عمران خان کے رنگ برنگ یاروں کی بہاریں

عمران خان

(ذیشان حسین)

ہمارا خیال تھا کہ خان صاحب کے دوست بس وہی ہیں جنہیں ان کی سابق بیوی ریحام خان ناپسند کرتی تھیں۔ ویسے جگری دوست ہوتے وہی ہیں جن سے بیویاں چڑتی ہیں باقی تو بس آتے جاتے موسم ہوتے ہیں۔

گو کہ خان صاحب کے دوست ان پر جان چھڑکتے تھے اور ایک نے تو واقعی چھڑک دی تھی لیکن شکر ہے اپنے گھر لاہور واپس جا کر چھڑکی ورنہ ایک نیا عذاب کھڑا ہو جاتا۔ علامہ اقبال کے نواسے میاں یوسف صلاح الدین بھی خان صاحب کے دوست ہوا کرتے تھے لیکن پھر ان کی سابقہ بیوی انبساط نے خان صاحب پر طرح طرح کے بہتان باندھنے شروع کر دیے کہ خان صاحب خدانخواستہ اس کا بیڈ روم استعمال کرتے تھے حالانکہ خان صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں نیند اپنے بستر پر ہی آتی ہے اسی لیے جیل جانے اور کسی دوسرے شہر میں رات رکنے سے بھی گھبراتے ہیں۔

اگر جہانگیر ترین کا جہاز میسر نہ ہوتا تو خان صاحب پتہ نہیں کہاں کہاں کروٹیں بدلتے رہتے۔ جو لوگ اپنے بستر پر سونے کے عادی ہوں انہیں تو بادشاہوں کے مخملی بستر پر بھی نیند نہیں آتی بشرطیکہ دوستوں نے کوئی اور اہتمام نہ کر رکھا ہو مثلاً لیٹ نائٹ پارٹی وغیرہ کا اور خان صاحب پارٹی میں کبھی رہے نہیں کیونکہ وہ بہت لیے دیے رہتے ہیں اور اپنی دلچسپی کا سامان خود پیدا کرتے ہیں۔ ایک خوبی ان میں کمال ہے اور وہ ہے چلتے چلتے ماتھے پہ آنکھیں رکھ لینے والی۔

مجھے یاد ہے شروع میں دو بھائی ان کے ساتھ ہوا کرتے تھے جنہوں نے حدیقہ کیانی کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کے لیے بڑا پیسہ اکٹھا کیا اور وہی کشمیر میں زلزلے کے دوران بھی پیش پیش تھے۔ جیسے ہی خان صاحب کو رنگ لگنے شروع ہوئے وہ منظر سے غائب ہو گئے۔ پھر سیاسی سطح پر تسنیم صاحب، خٹک صاحب، وجیہ الدین صاحب اور اویس اکبر بابر صاحبان آگئے جو بہت بہتر لوگ تھے۔

اسی دوران ہارون رشید اور کچھ خواتین مثلاً نسیم زہرہ وغیرہ ان کے رویے سے مایوس ہو کر دور ہوگئے اور جاوید ہاشمی صاحب نے انہیں جوائن کر لیا۔ ایک جھٹکے میں سارے اصلاح پسند فارغ ہو گئے کیونکہ عون چوہدری، نعیم الحق، شیخ رشید اور جہانگیر ترین کا جادو سر چڑھ کر بل کہ جہاز پر چڑھ کر بول رہا تھا۔

اسی دوران ایک سندھڑی بلی بھی ان کی جھولی سے نکل کر شیر کی کچھار میں آگئی جو بعد میں کاروں پر چڑھ کر مسلم لیگ ن کے جھنڈے بھی لہراتی رہی۔ آجکل کسی کونے کھدرے میں منہ دیے بیٹھی اچھے وقت کا انتظار کر رہی ہے۔ اس کے پاس ایک ایسی تصویر بھی ہے جو بھونچال لا سکتی ہے لیکن خان صاحب کی ماشااللہ مدح کرنے والے اتنے ہیں کہ اس کی دال نہیں گلے گی۔ عائشہ گلالئی والا حال ہو سکتا ہے لہذا اک چپ سو سکھ کے مصداق شرافت چھوڑ دی میں نے گانا شروع نہیں کیا ابھی۔ جیسے ہی خان صاحب وزیراعظم بنے عون چوہدری دربدر ہوگئے اور نعیم الحق کو اندر جانے کا راستہ تک نہیں ملا۔

ملے گا بھی نہیں کیونکہ خان صاحب نے جو فیلڈنگ سیٹ کرنی ہے اس میں پونڈوں اور ڈالروں میں امیر زادے چاہیئے، لوکل مال کام نہیں آئے گا لہذا انیل مسرت کے ساتھ دوپہر کے کھانے تناول فرمائے جا رہے ہیں۔ احسان مانی صاحب کرکٹ کے مزے لوٹ رہے ہیں اور ان کی قسمت اچھی کہ بھارت کے ساتھ ویسے ہی تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔

سالی ایک ڈاک ٹکٹ بندے کو ہیرو سے زیرو بنا دیتی ہے۔ ذاکر خان بھی آئی سی سی کے ایک بڑے عہدے پر فائز ہو گئے ہیں۔ یہ وہی ذاکر خان ہیں جن کا اوور ختم ہونے کو ہی نہیں آتا تھا لیکن خان صاحب ان سے باؤلنگ کرواتے جاتے تھے۔

اسی طرح کرکٹ میں ایک صاحب تھے، منصور اختر، جو سستی کے ایسے مارے ہوئے تھے کہ بلا ہلانا گناہ سمجھتے اور پوری قوم خان صاحب کو صلواتیں سناتی۔ کہا جاتا تھا کہ ان کے عہد کی چڑیلیں بھی تائب ہو چکیں تھیں لیکن منصور اختر صاحب نہ دنیا چھوڑتے تھے نہ کریز اور نہ ہی رنز بناتے تھے۔ پھر خاں صاحب نے یونس احمد کو کہیں باہر سے بلوا لیا۔ اس کا پیٹ پہلے گراونڈ میں آتا تھا اور وہ خود بعد میں۔ بہت بُرا بھلا کہا پوری قوم نے لیکن خان صاحب اسے کھلانے پر مصر تھے کہ اس اللہ کے بندے نے خان صاحب پر چرس سمگل کرنے کا الزام لگا کر قوم کی مشکل آسان کر دی۔ بعد میں خان صاحب نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اقرار کیا کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی یونس احمد کو بلوانا اور کھلانا تھا۔

خان صاحب کی اچھی بات یہ ہے کہ اپنی بری بات کبھی نہ کبھی مان بھی جاتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کے اقرار پر بنیاد رکھتے ہوئے کتاب لکھ ماری جائے۔ بلائنڈ کھیلنا خان صاحب کی ایک زبردست سٹریٹیجی ہوتی تھی کرکٹ میں اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوتے تھے، ناکام بھی۔ وقار یونس، انضمام، توصیف، اقبال قاسم اور عبدالقادر پر اعتماد کرتے ہوئے کامیاب بھی ہوئے لیکن منصور اختر، ذاکر خان، یونس احمد، عامر ملک، انیل دلپت پر اعتماد کر کے ناکامی بھی ہوئی۔ یہ نہیں تھا کہ خان صاحب نے مٹی میں ہاتھ ڈالا تو سونا بنا دیا گوکہ کرکٹ میں جیت کا سہرا خان صاحب ہی کے سر جاتا ہے۔
ہو سکتا ہے سیاست میں بھی ایسا کر جائیں لیکن یہاں ایک غلطی دوسری کو جنم دے گی اور فیصلے کرنے والے صرف خان صاحب نہیں ہیں۔ یہاں وہ کسی حسیب احسن کو بونگیاں مارنے کی وجہ سے شاید ڈریسنگ روم سے نہ نکال سکیں یا یہ ہو سکتا ہے یہ دھمکی کہ جاؤ میں نہیں کھیلتا کارگر ثابت نہ ہو کیونکہ یہاں حسن انتظام ایسا ہے کہ جب آپ کے محسن چاہیں گے ڈوری ہلا دیں گے اور آپ کے آس پاس بہت سے لوگ آپ کی جگہ لینے پر تیار ہوں گے۔

ڈپلومیسی کی ناکامی اور کاسمیٹک تبدیلیاں آہستہ آہستہ رومانویت پسند انقلابیوں کو بیگانہ کر رہی ہیں۔ بھینسوں کی سیل سے گیس کی قیمت تک سب کچھ مضحکہ خیز ہے۔ بھئی آپ میں اور دوسری حکومتوں میں کیا فرق رہا اگر ایک ارب کی گیس چوری روکنے کی بجائے صارفین پر بوجھ ڈال دیا۔ دو سو لوگ ہوں اور اوپر بندہ ٹھیک بیٹھا ہو تو شرم کاہے کی۔ آگے بڑھیں اور پکڑیں گیس چوروں کو۔

انیل مسرت کے پاس کوئی کستوری نہیں ہے پچاس لاکھ گھر بنانے کی جناب ! وہ اللہ واسطے کام کرنے والا ہوتا تو جنگل سے خالی ہاتھ ہی نکلتا۔ تھوڑا بہت چندہ دینا ایک بات ہے اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر دوسری بات۔ موصوف قانون میں تبدیلی کا تقاضہ کر رہے ہیں جو آپ کر نہیں سکتے۔ ڈاکٹر شہباز اور افتخار درانی بھی زیادہ دیر ٹی وی شوز میں مہنگائی کا دفاع نہیں کر سکیں گے۔

کہنے والے کہتے ہیں سب سے زیادہ موجیں وزیرِ اطلاعات کی ہیں۔ پُرشباب محفلوں میں شہد کی سی شیرینی بکھیرتے ہیں اور ٹی وی پر بیٹھ کر دشنام طرازیاں کرتے ہیں۔ ضد تو دیکھیے 55 روپے لیٹر پٹرول کی بات پر کھڑے ہیں کہ درست کہا تھا۔ جنہاں دے گھر دانے انہاں دے کملے وی سیانے۔

اگر قسمت نے یاوری نہیں کی تو مفتی سعید صاحب کی۔ ہم کہ ہیں کب سے در امید کے دریوزہ گر، یہ گھڑی گزری تو پھر دست طلب پھیلائیں گے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ چوہدری پرویز الہی اجتماعی شادیاں کروانے میں بہت طاق ہیں۔ مفتی سعید کو اجتماعی نکاح پڑھانے پر معمور کر دینا چاہیئے اور شادیوں پر جو ٹیکس لگایا ہے اس میں سے کمیشن مفتی صاحب کو دیتے رہنا چاہیئے۔ پچاس لاکھ گھر انیل مسرت کے بس کا کام نہیں اس کے لیے ملک ریاض ہی اکسیر کا کام کریں گے۔ آپ بس حکومتی زمینیں الاٹ کرنے کی سبیل کریں پھر دیکھیں کیا رنگ برستا ہے۔

بس چند مٹی کھانے والے صحافیوں سے اس سکیم کو بچائیں ورنہ انہیں پلاٹ الاٹ کرتے کرتے اللہ کی زمین تنگ پڑ جائے گی۔

ملک صاحب کے نام سے نہ گھبرائیے میں آپ کو بہت مخلصانہ مشورہ دے رہا ہوں۔ عوام کے سامنے کچھ لا کر پیش کر دیں چاہے مہنگا یا سستا۔ آپ ٹھیکے دیں گے تو کل کو کوئی عدالت میں بلا سکتا ہے لیکن ملک صاحب جب ٹھیکے دیں گے تو منہ سے بے ساختہ سبحان اللہ نکلے گا۔ انیل مسرت بے چارہ تو تیسرے دن بھاگ جائے گا۔

بد گمانوں کی فکر نہ کیجیئے وہ عمران اسماعیل کی تعلیمی قابلیت پر سوال اٹھاتے رہیں گے۔ چانسلر ہونے کے لیے ڈگری ہونا ضروری نہیں ہے جناب۔ اتنے سارے گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیاں بنانا ہے، کہاں سے اتنے پڑھے لکھے فرشتے لائیں گے آپ۔ ویسے بھی انگریزی بولنی آنی چاہیئے اور وہ اسے آتی ہے بل کہ انگلش گانے بھی گا لیتے ہیں عمران اسماعیل صاحب۔ آپ تو صرف اونچی آواز میں سنتے ہیں وہ گا بھی لیتے ہیں۔ وہ گانا گانے جیسا باریک کام کر سکتے ہیں تو فیتے نہیں کاٹ سکتے؟ ڈگریاں نہیں بانٹ سکتے؟

نعیم الحق کے ساتھ آپ نے اچھا نہیں کیا۔ وہ تو بے دھڑک محبت کا عملی اور بے قابو اظہار کر دیا کرتے تھے اور آپ نے کمرے میں آنے تک پر پابندی لگا دی۔ وہ تو ابھی پرانے زخم نہیں بھولے تھے کہ تیسرے نکاح کی بھنک تک نہ پڑنے دی آپ نے۔ بیکری والا اس سے اچھا تھا جسے ساتھ لیے پھرتے رہے۔

زُلفی بخاری پر ہم ذلتوں کے مارے کچھ دن شور مچائیں گے اور پھر چپ ہو جائیں گے۔ ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ اس کے ایک قریبی عزیز پر انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے اور اسی ضمن میں ایک کشتی اُلٹ جانے کا الزام ہے اور یہ کہ وہ تو برطانوی ہے۔

ویسے اگر لندن میں پراپرٹی کا سوال فیصل واڈا پر اٹھایا جا سکتا ہے تو زلفی پر بھی ٹیکس نہ دینے کا سوال اٹھ سکتا ہے۔ اب اگر نام ای سی ایل میں آیا تو ٹیلیفون نہ کیجیئے گا، ہم تبدیلی کے بدخواہ بہت شور مچائیں گے۔ شور مچانے سے آپ گھبراتے تو نہیں لیکن آپ کے محسن نہ تو بہت مقبول لیڈر پسند کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے غیر مقبول جن پر ہر وقت شور مچایا جاتا ہو۔ شور مچانا آسان اور اس سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔ کان پھٹنے سے پہلے ہی اقتدار کا صفحہ پھٹ جاتا ہے۔ کچھ بھی نہیں پھٹنا چاہیئے ورنہ نقصان قوم کو ہوگا۔

Spread the love
  • 8
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں