پی آئی اے آڈٹ رپورٹ: 10 برس میں 360 ارب کا خسارہ

پی آئی اے کا خسارہ
loading...

سپریم کورٹ میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز میں خسارے سے متعلق 10 سالہ آڈٹ رپورٹ جمع کرائی گئی جس کے مطابق قومی ایئر لائن کو دسمبر 2017ء میں 360 ارب روپے سے زائد کے خسارے کا سامنا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے قومی ایئرلائن کی نجکاری کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی جہاں پی آئی اے کی 10 سالہ خصوصی آڈٹ رپورٹ جمع کرائی گئی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی پی آئی اے کی گزشتہ 10 سالہ آڈٹ رپورٹ 500 صفحات پر مشتمل ہے جس میں شدید مالی نقصان اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ایوی ایشن کے معاملات سے نابلد افراد کی تعیناتی کی نشاند ہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں گذشتہ 10 سال میں ہونے والے نقصانات اور ان کی وجوہات کا بھی تعین کر دیا گیا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کو 2008ء میں 72.353 ارب روپے کا خسارہ تھا جو بڑھ کر 31 دسمبر 2017ء کو 360.117 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

آڈٹ رپورٹ میں مالی بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی آئی اے میں خسارے کی وجہ ناتجربہ کار اور پروفیشنلزم سے عاری قیادت ہے اور تقریباً تمام روٹس اور اسٹیشنز پر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں پی آئی اے کے انجینئرنگ کے شعبے کی نااہلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے باعث قومی ادارے کو 31 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں 7 نکاتی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ قومی ہوا بازی پالیسی مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ گلف اور ترکش ایئرلائن سے باہمی تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے۔

پی آئی اے کے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور کارآمد بورڈ آف ڈائریکٹرز تشکیل دینے، ایم ڈیز، سی ای اوز اور دیگر تقرریاں، تعیناتیاں اور تبادلے بھی میرٹ پر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سفارشات کے آخری نکتے میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے میں حکومت کی غیر ضروری مداخلت بھی روک دی جائے۔

سپریم کورٹ نے اس موقع پر پی آئی اے سے اس آڈٹ رپورٹ پر ایک ماہ میں جواب طلب کر لیا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جون 2018ء میں پی آئی اے کے10  سالہ آڈٹ کا حکم دیا تھا۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں