اورمیرے گھر میں مرغیوں کا آنا

میرے گھر میں مرغیوں کا آنا

عرض کیا۔ ”کچھ بھی ہو۔ میرے گھر میں مرغیوں کا آنا برداشت نہیں۔ میرا راسخ عقیدہ ہے کہ ان کا صحیح مقام پیٹ اور پلیٹ ہے اور شاید۔“

”اس راسخ عقیدے میں میری طرف سے پتیلی کا اور اضافہ کرلیجیے۔“ انہوں نے بات کاٹی۔

پھر عرض کیا۔ ”اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کوئی مرغی عمر طبعی کو نہیں پہنچ پاتی۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ ہماری ضیافتوں میں میزبان کے اخلاص و ایثار کا اندازہ مرغیوں اور مہمانوں کی تعداد اور ان کے تناسب سے لگایا جاتا ہے۔“

فرمایا۔ ”یہ صحیح ہے کہ انسان روٹی پر ہی زندہ نہیں رہتا۔ اسے مرغ مسلّم کی بھی خواہش ہوتی ہے۔ اگر آپ کا عقیدہ ہے کہ خدا نے مرغی کو محض انسان کے کھانے کے لیے پیدا کیا تو مجھے اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ صاحب! مرغی تو درکنار۔ میں تو انڈے کو بھی دنیا کی سب سے بڑی نعمت سمجھتا ہوں۔ تازے خود کھائیے۔ گندے ہوجائیں تو ہوٹلوں اور سیاسی جلسوں کے لیے دگنے داموں بیچیے۔ یوں تو اس میں، میرا مطلب ہے تازے انڈے میں :
ہزاروں خوبیاں ایسی کہ ہر خوبی پہ دم نکلے
مگر سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ پھوہڑ سے پھوہڑ عورت کسی طرح بھی پکائے یقیناً مزے دار پکے گا۔ آملیٹ، نیم برشت، تلا ہوا، خاگینہ، حلوا۔“

اس کے بعد انہوں نے ایک نہایت پیچیدہ اور گنجلک تقریر کی جس کا ماحصل یہ تھا کہ آملیٹ اور خاگینہ وغیرہ بگاڑنے کے لیے غیرمعمولی سلیقہ اور صلاحیت درکار ہے جو فی زمانہ مفقود ہے۔

اختلاف کی گنجائش نظر نہ آئی تو میں نے پہلو بچا کر وار کیا۔ ”یہ سب درست! لیکن اگر مرغیاں کھانے پر اتر آئیں تو ایک ہی ماہ میں ڈربے کے ڈربے صاف ہوجائیں گے۔“

کہنے لگے۔ ”یہ نسل مٹائے نہیں مٹتی۔ جہاں تک اس جنس کا تعلق ہے دو اور دو چار نہیں بلکہ چالیس ہوتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو خود حساب کرکے دیکھ لیجیے۔ فرض کیجیے کہ آپ دس مرغیوں سے مرغبانی کی ابتداء کرتے ہیں۔ ایک اعلٰی نسل کی مرغی سال میں اوسطاً دو سو سے ڈھائی سو تک انڈے دیتی ہے۔ لیکن آپ چونکہ فطرتاً قنوطی واقع ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ مانے لیتے ہیں کہ آپ کی مرغی ڈیڑھ سو انڈے دے گی۔“

میں نے ٹوکا۔ ”مگر میری قنوطیت کا مرغی کی انڈے دینے کی صلاحیت سے کیا تعلق؟“

بولے۔ ”بھئی آپ تو قدم قدم پر الجھتے ہیں۔ قنوطی سے ایسا شخص مراد ہے جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالٰی نے آنکھیں رونے کے لیے بنائی ہیں۔ خیر۔ اس کو جانے دیجیے۔ مطلب یہ ہے کہ اس حساب سے پہلے سال میں ڈیڑھ ہزار انڈے ہوں گے اور دوسرے سال ان انڈوں سے جو مرغیاں نکلیں گی وہ دو لاکھ پچیس ہزار انڈے دیں گی۔ جن سے تیسرے سال اسی محتاط اندازے کے مطابق، تین کروڑ سینتیس لاکھ پچاس ہزار چوزے نکلیں گے۔ بالکل سیدھا سا حساب ہے۔“

”مگر یہ سب کھائیں گے کیا۔“ میں نے بے صبری سے پوچھا۔

ارشاد ہوا۔ ”مرغ اور ملاّ کے رزق کی فکر تو اللہ میاں کو بھی نہیں ہوتی۔ اس کی خوبی یہی ہے کہ اپنا رزق آپ تلاش کرتا ہے۔ آپ پال کر تو دیکھیے۔ دانہ دنکّا، کیڑے مکوڑے، کنکر، پتھر چُگ کر اپنا پیٹ بھرلیں گے۔“

پوچھا۔ ”اگر مرغیاں پالنا اس قدر آسان و نفع بخش ہے تو آپ اپنی مرغیاں مجھے کیوں دینا چاہتے ہیں۔“

فرمایا۔ ”یہ آپ نے پہلے ہی کیوں نہ پوچھ لیا۔ ناحق رد و قدح کی۔ آپ جانتے ہیں میرا مکان پہلے ہی کس قدر مختصر ہے۔ آدھے میں ہم رہتے ہیں اور آدھے میں مرغیاں۔ اب مشکل یہ آ پڑی ہے کہ کل کچھ سسرالی عزیز چھٹیاں گزارنے آرہے ہیں۔ اس لیے۔ ۔ ۔“

اور دوسرے دن ان کے نصف مکان میں سسرالی عزیز اور ہمارے گھر میں مرغیاں آگئیں۔

اب اس کو میری سادہ لوحی کہیے یا خلوص نیت کے شروع شروع میں میرا خیال تھا کہ انسان محبت کا بھوکا ہے اور جانور اس واسطے پالتا ہے کہ اپنے مالک کو پہچانے اور اس کا حکم بجا لائے۔ گھوڑا اپنے سوار کا آسن اور ہاتھی اپنے مہاوت کا آنکس پہچانتا ہے۔ کتا اپنے مالک کو دیکھتے ہی دم ہلانے لگتا ہے۔ جس سے مالک کو روحانی خوشی ہوتی ہے۔ سانپ بھی سپیرے سے بٍل جاتا ہے۔ لیکن مرغیاں!

میں نے آج تک کوئی مرغی ایسی نہیں دیکھی جو مرغ کے سوا کسی اور کو پہچانے اور نہ ایسا مرغ نظر سے گزرا جس کو اپنے پرائے کی تمیز ہو۔ مہینوں ان کی داشت اور سنبھال کیجیے۔ برسوں ہتھیلیوں پر چگائیے۔ لیکن کیا مجال کہ آپ سے ذرا بھی مانوس ہوجائیں۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ میں یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ میرے دہلیز پر قدم رکھتے ہی مرغ سرکس کے طوطے کی مانند توپ چلا کر سلامی دیں گے، یا چوزے میرے پاؤں میں وفادار کتے کی طرح لوٹیں گے، اور مرغیاں اپنے اپنے انڈے ”سپردم بتو مایہٴ خویش را“ کہتی ہوئی مجھے سونپ کر الٹے قدموں واپس چلی جائیں گی۔ تاہم پالتو جانور سے خواہ وہ شرعاً حلال ہی کیوں نہ ہو یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ ہر چمکتی چیز کو چھری سمجھ کر بدکنے لگے۔ اور مہینوں کی پرورش و پرداخت کے باوجود محض اپنے جبلی تعصب کی بناء پر ہر مسلمان کو اپنے خون کا پیاسا تصور کرے۔

انہیں مانوس کرنے کے خیال سے بچوں نے ہر ایک مرغ کا علیحدہ نام رکھ چھوڑا تھا۔ اکثر کے نام سابق لیڈروں اور خاندان کے بزرگوں پر رکھے گئے۔ گو ان بزرگوں نے کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا مگر ہمارے دوست مرزا عبدالودوود بیگ کا کہنا تھا کہ یہ بیچارے مرغوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ لیکن ان ناموں کے باوصف مجھے ایک ہی نسل کے مرغوں میں آج تک کوئی ایسی خصوصیت نظر نہ آئی جو ایک مرغ کو دوسرے سے ممّیز کرسکے۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے سب مرغ، نوزائیدہ بچے اور سکھ ایک جیسی شکل کے نظر آتے ہیں۔ اور انہیں دیکھ کر اپنی بینائی اور حافظے پر شبہ ہونے لگتا ہے۔ ممکن ہے کہ ان کی شناخت اور تشخیص کے لیے خاص مہارت و ملکہ درکار ہو۔ جس کی خود میں تاب نہ پاکر اپنے حواس خمسہ سے مایوس ہوجاتا ہوں۔

ایک عام خوش فہمی جس میں تعلیم یافتہ اصحاب بالعموم اور اردو شعراء بالخصوص عرصے سے مبتلا ہیں، یہ ہے کہ مرغ اور ملاّ صرف صبح اذان دیتے ہیں۔ اٹھارہ مہینے اپنے عادات و خصائل کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یا تو میں جان بوجھ کر عین اس وقت سوتا ہوں جو قدرت نے مرغ کے اذان دینے کے لیے مقرر کیا ہے یا یہ ادبدا کر اس وقت اذان دیتا ہے جب خدا کے گنہگار بندے خواب غفلت میں پڑے ہوں۔ بہرصورت ہمارے محبوب ترین اوقات اتوار کی صبح اور سہ پہر ہیں۔

آج بھی چھوٹے قصبوں میں کثرت سے ایسے خوش عقیدہ حضرات مل جائیں گے جن کا ایمان ہے کہ مرغ بانگ نہ دے تو پو نہیں پھٹتی، لہذا کفایت شعار لوگ الارم والی ٹائم پیس خریدنے کے بجائے مرغ پال لیتے ہیں تاکہ ہمسایوں کو سحرخیزی کی عادت رہے۔ بعضوں کے گلے میں قدرت نے وہ سحر حلال عطا کیا ہے کہ نیند کے ماتے تو ایک طرف رہے، ان کی بانگ سن کر ایک دفعہ تو مردہ بھی کفن پھاڑ کر اکڑوں بیٹھ جائے۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں مرغ کی آواز، اس کی جسامت کے لحاظ سے کم از کم سو گنا زیادہ ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر گھوڑے کی آواز بھی اسی تناسب سے بنائی گئی ہوتی تو تاریخی جنگوں میں توپ چلانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

اب یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر مرغ اذان کیوں دیتا ہے! ہم پرندوں کی نفسیات کے ماہر نہیں۔ البتہ معتبر بزرگوں سے سنتے چلے آئے ہیں کہ صبح دم چڑیوں کا چہچہانا اور مرغ کی اذان دراصل عبادت ہے۔ لہذا جب مرزا عبدالودوود بیگ نے ہم سے پوچھا کہ مرغ اذان کیوں دیتا ہے! تو ہم نے سیدھے سبھاؤ یہی جواب دیا کہ اپنے رب کی حمد و ثناء کرتا ہے۔

کہنے لگے ”صاحب اگر یہ جانور واقعی عبادت گزار ہے تو مولوی صاحب اتنے شوق سے کیوں کھاتے ہیں؟“

ایک دن موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔ تھکا ماندہ بارش میں شرابور گھر پہنچا تو دیکھا کہ تین مرغے میرے پلنگ پر باجماعت اذان دے رہے ہیں۔ سفید چادر پر جابجا پنجوں کے تازہ نشان تھے۔ البتہ میری قبل از وقت واپسی کے سبب جہاں جگہ خالی رہ گئی تھی، وہاں سفید دھبے نہایت بدنام معلوم ہورہے تھے۔ میں نے ذرا درشتی سے سوال کیا۔ ”آخر یہ گلا پھاڑ پھاڑ کے کیوں چیخ رہے ہیں۔“

بولیں۔ ”آپ تو خواہ مخواہ الرجک ہوگئے ہیں۔ یہ بیچارے چونچ بھی کھولیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے چڑا رہے ہیں۔“
میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ دل نے کہا۔ بس بہت ہوچکا، آؤ آج دو ٹوک فیصلہ ہوجائے۔ ”اس گھر میں اب یا تو یہ رہیں گے یا میں۔“ میں نے بپھر کر کہا۔
ان کی آنکھوں میں سچ مچ آنسو بھر آئے۔ ہراساں ہوکر کہنے لگیں۔ ”مینہ برستے میں آپ کہاں جائیں گے۔“

اس جنس کے بارے میں ایک مایوس کن انکشاف یہ بھی ہوا کہ خواہ آپ موتی چگائیں، خواہ سونے کا نوالہ کھلائیں مگر اس کو کیڑے مکوڑے، جھینگر، بھنگے، چیونٹے اور کیچوے کھانے سے باز نہیں رکھ سکتے، اور میں یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اس کا اثر و نفوذ انڈے میں نہ ہو۔ پھر موپساں کے افسانے کا ہیرو اگر یہ دعوٰی کرے کہ وہ زردی کی بو سے یہ بتاسکتا ہے کہ مرغی نے کیا کھایا تھا تو اچنبھے کی بات نہیں۔ خود ہمارے ہاں ایسے ایسے لائق قیافہ شناس دال روٹی پر جی رہے ہیں جو ذرا سی بوٹی چکھ کر نہ صرف بکری کے چارے بلکہ چال چلن کا بھی مفصل حال بتاسکتے ہیں۔

آپ نے سنا ہوگا کہ کھلی اور بھوسے کی خاصیت، اور چوپایوں کی خصلت کے پیش نظر، بعض نفاست پسند والیان ریاست اس بات کا بڑا خیال رکھتے تھے کہ جن بھینسوں کے دودھ کی بالائی ان کے دسترخوان پر آئے، ان کو صبح و شام بادام اور پستے کھلائے جائیں تاکہ اس کا اصل ذائقہ اور مہک بدل جائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے میں عمدہ دودھ کی خوبی یہ تھی کہ اسے پی کر کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ دودھ ہے۔

ایک اور سنگین غلط فہمی جس میں خواص و عوام مبتلا ہیں اور جس کا ازالہ میں رفاہ عام کے لیے نہایت ضروری خیال کرتا ہوں یہ ہے کہ مرغیاں ڈربے اور ٹاپے میں رہتی ہیں، میرے ڈیڑھ سال کے مختصر مگر بھرپور تجربے کا نچوڑ یہ ہے کہ مرغیاں ڈربے کے سوا ہر جگہ نظر آتی ہیں اور جہاں نظر نہ آئیں، وہاں اپنے ورود و نزول کا ناقابل تردید ثبوت چھوڑ جاتی ہیں۔ ان آنکھوں نے بارہا غسل خانے سے انڈے اور کتابوں کی الماری سے جیتے جاگتے چوزے نکلتے دیکھے۔ لحاف سے کڑک مرغی اور ڈربے سے شیو کی پیالی برآمد ہونا روزمرہ کا معمول ہوگیا۔ اور یوں بھی ہوا ہے کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی اور میں نے لپک کر ریسیور اٹھایا۔ مگر میرے ہیلو! کہنے سے پیشتر ہی مرغ نے ٹانگوں کے درمیان کھڑے ہوکر اذان دی، اور جن صاحب نے ازراہ تلطف مجھے یاد فرمایا تھا انہوں نے ”سوری رانگ نمبر“ کہہ کر جھٹ فون کردیا۔

پھر ایک اتوار کو شور سے آنکھ کھلی تو دیکتھا ہوں کہ بچے اصیل مرغ کو مار مار کر بیضوی پیپر ویٹ پر بٹھا رہے ہیں۔ مانتا ہوں کہ اس دفعہ مرغ بے قصور تھا۔ لیکن دوسرے دن اتفاقاً دفتر سے ذرا جلد واپس آگیا تو دیکھا کہ محلے بھر کے بچے جمع ہیں اور ان کے سروں پر چیل کوے منڈلارہے ہیں۔ ذرا نزدیک گیا تو پتا چلا کہ میرے نئے کیرم بورڈ پر لنگڑے مرغ کا جنازہ بڑی دھوم سے نکل رہا تھا۔ سب بچے اپنے اپنے قد کے مطابق چار چار کی ٹولیوں میں بٹ گئے اور باری باری کندھا دے رہے تھے۔ غور سے دیکھا تو جلوس کے آخر میں کچھ ایسے شرکاء بھی نظر آئے جو گھٹنیوں چل رہے تھے اور اس بات پر دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے کہ انہیں کندھا دینے کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا۔

اور اس کے کچھ دن بعد چشم حیراں نے دیکھا کہ ہمسایوں میں شیرینی تقسیم ہورہی ہے۔ معلوم ہوا کہ ”شہ رخ“ (چتکبرا مرغ) نے آج پہلی بار اذان دی ہے۔ میں نے اس فضول خرچی پر ڈانٹا تو میرا تردد رفع کرنے کی خاطر مجھے مطلع کیا گیا کہ خالی بوتلیں، میرے پہلے ناول کا مسودہ اور اسناد کا پلندہ (جو بقول ان کی دس برس سے بیکار پڑا تھا) ردی والے کو اچھے داموں بیچ کر یہ تقریب منائی جارہی ہے۔ قصہٴ مختصر چند ہی مہینوں میں اس طائر لاہوتی نے گھر کا وہ نقشہ کردیا کہ اسے دیکھ کر وہی شعر پڑھنے کو جی چاہتا تھا جو قدرے مختلف حالات میں حُسنا پری نے حاتم طائی کو سنایا تھا:

یہ گھر جو کہ میرا ہے تیرا نہیں
پر اب گھر یہ تیرا ہے میرا نہیں

میرے گھر میں مرغیوں کا آنا اس بات کی علامت ہے کہ اب گھر اچھا خاصا پولٹری فارم (مرغی خانہ) میں تبدیل ہو چکا ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پولٹری فارم میں عام طور سے اتنے آدمیوں کے رہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

جو حضرات الام دنیوی سے عاجز و پریشان رہتے ہیں، ان کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ مرغیاں پال لیں۔ پھر اس کے بعد پردہٴ غیب سے کچھ ایسے نئے مسائل اور فتنے خودبخود کھڑے ہوں گے کہ انہیں اپنی گزشتہ زندگی جنت کا نمونہ معلوم ہوگی!

یہ سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ ادھر ایک تشویش ناک صورت یہ رونما ہوئی کہ ایک مرغ کٹ کھنا ہوگیا۔ پہلے تو ہوا یہ کرتا تھا کہ جب بچوں کو تماشا دیکھنا منظور ہوتا تو دو مرغوں کے منہ پر توے کی کلونس لگا کر کھانے کی میز پر چھوڑ دیتے اور لڑائی کے بعد میز پوش کے داغ دھبوں کو ربڑ سے مٹانے کی کوشش کرتے۔ لیکن اب کسی اہتمام کی ضرورت نہ رہی، کیوں کہ وہ دن بھر پڑوسیوں کے مرغوں سے فی سبیل اللہ لڑتا اور شام کو مجھے لڑاتا۔ یہاں یہ بتانا شاید بے محل نہ ہوگا کہ مرغ کے مشاغل و فرائض منصبی کے بارے میں میرا اب بھی یہ تصور ہے کہ:

مرغا وہ مرغیوں میں جو کھیلے
نہ کہ مرغوں میں جا کے ڈنڈ پیلے

معاملہ ہم جنس تک ہی رہتا تو غنیمت تھا لیکن اب تو یہ ظالم مرغیوں سے زیادہ آنے جانے والوں پر نظر رکھنے لگا۔ مرزا عبدالودود بیگ سے میں نے ایک دفعہ تذکرہ کیا تو کہنے لگے کیا بات ہے۔ ہم پر تو ذرا نہیں لپکتا۔ ان کے جانے کے بعد راقم الحروف قدآدم آئینے کے سامنے دیر تک کھڑا رہا۔ لیکن عکس میں بظاہر کوئی ایسی بات نظر نہ آئی جسے دیکھتے ہی کسی امن پسند جانور کی آنکھوں میں خون اتر آئے۔ بہرحال جب پڑوسیوں کی شکایتیں بڑھیں تو ایک مشہور مرغ باز سے رجوع کیا۔ اس نے کہا کہ قدرت نے اس پرند کو ہر لحاظ سے ہری جگ بنایا ہے اور یہ مرغ غالباً اس لیے کٹ کھنا ہوگیا کہ آپ نے اسے بچا کچھا گوشت کھلادیا۔ میں نے گھر پہنچ کر تشخیص سے آگاہ کیا تو کہنے لگیں۔

”توبہ! اب ہم اتنے برے بھی نہیں کہ ہمارا جھوٹا کھانا کھا کے اس منحوس کا یہ حال ہوجائے۔“

مشتاق احمد یوسفی

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں