کیا آپ حقوق اور مراعات کے فرق سے واقف ہیں؟

انسانی حقوق

(ڈاکٹر خالد سہیل)

میں اس کالم کا آغاز اس اعتراف سے کرنا چاہتا ہوں کہ ایک طویل عرصے تک میں خود حقوق اور مراعات کے فرق سے ناواقف تھا لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جو میرے لیے لمحہِ فکریہ بن گیا۔

یہ 1980ء کا واقعہ ہے۔ جنوبی افریقہ میں سفید فام برسرِاقتدار تھے اور سیاہ فام مصائب و مظالم کا شکار تھے۔ نیلسن منڈیلا جیل میں تھے۔ میں اپنے جنوبی افریقہ کے بھارتی رفیقِ کار ڈاکٹر شبیر جیوا کے ساتھ اپنے دوست اشوک مالا سے ملنے گیا جن کی انگریز بیوی سوزن ایک سوشل ورکر تھیں۔

سوزن کو جب پتہ چلا کہ ڈاکٹر شبیر جیوا کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے اور وہ ایک بھارتی خاندان کے چشم و چراغ ہیں تو انہوں نے پوچھا:

جنوبی افریقہ میں بھارتیوں کا کیا حال ہے؟

شبیر جیوا نے کہا ہمیں بھی گوروں جیسی مراعات حاصل نہیں ہیں۔

سوزن نے کہا گوروں نے تمہیں برین واش کر دیا ہے۔

شبیر جیوا نے حیرانگی سے پوچھا وہ کیسے؟

سوزن نے جواب دیا اب تم حقوق کو بھی مراعات کہنے لگے ہو۔ الیکشن میں ووٹ دینا۔ مفت تعلیم حاصل کرنا۔ وقت پر علاج کروانا۔ عزتِ نفس سے زندگی گزارنا۔ یہ سب تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق ہیں مراعات نہیں ہیں۔

سوزن سے ملاقات کے بعد مجھے بھی احساس ہوا کہ میں خود برسوں سے حقوق کو مراعات سمجھتا آ رہا تھا۔

جب میرا جنوبی افریقہ جانا ہوا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ساحل سمندر پر مختلف جگہوں پر لکھا تھا صرف سفید فام لوگوں کے لیے۔

ان بیچز پر کسی کالے یا بھورے شخص کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس بات سے بھی زیادہ حیرانی اس بات پر ہوئی کہ جب سیاہ فام باکسر محمد علی جنوبی افریقہ گئے تو جنوبی افریقہ کی حکومت نے انہیں honorary white کا سرٹیفیکیٹ دیا تا کہ وہ ان تمام جگہوں پر جا سکیں جہاں صرف سفید فام جا سکتے ہیں۔

ان واقعات کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ جب کوئی انسان کسی چیز کو اپنا حق سمجھتا ہے تو وہ اسے حق سے مانگتا ہے اور اگر آسانی سے نہ ملے تو پھر زبردستی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

بیسویں صدی مراعات سے حقوق کے سفر کی صدی تھی۔

سب سے پہلے کسانوں اور مزدوروں نے اپنے حقوق مانگے۔ اس جدوجہد میں کارل مارکس کی تعلیمات اور ولادمیر لینن اور ماؤزے تنگ کی سیاسی جدوجہد نے اہم کردار کیا۔ اگر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے خوشی سے حقوق نہ دیے تو شدت تشدد اور جارحیت کے مناطر بھی دیکھنے کو ملے۔ کئی ممالک میں خونی انقلاب بھی آئے۔

مزدوروں اور کسانوں کے بعد سیاہ فام لوگوں نے اپنے معاشی سماجی اور سیاسی حقوق حاصل کیے۔ اس جدوجہد میں امریکہ کے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا اور ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اپنی خدمات اور قربانیاں پیش کیں جس کی وجہ سے ان تینوں کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔

مزدوروں، کسانوں اور سیاہ فام لوگوں کے بعد عورتوں نے اپنے حقوق حاصل کیے۔ اس جدوجہد میں امریکہ کی بے ٹی فریڈین اور یورپ کی سیمون دی بوا کی تعلیمات نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان میں کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض اور ایران کی فروغ فرح زاد جیسی شاعرات نے اس کے لیے زمین ہموار کی۔

اب گے اور لیسبین لوگوں کے حقوق کی باری ہے۔ چند ہفتے پہلے ہندوستان کے سپریم کورٹ نے ان کے حقوق کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ کینیڈا میں گے اور لیسبین لوگوں کو قانونی طور پر شادی کی اجازت مل چکی ہے۔ چند شادی شدہ جوڑوں سے میں خود مل چکا ہوں۔

پچھلے چند برسوں میں مجھے احساس ہوا کہ جن چیزوں کو دنیا کے مجبور و مظلوم و محروم اپنے حقوق سمجھتے ہیں انہین آج بھی اصحاب بست و کشاد مراعات سمجھتے ہیں اس لیے وہ مراعات دینے سے انکار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ مراعات یافتہ خاندانوں میں پلے بڑھے ہوتے ہیں۔

جب امیروں اور گوروں کے گھروں میں بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان کے لیے بڑے گھر میں رہنا، بڑی کار میں سفر کرنا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا اور بہترین علاج کروانا روزمرہ کا معمول ہوتا ہے۔ وہ ان غریب کسانوں اور مزدوروں کے بچوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے جو رات کو بھوکے سوتے ہیں تعلیم سے محروم رہتے ہیں اور ایک دن زندگی کی صعوبتیں برداشت کرتے علاج نہ پانے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔

چاہے وہ کسان ہوں، مزدور ہوں، عورتیں ہوں یا اقلیتیں انہیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ یہ حقوق کئی سطحوں پر حاصل کیے جاتے ہیں۔

قانونی سطح پر، سماجی سطح پر اور مذہبی سطح پر۔

دنیا کے مذاہب میں آج بھی عورتوں اور گے اور لیسبین لوگوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔

کیتھولک چرچ میں عورت پوپ نہیں بن سکتی۔

مسلمانوں میں عورت ڈاکٹر بن سکتی ہے، وکیل بن سکتی ہے، انجینئر بن سکتی ہے حتیٰ کہ وزیراعظم بھی بن سکتی ہے لیکن کعبے میں امامت نہیں کروا سکتی۔

عورتیں آج بھی دنیا میں دوسرے درجے کی شہری ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے چارٹر آف ہیومن رائٹس میں کئی دہائیاں پہلے انسانی حقوق کی نشاندہی کی تھی لیکن وہ حقوق آج بھی ایسے خواب ہیں جو ابھی شرمندہِ تعبیر نہیں ہوئے۔

ہم آج بھی رنگ، نسل، زبان اور مذہب کے خانوں میں بند ہیں۔ ہم ابھی تک پورے انسان نہیں بنے۔ ہم ابھی تک نہیں سمجھتے کہ ہم سب انسان ایک ہی خاندان کے افراد ہیں اور ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

Spread the love
  • 3
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں