سول ملٹری یگانگت کا گمشدہ باب

سول ملٹری تعلقات

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم نیک نیتی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور فوج اور عدلیہ حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھینسیں بیچنے کا مقصد مالی فائدہ نہیں، وزیراعظم ہاؤس کا ماہانہ خرچہ ایک ارب سے کم ہو کر چند لاکھ رہ گیا ہے۔

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ادارے اور کابینہ ایک دوسرے کے ساتھ نہ ہوں تو معاملات میں بہتری مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحیثیت قوم ہم نے کرپشن کو تسلیم کر لیا تھا لیکن ہم تبدیلی کے مراحل طے کر کے یہاں تک پہنچے ہیں اور عمران خان کی ذات خود تبدیلی کا بہت بڑا استعارہ ہے۔

سابقہ ادوار حکومت میں شاید ہمارا یہی المیہ رہا ہے کہ ملک کی سلامتی اور داخلی و دفاعی معاملات پر ملک کی سول اور عسکری قیادتیں ایک صفحے پر نظر نہیں آتی تھیں۔ نتیجتاً سول حکومتوں کے لیے صبح گیا یا شام گیا والی کیفیت بنی رہتی اور جب خراب گورننس کا سوال اٹھتا تو سول حکمرانوں کی جانب سے یہی جواز پیش کیا جاتا کہ ہمیں تو کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

جب سول اور عسکری قیادتوں میں تناؤ اور کشیدگی کا تاثر اجاگر ہوتا تو اس سے جہاں ملک میں موجود دہشت گردوں اور ملک سے باہر انکے سرپرستوں اور سہولت کاروں کو ریاستی اداروں میں در آنیوالی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا بھرپور موقع ملتا وہیں ملک کی سلامتی کے درپے ہمارے دشمن کی باچھیں بھی کھل جاتیں اور اسکی ایجنسی راء کو ملک کے اندر اپنے سازشی نیٹ ورک کا جال پھیلانے کا مزید موقع حاصل ہوجاتا۔ اگر سابقہ ادوار میں حکومتی ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے فرائض منصبی سرانجام دے رہے ہوتے تو ادارہ جاتی مداخلت کے تصور سے ملک میں سیاسی فضا مکدر ہوتی نہ ہمارے دشمن کو ہماری کسی اندرونی کمزوری کی جھلک تک دیکھنے کو ملتی۔

بدقسمتی سے گزشتہ دور حکومت تک اختیارات کی کشمکش کا تماشا لگا رہا جس کے باعث منتخب جمہوری نظام بھی خطرات میں گھرا نظر آتا رہا اور ماورائے آئین اقدام کی طالع آزمائی کا راستہ ہموار کرنے کے لیے غیرجمہوری عناصر بھی اچھل کود کرتے نظر آتے رہے۔

مزید پڑھیں۔  شاہ سلمان سے صدر ٹرمپ کا اظہارِ محبت

اسی فضا میں 25 جولائی 2018ء کو ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا اور قوم نے پاکستان تحریک انصاف اور اسکے قائد عمران خان کو حکمرانی کا مینڈیٹ دیا جنہوں نے اپنے اقتدار کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ کے دوران ہی کرشماتی ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ایسی فضاء استوار کردی کہ اب ملک کی سیاست میں ریاستی اداروں کے مابین اختیارات کی کشمکش کا شائبہ تک نظر نہیں آتا۔

وزیراعظم عمران خان اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک خود چار بار جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کرچکے ہیں جہاں عسکری قیادتوں کی جانب سے انہیں ملک کی سلامتی اور دہشتگردی کی جنگ سے متعلق معاملات پر بریف کیا جاتا رہا جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی متعدد مواقع پر وزیراعظم ہاؤس میں آکر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرچکے ہیں۔

loading...

اسی طرح پاک فضائیہ کے سربراہ اور نیول چیف سمیت دوسری عسکری قیادتوں کا بھی وزیراعظم سمیت تمام متعلقہ سول حکام کے ساتھ ربط و ضبط قائم رہتا ہے۔ اس طرح ملک کی سول اور عسکری قیادتیں جہاں دفاع وطن اور دہشت گردی کی جنگ کے تقاضے نبھانے کے معاملے میں پُرعزم اور ایک دوسرے کے ہم آہنگ ہیں وہیں ادارہ جاتی ڈسپلن اور اپنے اپنے اختیارات کے آئینی تقاضے بھی بحسن و خوبی نبھائے جارہے ہیں چنانچہ سابقہ ادوار میں خطرات میں گھری نظر آتی ہوئی سلطانی جمہور اب استحکام کی منزل کی جانب سرعت کے ساتھ دوڑتی نظر آرہی ہے۔

ہماری جغرافیائی سرحدوں پر تو بھارت نے ہمہ وقت خطرات پیدا کر رکھے ہیں جو کنٹرول لائن پر اپنی فوجوں کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر اشتعال انگیز کارروائیاں کرکے ہمیں جنگ کا ایندھن بنانے کی سازشوں کے تانے بانے بنتا رہتا ہے۔ اسی تناظر میں اسے دیرینہ باہمی تنازعات کے حل کے لیے دوطرفہ مذاکرات گوارا نہیں اور وہ ہر سطح کے مذاکرات کی میز الٹانے میں ذرہ بھر دیر نہیں لگاتا جبکہ اس کا سازشی ذہن پاکستان کے دوست ممالک بشمول چین سعودی عرب ایران کے ساتھ اسکے تعلقات بگاڑنے کی منصوبہ بندیوں میں بھی ہمہ وقت مصروف عمل رہتا ہے۔ چنانچہ دشمن کی سازشوں کے مقابلے اور انہیں ناکام بنانے کے لیے ملک کی سیاسی جمہوری اور عسکری قیادتوں کے مابین مثالی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں۔  سُپریم کورٹ اور صدارتی نظام

ہمیں اقتصادی استحکام کے لیے بہرصورت پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کو مکمل کرکے آپریشنل کرنا ہے جس کے بعد بیرون ملک تمام منڈیوں کے ساتھ ہمارا رابطہ استوار ہو جائے گا۔ اس لیے ہمیں سی پیک کے خلاف کسی سازش کو پنپنے نہیں دینا چاہیئے۔ اس کے خلاف ہونیوالے امریکہ اور بھارت گٹھ جوڑ کو ہم اپنی صفوں میں مثالی اتحاد قائم کرکے ہی ناکام بنا سکتے ہیں۔

ہماری سول اور عسکری قیادتوں کو آج یقیناً ان تمام سازشوں اور امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کے پس پردہ مقاصد و محرکات کا مکمل ادراک ہوچکا ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ آج ملک کی سول اور عسکری قیادتیں دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کے لیے بھی مکمل یکجہت اور یکسو ہیں اور ملک کی اقتصادی ترقی کے ضامن منصوبوں کے تحفظ کے لیے بھی سول اور عسکری قیادتوں میں اتحاد و یکجہتی کی فضا مستحکم ہوچکی ہے۔

اقوام متحدہ کے دورے پر گئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سرگرمی سے خطے میں امن کا مقدمہ پیش کررہے ہیں۔ الجزیرہ کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے جنگ آپشن نہیں ہے۔

انہی خیالات کا اظہار پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کرتے رہے ہیں۔ عمران خان نے 25 جولائی کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد جو بیان دیا تھا اس میں بھی اسی خواہش کا اظہار موجود تھا محنت سے تیار کی گئی سیاسی بساط پر چلی جانے والی کامیاب چالوں کی وجہ سے بالآخر ملک کو ایسی حکومت میسر آچکی ہے جوعسکری قیادت کی سوچ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کی دعویدار ہے اور اسی کے ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھنا چاہتی ہے کیونکہ عمران خان کے نزدیک یہی ایجنڈا کامیابی سے وزارت عظمیٰ کی مدت پوری کرنے کا راستہ ہے اور اسی طرح وہ کسی بڑے سیاسی بحران سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں