خاتون اوّل امید سے؟- جواب آگیا

عمران خان

کچھ اخبارات نے خبر شائع کی کہ خاتون اول ماں بننے والی ہیں۔ اس خبر پر فیک نیوز کے خاتمے کے لیے بنائی گئے ٹویٹر ہینڈل “فیک نیوز بسٹر” پر حکومتی ردعمل سامنے آ گیا ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے حکومتی ٹویٹر ہینڈل “فیک نیوز بسٹر” نے یہ کہا ہے یہ کہ خبر مکمل طور پر بنیاد ہے۔
”مکمل بے بنیاد خبریں بنانا اور پھیلانا اور بری حرکت ہے اور صحافتی اقدار اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ ایسا رویہ شدید قابل مذمت ہے۔ یہ سوشل میڈیا کے صارفین کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ایسے رویے کی حوصلہ شکنی کریں اور ایسے عناصر کو مسترد کر دیں۔

معاون خصوصی وزیراعظم افتخار درانی نے خاتون اول کے بارے میں شائع ہونے والی فیک خبر پر سخت مذمت کا اظہار کیا اور اگر فیک نیوز پر معافی نہ مانگی گئی تو ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔“
افتخار درانی نے کہا کہ ”اردو روزنامہ امت نے خاتون اول کے بارے میں دو اکتوبر کو جھوٹی خبر دی جسے انگریزی اخبارات پاکستان ٹوڈے اور ڈیلی پاکستان اور آن لائن نیوز ایجنسی ٹائمز آف اسلام آباد نے مزید رپورٹ کیا۔

میڈیا کے ضابطہ اخلاق اور صحافتی اخلاقیات کی پابندی کے بغیر یہ خودساختہ فیک نیوز شائع کرنا نہایت غیر اخلاقی اور اشتعال انگیز ہے۔ سنسنی خیزی اور بے بنیاد خبریں صحافت کے معیار پر سوال اٹھا دیتی ہے اور نہایت قابل مذمت ہیں۔

اس لیے میں مندرجہ بالا نیوز پبلشرز (روزناموں اور آن لائن نیوز ایجنسیز) سے یہ خبر واپس لینے اور غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ یہ صحافیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو درست معلومات فراہم کریں۔“

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں