ خزانہ کتنا خالی ہے اور نئی حکومت کیلئے اور کون سے چیلنجز ہیں ۔ایک منتخب حکومت کی سب سے اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ برسر اقتدار آنے کے بعد کم از کم عوامی ریلیف کیلئے ایسا کوئی اعلان اور اقدام کرے جس سے حقیقی طور پر حکومتی تبدیلی کا احساس ہو، مگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ عوام کیلئے ریلیف کی بجائے تکلیف بڑھی ہے۔خصوصاً مہنگائی کے رجحان اور طوفان نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے حکمرانوں کے لہجوں اور بیانات میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔

حکومت ایک جانب عوام کیلئے ہر حوالے سے بوجھ بڑھا رہی ہے اور ہر گزرتا دن ایک قومی و اجتماعی قربانی کا درس دیا جاتا ہے اور دوسری طرف مسائل کی سنگین تصویر بھی دکھائی جاتی ہے۔ مگر مسائل کے حل کی ٹھوس پیشرفت کہیں دور دور تک دکھائی نہیں پڑتی۔ دراصل عزائم اور گومگو کی کیفیت ہے جو فیصلہ سازی کے میدان میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔سو روزہ ایجنڈے کے اختتام کے بعد توقع تھی کہ حکومت جو اقدامات اب تک نہ اٹھا سکی کم از کم ان پر ٹھوس پیشرفت کی جانب قدم بڑھائے گی،مگر وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا اصل حاصل مزید وعدے اور امیدیں تھیں۔ اس حکومت کا اصل مسئلہ مسائل اور معاملات کی تقسیم اور پورا پورا تخمینہ نہ لگانا ہے اور دوسری جانب ہر سطح پر قول و فعل کا تضاد بھی منزل کی راہ میں رکاوٹ دکھائی دیتا ہے۔

وزیر اعظم کی تقریر میں کرپشن اور منی لانڈرنگ پر ہوشربا انکشافات تو سننے کو ملے مگر پالیسی کا بیان یا لائحہ عمل بالکل غائب رہا۔ ان سو دنوں کے خاتمے پر حکومت کی جانب سے ملک میں غربت کے خاتمے کے ایک وسیع اور ہمہ گیر پلان کی بازگشت تھی جو بظاہر زبانی جمع خرچ پر ختم ہوئی۔وزیراعظم نے یہ تو کہا کہ میری پالیسیاں غریب آدمی کو اوپر اٹھانے کیلئے ہیں مگر 100دن کی حکمرانی کے بعد بھی ان کیلئے قرضے، آسان شرائط، مارکیٹ اور منڈی کا نظام، ان کیلئے سستی کھاد، ادویات، اور اس طرح کی دیگر ضروریات کا عملی پلان نظر نہیں آیا۔

تحریک انصاف اور عمران خان نے انتخابات جیتنے سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ پہلے 100 دنوں میں ملک میں ماضی کے مقابلے میں بڑی تبدیلی لا کر دکھائیں گے۔ اس کیلئے حکومت میں آ کر پہلے100 دنوں کا منشور بھی پیش کیا کہ ہم کیسے غریب آدمی کی زندگی میں تبدیلی لائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف ٹاسک فورسز بھی قائم کیں اور خود ان کی نگرانی کا انتظام بھی سنبھالا لیکن اب اگر پہلے 100 دنوں کا جائزہ لیا جائے تو حکومتی کارکردگی پر کئی طرح کے سوالات اٹھتے ہیں۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ حکومت کی وہ کارکردگی کہاں ہے جس کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے لیکن پہلے 100 دنوں کی کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کے پاس تبدیلی کے حوالے سے کوئی خاص منصوبہ یا ہوم ورک نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں تبدیلی کے حوالے سے کافی مایوسی پائی جاتی ہے۔

اصل میں تحریک انصاف کو اس بات کا احساس کم تھا کہ جوسیاست وہ اپوزیشن میں بیٹھ کر کر رہی ہے اگر کل ان کو اقتدار ملتا ہے تو وہ کیا کرے گی۔ ان کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کو کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب جب وہ اقتدار کی سیاست کا حصہ بنے ہیں تو اندازہ ہوا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی سیاست میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ ابھی بھی حکومت میں شامل لوگ جو رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ان کو اس بات کا بھی احساس نہیں کہ اب وہ اپوزیشن میں نہیں اور انہیں مختلف سطحوں سمیت عوام کو بھی جوابدہ ہونا پڑے گا۔

اگرچہ حکومت نے سعودی عرب، چین اورملائشیا سے بعض معاملات پر ریلیف حاصل کر لیا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج معاشی صورتحال میں بہتری لانا ہے۔آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بھی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ اصل مسئلہ معاشی بحران کا ہے اور اگر عوام کو فوری طور پر بجلی ،گیس، پٹرول اور مہنگائی کے حوالے سے ریلیف نہیں ملتا تو حکومت پر عدم اعتماد بڑھ جائے گا۔ تحریک انصاف نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی کڑا احتساب کرے گی۔ اس پر اب تک بہت زیادہ شور مچایا جارہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر احتساب پر باتیں کرکے اپوزیشن کو ڈرایا جارہا ہے کہ احتساب ہو گا اور کسی کے ساتھ کوئی این آر او نہیں ہو گا۔معلوم نہیں وہ کون لوگ ہیں جو اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومت سے این آر او مانگ رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے بڑے رہنماؤں نے حکومت کو چیلنج کیا ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچی ہے تو ان ناموں کو سامنے لائے جو ان سے ڈیل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ وہ حکومت میں آتے ہی ملک کی لوٹی دولت واپس لائے گی۔ اس معاملے پر بھی بہت کچھ کرنے کی باتیں تو کی گئیں مگر عملی طور پر اس کے بھی نتائج برآمد نہیں ہوسکے۔ تحریک انصاف جو کچھ سوچ کر حکومت میں آئی تھی اس پر اس کو پہلے 100 دنوں میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کا اعتراف بعض وزرا بھی کر رہے ہیں کہ ہم نے مسائل کو سمجھنے میں غلطی کی ۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے بعد حکومت اپنی سطح پر موجود خامیوں کی کیسے اصلاح کرتی ہے اور مستقبل کے حوالے سے کیا منصوبہ بندی کرتی ہے کیونکہ ایک بات طے ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پہلے100 دنوں میں وہ کچھ نہیں کرسکی جو وہ کرنا چاہتی تھی۔ اس کی ایک وجہ حکومت میں موجود ٹھوس منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں