پشاور کی ننھی پریسا علاج کی منتظر

پریسا کا علاج
loading...

پشاور میں پیدائشی طور پر گونگی اور بہری معصوم بچی علاج کے لیے مسیحا کی منتظر ہے۔ متاثرہ بچی کی والدہ نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ گزشتہ دورِ حکومت میں شروع ہونے والے علاج کو جاری رکھا جائے تاکہ ان کی بچی معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہوسکے۔

پشاور کی 3 سالہ بچی پریسا پیدائشی طور پر سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محرو م ہے۔ پریسا کے والدین نے اپنے طور پر بچی کا علا ج کروا کر قوت سماعت اور گویائی بحال کرنے کی بھر پور کوشش کی۔

علاج مزید جاری رکھنے کے لیے 15 لاکھ روپے کی خطیر رقم جمع کرنا پریسا کے والدین کے لیے ناممکن تھا۔ متاثرہ بچی کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے سابقہ دور حکومت کے وزیراعظم میاں نواز شریف تک پہنچی تو بچی کا علاج معالجہ شروع کروا دیا گیا لیکن موجودہ دور حکومت میں بچی کے علاج کا سلسلہ رک گیا ہے۔

پریسا کے والد کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں بچی کے علا ج کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔ علاج پر 15 لاکھ روپے خرچ آتا ہے جو میں برداشت نہیں کرسکتا، میری عمرا ن خان سے اپیل ہے کہ وہ پریسا کا علاج جاری رکھنے کی ہدایت دیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میری بچی کا آپریشن ہوجائے گا اور اسے مشین لگ جائے تو یہ سن بھی سکے گی اور بول بھی سکے گی۔

دوسری جانب بچی کی ماں نے بھی وزیراعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ میری بچی کا آپریشن ہو جائے اور میری بچی بول اور سُن سکے تو معمول کی زندگی گزار سکتی ہے۔

Spread the love
  • 8
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں