ملک بھر میں حالات کنٹرول میں، مظاہرین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں: فواد چوہدری

فواد چوہدری

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام سے بری کیے جانے کے خلاف مذہبی جماعتوں کے احتجاج اور ہڑتال کی کال کے بعد ‘آپریشن’ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں ہے اور مظاہرین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے پیغام میں کہا، ‘ملک بھر میں حالات کنٹرول میں ہیں، مظاہرین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، حکومت عوام کی زندگی اور آزادی کی ضامن ہے، مظاہرین کے خلاف آپریشن کی سوشل میڈیا پر خبریں غلط ہیں، حکومت تشدد کی راہ نہیں اپنانا چاہتی’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری آج بھی مظاہرین کی قیادت سے مذاکرات کریں گے’۔

ملک بھر میں حالات کنٹرول میں ہیں،مظاہرین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں حکومت عوام کی زندگی اور آزادی کی ضامن ہے مظاہرین کے خلاف آپریشن کی سوشل میڈیا پر خبریں غلط ہیں حکومت تشدد کی راہ نہیں اپناناچاہتی مذہبی امور نور الحق قادری آج بھی مظاہرین کی قیادت سے مذاکرات کریں گے،

اس سے قبل اپنے پیغام میں فواد چوہدری نے لکھا تھا، ‘ملک میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں ہے، ریاست کے صبر کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے، آئین اور قانون کی مکمل عملداری ہی عوام کا مفاد ہے اور ہم یہ فرض پورا کریں گے۔’

ان کا مزید کہنا تھا، ‘وزیر اعظم کو صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھا جا رہا ہے اور چین کے اہم دورے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ناکام ہوگی۔’

واضح رہے کہ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو ناکافی شواہد کی بناء پر بری کردیا تھا، جس کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج شروع ہوا، جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

گذشتہ روز وفاقی حکومت نے مذہبی جماعتوں کے مظاہرے ختم کرانے کے لیے مذاکرات کا فیصلہ کرتے ہوئے کمیٹی قائم کی تھی۔

چین روانگی سے قبل وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے معاملے کو افہام سے حل کرنے کے لیے مذاکراتی ٹیم کی منظوری دی۔

یہ کمیٹی وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری اور وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی محبوب سلطان پر مشتمل ہے۔

مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے باعث 31 اکتوبر کو ہی قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ آسیہ بی بی کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے مطابق ہے۔

انہوں نے ملک دشمن عناصر کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اپنی سیاست اور ووٹ بینک کے لیے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں اور ریاست سے مت ٹکرائیں، ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور لوگوں کی جان و مال کی وحفاظت کرے گی لہٰذا ریاست کو مجبور نہ کریں کہ وہ ایکشن لے’۔

loading...
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں