ریاست اور سیاست:اپوزیشن کا دانشمندانہ فیصلہ

اپوزیشن

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا لیکن اس کے بعد ججوں کی حفاظت کیلئے کیا اقدام ہوا۔ رہا ہونے والی آسیہ کیلئے کیا اقدام کیا گیا۔ وزیراعظم، وزیر داخلہ اور ذمہ داران کو جواب دینا ہوگا۔ توقع تھی کہ جو صورتحال ہے اس پر وزیراعظم ایوان کو بریفنگ دیں۔ بتائیں امن و امان کی صورتحال کیا ہے حکومت کا کیا پلان ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان جل رہا ہے اور وزیراعظم پارلیمنٹ سے غائب ہیں، امن و امان کی صورتحال شہریوں کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ ہم یہ کہنے آئے تھے کہ قدم بڑھا عمران خان ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں، پارلیمنٹ کے ساتھ ہیں۔دریں اثناء پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہاہے عمران خان کے خطاب سے معاملے کا جس کو پتہ نہیں تھا اسے بھی معلوم ہوگیا ملک میں نارمل صورتحال نہیں کبوتر کی طرح ہماری آنکھیں بند ہیں سوشل میڈیا پر سب نظر آرہا ہے۔ تقریر کی مذمت کرتا ہوں۔ وزیر اعظم کو یہاں ہونا چاہیے تھا۔ ملک میں انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ہم حکومت پر حملہ نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی لڑائی چاہتے ہیں، ہم اداروں اور ریاست کیساتھ کھڑے ہیں۔ہم چاہتے ہیں حالات تبدیل ہوں پارلیمنٹ سے یکجہتی کا پیغام جانا چاہیے۔

کسی بھی ریاست، ملک یا قوم کے لئے قومی مفاد سب سے مقدم ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے کہ قوموں کی صورت گری اور بقا قومی مفاد میں مضمر ہے ، جو قومیں ذاتی، فروعی، علاقائی، لسانی تعصبات اور ایسی دیگر آلائشوں سے ماورا ہو کر سوچتی اور عمل کرتی ہیں دنیا میں عزت پاتی ہیں۔ پاکستان سردست جن بحرانوں سے دو چار ہے ان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر مسا ئل کا سامنا کرے۔ صد شکر کہ اس وقت ملک میں جمہوریت اپنے تیسرے عہد میں داخل ہوچکی ہے اور جوں جوں آگے بڑھے گی مضبوط و ثمربار ہوگی ۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن نے حکومت کو معاشی مشکلات اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے جس کا تحریک انصاف کی طرف سے خیر مقدم کرنا بھی احسن بات ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ انتخابی جلسوں اور امور حکومت چلانے میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔ سیاست میں کوئی شے حرف آخر نہیں ہوتی سیاست تو نام ہی مسائل کو باہمی گفت و شنید سے حل کئے جانے بلکہ ناممکن کو ممکن بنانے کا ہے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی قومی اسمبلی میں تقریریں بلاشبہ قابل غور ہیں، جو ان کی سیاسی بصیرت کی آئینہ دار بھی ہیں ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا اقدام نہ صرف احسن بلکہ دوسروں کے لئے قابل تقلید ہے کہ معاملہ اس وقت ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ہے اور ملک صرف عمران خان کا نہیں ہم سب کا ہے۔ عمران خان کی حکومت آج ہے کل نہیں بھی ہوگی، ملک و قوم تو دائمی ہے ، بہتر ہوگا کہ دیگرپارلیمانی سیاسی جماعتیں بھی پیپلز پارٹی کا سا طرز عمل اپنائیں اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔

loading...

ملک کو در پیش ایک ہنگامی کیفیت میں ریاست یا سیاست کے مسئلہ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ریاست اور اس کے مفادات کو عزیز جاننے اور اس کیلئے اپنے کردار کی ادائیگی کے عزم کو ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے ۔ حالات و واقعات کی سنگینی بھی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ یہ وقت کسی طور سیاست کا نہیں اور سیاست بھی نہیں چلے گی جب ریاست میں عدم استحکام ہوگا۔ آسیہ کیس کا فیصلہ خالصتاً عدالتی فیصلہ ہے۔

ایسی صورتحال میں ضروری تھا کہ ریاست کی رٹ قائم ہو اور پیغام یہی جائے کہ ریاست کمزور نہیں۔ اچھا ہوا کہ حکومت نے ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اپوزیشن سمیت مظاہرین سے رابطوں کا سلسلہ شروع کیا اور اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کے ذمہ داران مسلم لیگ (ن )کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی طرز عمل پر شدید تحفظات کے باوجود حکومت سے تعاون کا اعلان کرتے ہوئے فہم و فراست اور سیاسی حکمت عملی سے کام لینے کا مشورہ دیا اور واضح کیا کہ طاقت کا استعمال کسی طور پر نہیں ہونا چاہئے اور نہ اس کی حمایت کی جا سکتی ہے۔

اچھا ہوا کہ مشکلات سے دو چار منتخب حکومت نے اپوزیشن کا مشورہ مانا اور نئی پیدا شدہ صورتحال پر اپوزیشن سے مشاورت کا عمل جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ بنیادی سوالات یہ سامنے آ رہے ہیں کہ آخر کیا وجوہات ہیں کہ متعدد بار ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے جس سے پاکستان کی جگ ہنسائی کے ساتھ دنیا بھر میں پاکستانیوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔ ریاست کی طاقت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے والے کون ہیں اور انہیں کن کن کی آشیرباد حاصل ہے ۔ حکومتیں ایسی صورتحال پر کیونکر قابو نہیں پا سکتیں جس بنا پر سکیورٹی اداروں کی خدمات لینا پڑتی ہیں۔

اس نازک صورتحال میں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے حکومت کیلئے مشکلات کھڑی کرنے کے بجائے خود ان سے تعاون کا اعلان کر کے ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے اور اس عمل کا خود حکومت کو خیر مقدم کرنا چاہئے ،البتہ خود وزیراعظم عمران خان کو بھی ایسی کسی صورتحال میں زیادہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہئے ۔جہاں تک اس ایشو پر طاقت کے استعمال حکومتی رٹ کیلئے ممکنہ اقدامات بروئے کار لانے کے عمل کا سوال ہے تو یہ ایک حساس اور جذباتی معاملہ ہے اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے طاقت نہیں حکمت سے کام لینے کی ضرورت ہے اور مذاکراتی عمل کیلئے حکومت کو اپنے سنجیدہ ذہن کو بروئے کار لانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ایک جانب مفاہمتی کوشش اور کاوشیں جاری ہوں تو دوسری جانب یہ کہا جا رہا ہو کہ کوئی دھوکے میں نہ رہے ،عقل مند اشارہ سمجھیں، تو اس سے اچھے نتائج پیدا نہیں ہوں گے بلکہ خود حکومت کیلئے مشکلات بڑھیں گی ، خدانخواستہ اس حساس اور جذباتی مسئلہ پر طاقت اور قوت کا استعمال سامنے آتا ہے تو اس سے وقتی طور پر تو ٹھہرا آ جائے گا لیکن ایک مستقل مسئلہ درپیش رہے گا۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست پاکستان کو ہر قیمت پر برقرار رہنا ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں