آزادی صحافت اور پاکستانی صحافی

loading...

  تحریر : سلمان احمد قریشی

اقوام متحدہ نے انسانی زندگی اور تاریخ کے اہم پہلوؤ ں کے بارے کئی بین الاقوامی دن مقرر کر رکھے ہیں ۔اقوام متحدہ کی طرف سے منائے جانے والے ان دنوں کی فہرست میں 3مئی بطور عالمی یوم آزادی صحافت کے نام سے شامل ہے ۔ یونیسکو نے 15اکتوبر 1991کو پیرس میں منعقدہ 26ویں اجلاس میں قرار داد نمبر C26/43کے ذ ریعے اس دن کو منانے کی سفارشات پیش کیں ۔جس پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو منانے کی باقاعدہ منظوری دی اور یوں 1993سے اس دن کو منانے کی ابتدا ہوئی۔ 3مئی ایک ایسی تاریخ ہے جو آزادی صحافت کے بنیادی اصولوں کے جشن منانے کا دن ہے اس دن تمام دنیا میں آزادی صحافت کا جائزہ لیا جاتا ہے ، آزادی صحافت پر ہونے والے حملوں سے بچاؤ کی تدبیر پر غور کیا جاتا ہے ۔ذرائع ابلاغ کیلئے حمایت حاصل کرنے کا دن ہے جو آزادی صحافت کی ضامن ہو ۔ یہ ان صحافیوں کو بھی یاد رکھنے کا دن ہے جو اپنی زندگی کو ایک کہانی کے حصول میں کھو چکے ہیں اس دن ان تمام صحافیوں کی قربانیوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔3مئی دراصل ان عظیم افریقی صحافیوں کی قربانیوں کا اعتراف ہے جنہوں نے آزادی صحافت کا عظیم ڈکلیریشن ونڈوک پیش کیا تھا ۔ اس روز دنیا بھر کے صحافی آزادی صحافت کا جشن مناتے اور آزادی پر اصرار کرتے ہیں ۔صحافتی تنظیمیں آزادی صحافت پر ہونے والے حملوں کے خلاف جلسے کرتی ہیں اور جلوس نکالتی ہیں ۔دنیا بھر میں اکابرین اس موقع پر بیانات جاری کرتے ہیں۔
2017ء میں پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران دنیا بھر میں 79صحافیوں کو قتل کیا گیا ۔افغانستان، میکسیکو، عراق ، شام اور فلپائن دنیا بھر میں 5خطر ناک ترین ممالک میں شمار ہوئے ۔180ممالک کی فہرست میں پاکستان 138ویں نمبر پر تھا ۔ پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی تعداد میں روز افزوں اضافہ کے با وجود حالات کارکن صحافیوں کے لیے ناسازگار ہیں ۔سال 2011میں تو پاکستان اظہار رائے کی آزادی کے حوالہ سے دنیا کے خطرناک ترین ممالک کے صف میں سر فہرست تھا ۔اس سال 16صحافی جان سے مار ددیے گئے ۔ رپورٹر ولی بابر ،صحافی سلیم شہزاد ، نامہ نگار ابرار حسین،کرائم رپورٹر ز مان ابراہیم ،نامہ نگار اشرف پھنوار ، رپورٹر جہانگیر اسماعیل ، ملک منور ، منیر شاکر ، فیض سسولی، عبدالواسع، محمد خان سسولی ، فیصل قریشی ،جاوید نصیر ، وقارالدین قتل ہوئے ۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان دہشت گردی کا شکار تھا ۔اب اگر 2017کی بات کی جائے تو 4صحافی جان سے گئے ، براڈکاسٹ جرنلسٹ ہارون خان، چیف ڈیلی کے ٹو ٹائم بخشش راہی ، رپورٹر ڈیلی قدرت محمد جان اندھی گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ احمد نورانی ،مطیع اللہ جان ، رانا تنویر ،اعزاز سید ، طہٰ صدیقی ، تیمور عباس، سلمان حیدر، عاصم سعید، احمد گورایہ پر حملے ہوئے ۔ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہا ں خبر دینے والے خود خبر بن جاتے ہیں ۔ ریاستی جبر ،عسکریت پسند تنظیمیں ، با اثر گروہ، آزادی صحافت کو متاثر کرتی ہیں ۔ پولیس ، نامعلوم افراد کا وار کسی بھی صحافی پر ہو سکتا ہے ۔ مگر میڈیا پر عائد تمام تر پابندیاں حکومت اور شدت پسندوں کے جبر کا نتیجہ ہی نہیں ، اس کا جائزہ لیں تو کچھ تلخ حقائق بھی سامنے آتے ہیں۔ فیلڈ رپورٹروں کو لاحق تمام تر خطرات کے ساتھ مہینے کے آخر میں تنخواہ نہ ملنے اور فوری بر طرفی کی صورت میں بغیر اختتامی ادائیگی کے رخصت کر دینے کی روایت بھی آزادی صحافت کو متاثر کرتی ہے۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے میڈیا ہاؤسسز کا سازو سامان کیمرہ، گاڑیاں تو انشورنس شدہ ہیں لیکن کیمرہ مین اور ڈرائیور کی زندگی کی کوئی انشورنس نہیں ۔صحافیوں کے خون پسینے سے میڈیا ہاؤسسز مالکان اور ٹی وی سکرین پر نظر آنے والے چہرے رپورٹر کی خبروں سے اپنے شو کی ریٹنگ بڑھاتے ہیں مگر صحافیوں کو کئی مہینے تک تنخواہیں نہیں ملتی ۔ایک اور تشویش ناک رجحان صحافتی ادارے براہ راست عملہ رکھنے کی بجائے ٹھیکہ داروں کی خدمات حاصل کر لیتے ہیں جس سے پیشہ صحافت سے منسلک ہونے کے باوجود وہ میڈیا اداروں کے ملازم شمار نہیں ہوتے ۔جز وقتی ملازمین، فری لانسراور سب سے بڑھ کر سکیورٹی دے کر پریس کارڈ حاصل کرنے والے اداروں کے ملازم تو نہیں ہوتے مگر انہیں براہ راست ڈرایا دھمکایا جاتاہے تو یہ ادارے مکمل لا تعلقی کا اظہارکر دیتے ہیں ۔ مقامی صحافیوں کو اول تو ملکی میڈیا پوچھتا ہی نہیں ، شو مئی قسمت اگر کوئی بڑے ادارے یا چینل سے منسلک ہو بھی جائے تو اس کی خبریں ہوا میں اڑا دی جاتی ہیں۔نیشنل میڈیا کا فوکس کراچی کے مسائل اور لاہور کی ترقی ہے اوکاڑہ شہر میں ٹریفک جام اور عوامی مسائل میڈیا کا موضوع ہی نہیں، بات آزادی صحافت کی کی جائے تو حال ہی میں اوکاڑہ پریس کلب کی تالہ بندی اور صحافی گروپ پر فائرنگ کے واقعات پر نیشنل میڈیا خاموش ہے۔دوسری طرف چند صحافیوں ، تجزیہ کاروں اور میز بانوں کو اتنا مشہور کر دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ سکرین پر قابض یہ شخصیات بادشاہ گر اور عوامی ذہن سازی کا کام دے رہی ہیں لیکن آزادی صحافت اور صحافی کے حقوق ان کا موضوع نہیں ۔ یہ بے حسی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت کا مطلب چند افراد کے معاشی مفادات کا تحفظ اور میڈیا ہاوسسز کے مالکان کی خواہشات کی تکمیل ہی ہے ۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے پاکستان میں آزادی صحافت کی جتنی بھی تحریکیں چلیں عوام نے کبھی منظم طور پر صحافیوں کا ساتھ نہیں دیا ۔ جبکہ عام آدمی آزادی صحافت پر یقین رکھتا ہے اور ہماری آزادی بھی پریس کی آزادی پر ہی منحصر ہے یہ آزادی کسی دوسری آزادی کی طرح کبھی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ 3مئی کے دن نثار عثمانی ، منہاج برنا اور حسین نقوی کی جدوجہد کو سلام مگر ہمیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کر لینا چاہئے کہ اب صحافت ایک بڑا بزنس بن چکی ہے۔ اور میڈیا ہاؤسسز و مالکان کے اپنی تجارتی مفادات بھی ہیں اور مسئلہ انویسٹمنٹ کا بھی ہے۔صحافتی نمائندہ تنظیموں کی بڑھتی تعداد اور ان سے منسلک مقامی نیم خواندہ کارڈ ہولڈر نام نہاد صحافی جو مقامی سطح پر خود کو صدر کہلوانا پسند کرتے ہیں ایسے رویے بھی صحافت کی اہمیت اور آزادی صحافت کیلئے زہر قاتل سے کم نہیں کیونکہ یہ گروہ کہلواتا خود کو صحافی ہے مگر نیم خواندہ افراد سے پیسے بٹور کر ان کو صحافی بنا کر پیش کرتا ہے تا کہ خود اندھوں میں کانے راجہ کی مصدر خود کو مقامی لیڈر کہلوائےْ حقیقت میں نہ خود صحافی ہیں نہ صحافیوں کے حقوق کے ترجمان ۔ ہمیں اپنی خامیوں پر بھی نظر رکھنی چاہئے ہمیں دیکھنا اور سمجھنا چاہئے کہ کون سے لوگ معاشرے میں صحافت کا عکس ہیں ۔ہم اگر صحافت کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ صحافت غریب کا ساتھ دے ، بے بسوں کا ساتھ دے تو ان طبقات کو بھی چاہئے کہ وہ صحافت کا ساتھ دیں صحافیوں کا ساتھ دیں ۔قارئین ہمارا سب سے بڑا مسئلہ معاشرے کی اصلاح سے متعلق ہے ، ہمیں محض معلومات حاصل کرنے اور مہیا کرنے تک خود کو محدود نہیں کرنا چاہئے ۔

مزید پڑھیں۔  خُدا کی محبت اور ہیرا منڈی... شہریار خاور
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں