سسرالی سالیاں اور مسیتی سالے

اوّل تو میں مسجد جاتا نہیں اور اگر اپنی مصروف ترین فارغ زندگی میں سے کچھ وقت نکال کر ہفتے میں ایک بار جمعہ پڑھنے چلا ہی گیا تو مسیتی سالوں کو جوتا چھپائی کی رسم یاد آگئی۔ فرق صرف یہ تھا کہ چند سال قبل سسرالی سالیوں نے تو کچھ لے دے کر جوتا واپس کردیا تھا مگر یہ مسیتی سالے تو ایسے بے شرم اور نا ہنجار تھے کہ جوتے اٹھاکر مسجد سے ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

کچھ دیر مسجد کے خارجی دروازے پر جوتی میں وقت برباد کیا۔ جس کے بعدآگ برساتے سورج تلے، ساتھی نمازیوں کی ہمدردانہ نظروں، مخلصانہ جملوں اور تپتی تارکول زدہ سڑک پر پُھدکتے پُھدکتے گھر پہنچا۔مسئلہ صرف اِن مسیتی سالوں کا نہیں جو میری مہنگی جوتی اٹھا کر غائب ہوگئے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان “سالوں” کا یہ نمازی بہنوئی، جمعہ پڑھنے کے بعد مسجد کے باہر “گواچی گاں”(بھٹکی ہوئی گائے) کی مانند اِدھر اُدھر تکتا رہا اور پھر تپتی گرمی اور جھلستی سڑکوں پر ننگے پاؤں چل کر گھر پہنچا۔ مسجد سے واپسی پر تپتی گرمی میں ننگے پاؤں چلتے ہوئے جہنم کی شاہراہیں یاد آنے لگیں جن پر درج ہوگا کہ آئیے آپ کا انتظار تھا۔

بھائی آپ صرف جمعے کے جمعے ہی مسجد جاتے ہیں۔ مسجد سے آپ کی ننگے پاوں واپسی کا یہی مطلب ہے کہ آپ کاجوتیاچوری ہو گیا ہے

گھر پہنچتے ہی مجھےیوں بیزار دیکھ کر کام کرنے والی ماسی چہکی؛

“باجی جی!! وڈے بھائی دی جُتّی چوری ہو گئی اے۔”

(باجی! صاحب کی جوتی چوری ہو گئی ہے)

فرش پر تپڑی(گیلا کپڑا) پھیرتی ماسی کااعلانِ سُن کر میں حیران ہی رہ گیا۔ ماسی کا اعلان مکمل ہونے کے بعد میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں ماسی سے دریافت کیا،”تینوں کنویں پتہ چلیا کہ میری جوتی چوری ہوگئی اے؟”(تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میرا جوتا چوری ہو گیا ہے؟)

ماسی فوراً بولی “بھائی تُسی، جمعہ دے جمعہ ای مسجدجاندے او۔ مسجد تو ننگے پیر واپس آن دا مطلب ایہی اے کہ تہاڈی جوتی چوری ہو گئی۔” (بھائی آپ صرف جمعے کے جمعے ہی مسجد جاتے ہیں۔ مسجد سے آپ کی ننگے پاوں واپسی کا یہی مطلب ہے کہ آپ کاجوتیاچوری ہو گیا ہے)۔

loading...

ماسی کا جواب ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ امی باورچی کھانے سے ہاتھ میں چکلا بیلن تھامے نکلیں اور جوتی چور کو غائبانہ گالیاں دینے لگیں۔

ان دیکھے انجانے چور پر گالیوں کی گولہ باری ابھی جاری تھی کہ میں یہ کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلاگیا کہ کچھ نہیں ہوتا امی، ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ ضرورت مند ہو۔کمرے میں آکر جب میں نے اپنے نازک پاؤں دیکھے تو جہنمی شاہراہوں کا سوچ کر دل و دماغ ڈر ساگیا اور سوچا کہ اب گناہوں سے توبہ کرکے راہِ راست پر آجانا چاہیے۔

ابھی اس ایمان افروز سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ خیال آیا کیوں نا اس پر بلاگ لکھ کر کچھ پیسے ہی کما لیے جائیں تاکہ مسروقہ جوتی کا نقصان پورا کیا جاسکے بلکہ اب ایک جوتا مسروقہ جوتے سے بہتر اور مسیتی سالوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ایک سستا جوتا خریدا جائے جسے صرف جمعہ پڑھنے کے لئے استعمال کیا جائے۔
یہ سوچ کر میں دفتر کے لیے نکل پڑا اور واپس آکر بیوی کے ساتھ جوتے خریدنے کا پروگرام بنایا۔

شام کو دکان پر جاکر حسبِ توفیق میں نے دکان میں دستیاب بہترین جوتا پسند کیا جس کے بعد میں نے دکاندار سے کسی سستی جوتی کا پوچھا۔ابھی دکاندار نے جواب نہیں دیا تھا کہ
میری بیوی نے دوسرا جوتا خریدنے کی وجہ دریافت کی۔ میں نے اسے بتایا کہ میں جمعہ پڑھنے کےلیے ایک سستا جوتا خریدنا چاہتا ہوں۔ بس اتنا سننا تھا کہ میری بیوی میں چھپی مفتیہ بپھر گئی۔ جس نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہی مہنگا جوتا پہن کر جمعہ پڑھنے جایئں گے۔ کیا ہوا اگر مسجد سےایک جوتا چوری ہوگیا۔ آپ کی گاڑی بھی تو چوری ہوئی تھی کیا آپ نے پھر سستی گاڑی خریدی؟۔ ہفتہ میں ایک جمعہ کیا پڑھتے ہیں لگتا ہے اللہ پر احسان کرتے ہیں۔ اب میں بیگم کو کیا سمجھاتا کہ نماز کے دوران اگر نئے اور مہنگے جوتے کا خیال ستاتا رہے تو خدا کی جانب دھیان کیا خاک ہو گا مگر اب مجبوراً ہر جمعے کو مسجد میں جوتوں کے چوری ہوجانے کے خوف میں مبتلا نماز ادا کرتا ہوں۔
(بشکریہ لالٹین)

Spread the love
  • 14
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں