امیر عورت کے بھیک مانگتے کی حیران کن وجہ سامنے آگئی

بھیک
loading...

چین کی 79 سالہ دادی جی کا زیادہ تر وقت ہانگزو کے ریلوے اسٹیشن پر بھیک مانگتے گزرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھیک مانگنے والی یہ خاتون کافی امیر ہیں۔

یہ پانچ منزلہ ذاتی بلڈنگ میں رہتی ہیں۔ شہر میں ان کی کئی جائیدادیں ہیں، جو انہوں نے کرائے پر دی ہوئی ہیں۔
حال ہی میں ہانگزو کے ایسٹ ریلوے اسٹیشن نے لاؤڈ سپیکروں پر اعلان کرنا شروع کر دیا ہے کہ بوڑھی خاتون فقیر کے دھوکے کا شکار ہو کر انہیں بھیک نہ دی جائے۔

بوڑھی خاتون کے بیٹے نے رپورٹروں کو بتایا کہ ان کا خاندان چین کے عام خاندانوں سے زیادہ دولت مند ہے، وہ ایک پرتعیش ولا میں رہتے ہیں۔

انہوں نے کئی جائیدادیں کاروباری اداروں کو کرائے پر دی ہوئیں ہیں اور وہ خود بھی ایک فیکٹری چلاتا ہے۔ بوڑھی خاتون کے بیٹے کے مطابق انہوں نے لاتعداد بار اپنی ماں کو بھیک مانگنے سے روکا ہے، لیکن وہ سنتی ہی نہیں۔

بوڑھی خاتون کے بیٹے نے کئی بار اپنی ماں کو کہا کہ اسے اپنی عزت کی پرواہ نہ ہو لیکن ان کے بیٹے کو تو ہے۔ بیٹے نے مزید کہا کہ وہ اپنی ماں کو مزے دار کھانے پیش کرتا ہے لیکن ان کی ماں باہر جا کر بھیک مانگنےکی ضد کرتی ہیں، حالانکہ ان کے مقامی بنکوں میں کئی اکاؤنٹ ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 79 سالہ بوڑھی خاتون نے ابتدا میں ریلوے اسٹیشن پر نقشے بیچنا شروع کیے لیکن انتطامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔

اس پر خاتون نے بھیک مانگنا شروع کر دی۔ خاتون ہر صبح 10 بجے ریلوے اسٹیشن پر آتی ہیں اور رات 8 بجے تک وہیں رہتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ بھیک سے روز کے 300 یوان جمع کر لیتی ہیں۔

اپنی ماں کو بھیک مانگنے سے روکنے کے لیےان کے بیٹے نے ان کی تصاویر مقامی افراد میں تقسیم کی اور انہیں بتایا کہ اس خاتون کو بھیک نہ دیا کریں، یہ پہلے ہی کافی امیر ہے۔

تصویر بانٹنے کا زیادہ اثر نہیں ہوا تو اب ریلوے اسٹیشن نے معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ ریلوے اسٹیشن انتظامیہ لاؤڈ سپیکروں پر اعلان کرتی ہے کہ ایک بوڑھی خاتون اپنی عمر سے لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اس کی مالی حیثیت بہت بہتر ہے، اس لیے اس کے دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ بوڑھی خاتون کے بارے میں خبریں قومی میڈیا پر آئیں تو اس حوالے سے چین سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو گئی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بوڑھی خاتون دھوکے سے بھیک مانگ کر غریبوں کا حق مار رہی ہیں جبکہ بہت سے لوگوں کے مطابق وہ ایسا اپنی تنہائی اور بوریت دور کرنے کے لیے کرتی ہیں۔

لوگوں نے بوڑھی خاتون کے بیٹے کو بھی الزام دیا کہ وہ اپنی ماں کو زیادہ وقت نہیں دیتا تاہم بیٹے نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ماں ان کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔

بوڑھی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ گھر پر فارغ نہیں بیٹھ سکتی، وہ اتنی رقم کمانا چاہتی ہے کہ مزید بوڑھا ہونے پر اپنے لیے کسی نرس کو خود ہی ہائر کر سکیں۔

بوڑھی عورت کے اس دعوے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے بنک اکاؤنٹس میں تو پہلے ہی کافی رقم موجود ہے، وہ اس جمع کی ہوئی رقم کا کیا کرے گی؟

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں