رینجرز نے مبینہ قاتل ایم کیو ایم لندن کے رکن کو گرفتار کرلیا

رینجرز سندھ
loading...

رینجرز اور پولیس نے کراچی میں مختلف کارروائیوں کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن سے تعلق رکھنے والے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ ہل پارک میں دفنایا گیا اسلحہ اور بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔

ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر کا کہنا تھا کہ ‘بہادر آباد پولیس نے ہل پارک کے اندر چھاپہ مارا اور دفنایا ہوا خاص اسلحہ برآمد کرلیا’۔

یہ کارروائی زیرحراست ملزم نسیم عرف بلڈر کی معلومات پر کی گئی جنہیں بہادر آباد میں ایک مقابلے کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

ایس ایس پی ایسٹ نے کہا کہ ‘گرفتار ملزم ایم کیو ایم لندن کا متحرک کارکن تھا’۔

ہل پارک سے برآمد ہونے والے اسلحے میں لانگ رینج کے روسی اسنائپر رائفل، کلاشنکوف اور 4 پستول شامل ہیں۔

پولیس افسر کے مطابق اسنائپر ایسا اسلحہ ہے جو فوج کے زیراستعمال رہتا ہے جس کو ایک کلومیٹر کے فاصلے سے فائر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مبینہ ملزم کو قانون نافذ کرنےوالے اداروں نے ماضی میں اورنگی ٹاؤن سے بھی گرفتار کیا تھا اور اس وقت ان کے قبضے سے 5 کلاشنکوف برآمد ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ زیرحراست ملزم نسیم عرب بلڈر نے ابتدائی تفتیش کے دوران کہا ہے کہ انہیں جنرل مشرف کے دور حکومت میں 2000 کے بعد ایم کیو ایم کے حکومت میں شامل ہونے کے بعد رہا کردیا گیا تھا اور این آر او کے تحت تمام مقدمات ختم کردیے گئے تھے۔

گرفتار ملزم نے ’ اعتراف‘ کیا کہ جون 1998 میں رحمت چوک اورنگی ٹاؤن میں ڈاکٹر مظاہر علی قریشی کو قتل کیا تھا۔

ایس ایس پی اظفر مہیسر نے دعویٰ کیا کہ ملزم نے ڈاکٹر مظاہر علی قریشی کو چند مسائل پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر قتل کیا۔

رینجرز کی کارروائی
رینجرز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد گلشن اقبال میں ڈسکو بیکری کے قریب چھاپہ مار کر مبینہ طور پر ایم کیوایم لندن کے کارکن کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان رینجرز کا کہنا تھا کہ گرفتار مبینہ ملزم ٹارگٹ کلنگ، قتل، اقدام قتل اور غیر قانونی اسلحے کی ترسیل کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔

رینجرز کے بیان کے مطابق مبینہ ملزم فاروق 2007 میں ایم کیو ایم لند آگرہ تاج سیکٹر کی ‘ٹارگٹ کلنگ ٹیم’ کا حصہ بنا اور 2008 سے 2012 تک ایم کیو ایم اور لیاری گینگ وار کے درمیان ہونے والے پرتشدد جھڑپوں میں ملوث رہا اور 2013 میں لیاری گینگ وار کے کارندے یوسف گھانچی کو قتل کیا۔

رینجرز کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمرا آگرہ تاج میں لیاری گینگ وار کے کارندوں اور دیگر شہریوں سمیت 8 افراد کو قتل کیا۔

ترجمان رینجرز نے کہا کہ ملزم لیاری کے علاقے آگرہ تاج میں غیر قانونی اسلحہ اور ایمونیشن کی ترسیل میں بھی ملوث رہا جس کو لیاری گینگ وار کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔

گرفتار ملزم کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ وہ 2013 میں کراچی میں شروع ہونے والے آپریشن کے بعد گرفتاری کے خوف سے ایم کیو ایم کے مرکز90 عزیز آباد سے جمعہ گوٹھ روپوش ہوا تھا۔

رینجرز کا کہنا تھا کہ ملزم کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے اسلحے سمیت پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

Spread the love
  • 14
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں