حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک برگزیدہ نبی اور رسول

حضرت ابراہیم علیہ السلام

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی

اور پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تاریخ انسانی کا وہ عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جس کا مشاہدہ نہ اس سے پہلے کبھی زمین وآسمان نے کیا، اور نہ اس کے بعد کریں گے۔ اپنے دل کے ٹکڑے کو منہ کے بل زمین پر لٹادیا، چھری تیز کی، آنکھو ںپر پٹی باندھی اور اُس وقت تک پوری طاقت سے چھری اپنے بیٹے کے گلے پر چلاتے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ صدا نہ آگئی۔ اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا، ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ (سورة الصافات ٥٠١)۔۔۔ چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا گیا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کردیا۔ اس واقعہ کے بعد سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جانوروں کی قربانی کرنا خاص عبادت میں شمار ہوگیا۔ چنانچہ حضور اکرم ۖ کی امت کے لئے بھی ہر سال قربانی نہ صرف مشروع کی گئی، بلکہ اس کو اسلامی شعار بنایا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع میں حضور اکرم ۖ کے طریقہ پر جانوروں کی قربانی کا یہ سلسلہ کل قیامت تک جاری رہے گاان شاء اللہ ۔
اس عظیم امتحان میں کامیابی کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ دنیا میں میری عبادت کے لئے گھر تعمیر کرو۔ چنانچہ باپ بیٹے نے مل کر بیت اللہ شریف (خانہ کعبہ) کی تعمیر کی، جیساکہ فرمان الہٰی ہے: اور اس وقت کا تصور کرو جب ابراہیم بیت اللہ کی بنیادیں اٹھارہے تھے، اور اسماعیل بھی (ان کے ساتھ شریک تھے اور دونوں یہ کہتے جاتے تھے کہ:) اے ہمارے پروردگار! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرمالے۔ (سورة البقرة ٧٢١)
بیت اللہ کی تعمیر سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردو۔ حضرت ابراہیم نے حج کا اعلان کیا،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان نہ صرف اس وقت کے زندہ لوگوں تک پہونچا دیا بلکہ عالم ارواح میں تمام روحوں نے بھی یہ آواز سنی، جس شخص کی قسمت میں بیت اللہ کی زیارت لکھی تھی اس نے اس اعلان کے جواب میں لبیک کہا۔ فرمان الہٰی ہے: اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو، کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی ان اونٹنیوں پر سوار ہوکر آئیں جو (لمبے سفر سے) دبلی ہوگئی ہوں۔ (سورہ الحج ٧٢)دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں عازمین حج ‘ حج کا ترانہ یعنی لبیک پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ کرحضور اکرم ۖ کے بتائے ہوئے طریقہ پر حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ حج کو اسی لئے عاشقانہ عبادت کہتے ہیں کیونکہ حاجی کے ہر عمل سے وارفتگی اور دیوانگی ٹپکتی ہے۔ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں۔  نمک میں بارود کے ذرات، خیبر پختونخوا میں تین فیکٹریاں سیل
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں