قبروں کے قبرستان

قبرستان

(نوید نسیم)

پاکستان میں رہتے ہوئے وہ وقت دور نہیں جب قبرستانوں میں تدفین کے لیے جگہ بھی آسان ماہانہ اقساط پر دستیاب ہوگی اور اخبارات، بہترین سہولیات سے آراستہ اور شہر سے قریب ترین قبرستانوں کی اسکیموں کے اشتہارات سے بھرے ہوئے ہوں گے۔

اگر ہمارے قبرستانوں کا حال دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں صرف زندہ لوگوں کی بھرمار ہی نہیں بلکہ قبرستان بھی مقررہ قبروں کی تعداد سے تجاوز کر چکے ہیں اور سڑکوں کے علاوہ قبرستان بھی ناجائز قبروں کا شکار ہیں۔ جس کی وجہ بھی یقیناً منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکثریتی قبرستانوں میں تو قبریں بھی وقت کے ہاتھوں اور جگہ کی کمی کی وجہ سے دفنا دی جاتی ہیں۔ تہہ در تہہ قبریں دفنانے کا یہ عمل سالوں سے جاری ہے اور حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ عمل یونہی جاری رہے گا۔

حالات تو اب یہ ہو چکے ہیں کہ بوقتِ ضرورت مطلوبہ قبرستان میں قبر دستیاب نہیں ہوتی اور بڑی تگ و دو کے بعد گورکن کو رشوت لگا کر قبرستان کے کسی کونے میں بذریعہ چائنہ کٹنگ قبروں کے درمیان جگہ بنائی جاتی ہے یا پہلے سے موجود قبر کو دفناتے ہوئے نئی قبر تعمیر کی جاتی ہے۔

لاہور شہر کے پرانے قبرستانوں میں تدفین کے لیے جگہ حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور تدفین کے لیے جانے والے بل کھاتی پگڈنڈیوں اور مختلف کچی و پکی قبروں میں سے ہوتے ہوئے کھودی گئی قبر تک پہنچتے ہیں، جہاں سے واپسی گورکن کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔

شہر کے مہنگے علاقوں میں تو قبرستانوں کے منتظمین مرحوم کا شناختی کارڈ دیکھ کر دفنانے کی اجازت دیتے ہیں اور اگر مرنے والے کے شناختی کارڈ پر اس کے گاؤں کا پتہ درج ہو تو معذرت کرتے ہوئے مشورہ دیا جاتا ہے کہ مرحوم کو ان کے آبائی قبرستان میں ہی دفنانا چاہیئے۔ مرحوم کی اولاد کے شناختی کارڈ پر مذکورہ پتہ درج ہونے کے باوجود کہا جاتا ہے کہ وفات تو آپ کے والد یا والدہ کی ہوئی ہے اللہ آپ کو لمبی زندگی دے جب آپ کی وفات ہوگی تو آپ کو قبر کے لیے جگہ مہیا کردی جائے گی۔

لاہور کینٹ کے علاقے میں موجود قبرستانوں میں تدفین کے لیے اجازت کنٹونمنٹ بورڈ سے لینی پڑتی ہے جس کے لیے پیسے کے ساتھ کسی حاضر سروس فوجی افسر کی سفارش درکار ہوتی ہے۔ ان قبرستانوں میں قبر کا حصول مشکل ہونے کی وجہ سے قبرستانوں کے حالات قدرے بہتر ہیں۔

ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور میں قائم قبرستانوں میں بھی تدفین کے لیے بہت سخت قوانین بنائے گئے ہیں اور ڈی ایچ اے کے قبرستانوں میں ممبرز کے صرف والدین، بیٹے اور بیٹیوں کی تدفین ہی کی جاسکتی ہے۔ داماد، بہو، پوتے پوتیوں، دادا اور دادی کی تدفین کی اجازت کا مطالبہ ڈی ایچ اے کی جانب سے مسترد کردیا گیا تھا۔

loading...

موجودہ قوانین کے مطابق ڈی ایچ اے کے ممبرز کو شناختی کارڈ اور الاٹمنٹ لیٹر کی فوٹو کاپیز کے ساتھ درخواست دینی پڑتی ہے جس کے بعد گورکن کے لیے رسید دی جاتی ہے۔ دوسری سہولیات جیسے ایمبولینس، سٹریچر، چادر اور چارپائی مہیا کی جاتی ہیں۔ قبر کو پکا کروانے کے لیے مزید ایک درخواست دینی پڑتی ہے جس کے بعد متعلقہ عملہ ضابطہء کار کے مطابق قبر کو پکا کرتا ہے۔

دوسری جانب پنجاب کی گزشتہ حکومت نے بڑے شہروں میں ماڈل قبرستان “شہرِ خموشاں” بنانے کا منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت لاہور کے علاوہ ملتان، راولپنڈی، سرگودھا اور فیصل آباد میں یہ ماڈل قبرستان بنائے جانے تھے۔

ان ماڈل قبرستانوں میں ون ونڈو آپریشن کے تحت ٹول فری ہیلپ لائن، میت لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ، لواحقین کے لیے ٹرانسپورٹ، غسل کے انتظامات، جنازہ گاہ اور سرد خانے کی سہولیات مہیا کیے جانے کا منصابہ شامل تھا۔ ماڈل قبرستانوں میں لینڈ سکیپنگ، ایک جیسے کتبے، قبروں کے درمیان مناسب جگہ، قبروں تک رسائی کے لئے پگڈنڈیاں، مکمل گھاس اور قبرستانوں کے باہر بینچز ہوں گی جبکہ قبروں کے اوپر قبریں اور بیرونی مداخلت روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ ماڈل قبرستانوں میں لوگوں کے لیے یہ سہولت بھی رکھی جانے کا منصوبہ تھا کہ وہ پورا پلاٹ اپنے خاندان کے لیے بک کروا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماڈل قبرستانوں اور نادرا کے مابین بھی رابطہ ہوگا اور ہندوؤں اور سکھوں کی تدفین کے لیے علیحدہ جگہ ہوگی۔

پنجاب کی گزشتہ حکومت کی جانب سے تو قبرستانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے کیے جو یقینی طور پر بڑھتی آبادی کو دیکھتے ہوئے قلیل ثابت ہوئے مگر کم از کم پنجاب حکومت نے اس سنگین مسئلے پر سوچا تو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کو بہتر سے بہتر گزارنے کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اپنے پیاروں کی وفات کے بعد ان کی تدفین بھی یقیناً ایک اہم فریضہ ہے اور اس کے لیے قبرستانوں کی منصوبہ بندی کی بھی اشد ضرورت ہے۔

اگر آج کے شہرِ لاہور کو دیکھا جائے تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ لاہور پھیلتا جارہا ہے۔ ایک طرف لاہور واہگہ بارڈر تک پہنچ چکا ہے اور دوسری طرف قصور لاہور شہر کا حصّہ لگنے لگا ہے۔ ملتان روڈ پر بھی نئی تعمیر ہونے والی سوسائیٹیز بھائی پھیرو (پھولنگر) تک پہنچنے کو ہیں۔

مگر حیران کن طور پر ان سوسائٹیوں کے منتظمین قبرستانوں کے لیے جگہ وقف نہیں کر رہے اور ان دور دراز کی رہائشی سوسائٹیوں میں سکونت اختیار کرنے والے بھی ویسے سوسائٹی کا اتخاب کرتے وقت دیکھتے ہیں کہ بچے کس اسکول میں جائیں گے، گھر کا سازوسامان کس مارکیٹ سے آئے گا، بوقتِ ایمرجنسی قریب ترین ہسپتال کون سا ہوگا، مگر گھر کے کسی بھی فرد کا دھیان قریب ترین قبرستان کی طرف نہیں جاتا اور یہی وجہ ہے کہ کسی اپنے کی وفات کی صورت میں اسے گھر سے دور قبرستان میں دفنایا جاتا ہے جہاں نہ جانا آسان ہوتا ہے اور نہ قبر حاصل کرنا۔

بشکریہ ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی

Spread the love
  • 6
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں