‘اسپرین’ کینسر کے علاج میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے، ماہرین

'اسپرین' کینسر کے علاج میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے، ماہرین

لندن: سائنس دانوں کے ایک گروپ کے مطابق بعض اقسام کے کینسر کے علاج میں اسپرین کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

برطانیہ میں کارڈف یونیورسٹی (Cardiff University) میں واقع کوکرین انسٹی ٹیوٹ آف پرائمری کیئر اینڈ ہیلتھ (Cooker Institute of Primary Care and Health) سے وابستہ پیٹر ایل وُڈ نے اس ضمن میں 71 تحقیقی جائزوں (Research Surveys ریسرچ سرویز) اور مطالعات کا بغور تجزیہ کیا ہے اور اس کے نتائج پبلک لائبریری آف سائنس ون کی ویب سائٹ پر شائع کرائے ہیں۔

ایل وُڈ کے مطابق اسپرین کی کم خوراک دل، فالج اور کینسر کی بیماریوں میں مؤثر ثابت ہوچکی ہے اور اب اس بات کے مزید ثبوت ملے ہیں کہ اسپرین کئی اقسام کے کینسر کو روکنے یا انہیں دور رکھنے میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے قبل ممتاز طبی جریدے لینسٹ میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ادھیڑ عمری میں کینسر کے شکار ہونے والے افراد میں اسپرین فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

loading...

گزشتہ برس چوہوں پر تجربات کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ کینسر کے مروجہ معالجے کے ساتھ ساتھ اگر اسپرین بھی استعمال کی جائے تو اس سے علاج کی اثر پذیری اور رفتار، دونوں بڑھ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر پیٹر اور ان ساتھیوں نے 120,000 ایسے مریضوں کا ڈیٹا کھنگالا جو کینسر کا علاج کروا رہے تھے اور ساتھ میں اسپرین بھی کھارہے تھے۔ پھر اس ڈیٹا کا موازنہ چار لاکھ ایسے مریضوں سے کیا گیا جو اسپرین نہیں لے رہے تھے۔

اس سلسلے میں بڑی آنت کے کینسر، بریسٹ کینسر اور پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی رپورٹس دیکھی گئیں۔ ماہرین یہ جان کر حیران رہ گئے کہ سرطان کے جن مریضوں نےعلاج کے ساتھ ساتھ اسپرین کھائی تھی، ان میں بقیہ مریضوں کے مقابلے میں زندہ بچ جانے کی شرح 20 سے 30 فیصد زیادہ تھی۔ بہ الفاظ دیگر، اسپرین سے ان کی زندگی کا دورانیہ بڑھ گیا تھا۔ تاہم ماہرین نے اس ضمن میں مزید آزمائش اور تحقیق پر بھی زور دیا ہے۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں