اسلامک کانفرنس میں ‘سور’ کے گوشت کی ڈش پیش

جرمنی کے شہر برلن میں اسلام سے متعلق کانفرنس میں سور کے گوشت سے تیار کردہ ‘سوسیج’ پیش کرنے پر تنازع کھڑا ہوگیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے اسلامک کانفرنس کے دوران کھانے میں ‘سوسیج’ رکھے جانے پر جرمنی کی وزارتِ داخلہ نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

جرمن وزارت داخلہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ‘برلن میں منعقدہ جرمن اسلام کانفرنس میں کھانے کا انتخاب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔

تاہم بیان میں لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہونے پر ان سے معافی مانگی گئی۔

کانفرنس کا انعقاد جرمنی کے وزیر داخلہ ہورسٹ سیہوفر نے کیا تھا، جنہوں نے مارچ میں کہا تھا کہ ‘اسلام کا تعلق جرمنی سے نہیں ہے۔‘

مقامی میڈیا کے مطابق کانفرنس کے شرکا کی بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی، جنہیں اسلامی قوانین کے مطابق سور کا گوشت کھانا ممنوع ہے۔

جرمنی کے صحافی ٹینسی اوژدمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہورسٹ سیہوفر کی وزارت اس واقعے سے کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ مسلمان کی تھوڑی عزت کرنے کی ضرورت ہے جو سور نہیں کھاتے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ کانفرنس کے آغاز پر وزیر داخلہ سیہوفر کا کہنا تھا کہ ‘وہ جرمن اسلام دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

تاہم ٹینسی اوژدمر نے کہا کہ وزیر داخلہ کا رویہ ایسا تھا کہ جیسے’چینی دکان میں ہاتھی‘ اور وہ جرمنی کے مسلمانوں کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں کر پائیں گے۔

اپنے ردعمل میں جرمن وزارت داخلہ نے کہا کہ کانفرنس کے دوران کھانے میں کُل 13 پکوان تھے جن میں ھلال سبزیاں، گوشت اور مچھلی شامل تھیں جبکہ بوفے میں رکھے گئے پکوانوں کے بارے میں واضح الفاظ میں لکھا گیا تھا۔

مقامی میڈیا کے ایک حصے نے رپورٹ کیا کہ 2006 میں منعقدہ پہلی اسلامک کانفرنس میں بھی کھانے میں سور کا گوشت رکھا گیا تھا۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں