سندھ میں جعلی بھرتیاں، نیب نے تحقیقات کا آغاز کر دیا

سپریم کورٹ, جعلی بینک اکاؤنٹس کیس, جے آئی ٹی

سندھ میں مختلف محکموں میں غیر قانونی طور بھرتی ہونے والے 19 اور 20 گریڈ میں پہنچ گئے، نیب نے جعلی بھرتیوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں۔

محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتی ہونے والے اکاؤنٹنٹ کا اے جی سندھ آفس اور گورنر ہاؤس میں تعینات ہونے کا انکشاف ہوا ہے، اکاؤنٹ افسر عمر غوری 10 سال سے ڈپٹی سیکرٹری گورنر ہاؤس کے عہدے پر تعینات ہیں۔

1996ء میں غیر قانونی طور جونیئر کلرک بھرتی ہونے والے طیب غوری اکاؤنٹس آفیسر کے عہدے پر پہنچ گئے۔

loading...

1995 ء میں میں جعلی طریقے سے محکمہ تعلیم میں جونیئر کلرک تعینات ہونے والے شفیق احمد نے 20 سال بعد ایسی ترقی کی کہ انہیں سینئر اکاؤنٹنٹ بنا دیا گیا۔

اے جی آفس سندھ میں محکمہ تعلیم کے مجموعی طور پر 69 ملازمین ضم کیے گئے۔ نیب نے سابق ڈپٹی کنٹرولر اکاؤنٹس احمد کلیمی اور دیگر کو شامل کر کے تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ دوسری جانب اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ نیب کو 30 سے زائد افسران کا ریکارڈ دینے میں ناکام رہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں