قرض اور مہنگائی:عوام کہاں جائیں؟

24th Nov 2018 -آج کا کارٹون

آئی ایم ایف سے قرض کے حصو ل کیلئے حکومت نے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی، سوئی ناردرن نے عالمی مالیاتی ادارے کی شرط پوری کرنے کے لیے اوگرا کو گیس مزید مہنگی کرنے کی درخواست دے دی۔سوئی ناردرن گیس کمپنی نے موقف اختیا رکیا ہے کہ گیس کی قیمت میں 215 روپے جبکہ ایل این جی کی قیمت میں 103 روپے فی مکعب فٹ اضافہ کیا جائے۔
رواں مالی سال کے لیے 91 ارب روپے درکار ہیں، لہذا گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی جائے۔گیس چوری کا نقصان بھی صارفین سے وصول کیا جائے۔ اوگرا درخواست کی سماعت 10 دسمبر کو کرے گی، منظوری کی صورت میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق رواں سال یکم جولائی سے ہوگا۔قبل ازیں ڈالر 142 چھوکر 138روپے پر آگیا، سٹیٹ بینک نے سود 8.50 سے بڑھا کر 10فیصد کردیا۔ سونے کی قیمت 64ہزار تولہ سے بڑھ گئی،سو نے کی قیمت میں ایک ہزار روپے فی تولہ اضافہ دیکھاگیا۔سٹیٹ بینک کاکہناہے کہ مالی سال 2019کے پہلے 4ماہ کے دوران مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ہے،ملکی زر مبادلہ کے ذخائربڑھ کر 14 ارب 57 کروڑ ڈالر ہو گئے۔

تحریک انصاف بلند بانگ دعوؤں اور وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی عوام نے انکے وعدوں پر اعتبار کیا اور دو پارٹی سسٹم کا طلسم قصہ پارینہ بن گیا۔اس حکومت کی خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ اسے ہولناک دہشت گردی جیسے حالات کا سامنا نہیں ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بھی یہ حکومت محفوظ ہے۔ دہشت گردی اور توانائی کی قلت سرمایہ کاری اور کاروبار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کی سرمایہ کاری و درآمدی پالیسیوں میں یہ بہترین معروضی حالات میں معاون ثابت ہونگے۔ تحریک انصاف حکومت کے ایجنڈے سے عوام نے اپنے مسائل کے حل کیلئے توقعات وابستہ کی تھیں۔ عوام تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے پہلے روز سے ریلیف کی امید لگائے ہوئے تھے۔

قوم کا ہر فرد سیاسی شعور اور عقل و دانش کے حوالے سے ارسطو نہیں ہے۔ خواندگی کی شرح بھی ہمارے ہاں واجبی سی ہے۔ سودوزیاں کا جائزہ لینے کیلئے تعلیم کی بنیادی اہمیت ہے۔ سیاست میں مفاہمت کم اور تعصب اور نفرتیں زیادہ نظر آتی ہیں جو کبھی تو قومی مفادات پر بھی حاوی ہوجاتی ہیں۔ ہر پارٹی اور اتحاد اپنا نکتہ نظر بیان کرنے میں آزاد ہے مگر اس کو جس زاویے سے پیش کیا جاتا ہے اس سے پڑھے لکھے لوگوں کیلئے بھی حقائق کی تہہ تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حکومت کو اپنے ابتدائی دنوں میں مشکل صورتحال کا سامنا تھا جس میں معیشت کی زبوں حالی سرفہرست تھی۔

فوری ادائیگیوں کا بحران سر پر تلوار کی طرح لٹک رہا تھا۔ حکومت کی پوری توجہ اسی طرف مرکوز تھی۔ اسکے ساتھ ضمنی بجٹ بھی پیش کرنا تھا بجٹ کسی حکومت کیلئے کبھی خوشگوار فریضہ نہیں رہا۔ عوام مراعات کی توقع لئے ہوتے ہیں، حکومت متوازن بجٹ پیش کرنا چاہتی ہے، اپوزیشن کی نظر حکومت کی کمزوریوں پر ہوتی ہے۔ آج عددی اعتبار سے حکومتی اور اپوزیشن اتحادمیں زیادہ فرق نہیں ہے اور پھر سیاسی مفاہمت تحمل اور برداشت کی فضا حبس زدہ ہے۔ صورتحال کو سیاسی مزاحمت کی اس سطح پر لانے اور برقرار رکھنے میں حکومتی اکابرین بھی اپوزیشن سے کم فعال نہیں ہیں۔ بجٹ میں حکومت شاید عوام کو خاطرخواہ ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی کئی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔ دو روز پہلے ہی پٹرولیم نرخوں میں اضافے کی سمری رکھی گئی تو اسے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم عوام پر ستم ڈھانے نہیں اسے ریلیف پہنچانے آئے ہیں۔ اس سے عوام کے دل میں حکمرانوں کیلئے پرجوش اور نیک جذبات کا امڈ آنا فطری امر تھا مگر یہ خوش فہمی اس وقت کافور ہوگئی جب بجلی و گیس کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ ہوا۔

ڈالر ایک بار پھر یکدم مہنگا ہوگیا۔ ایسے معاملات سے مہنگائی کا طوفان تو آنا ہی تھا جس کے آگے حکومت اب تک بند نہ باندھ سکی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی سی کمی کی گئی ہے جبکہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق آج بھی پٹرولیم پر ٹیکس 30 روپے فی لٹر سے زائد ہے۔ عالمی مارکیٹ میں کمی کے تناسب سے فی لٹر آٹھ سے نو روپے کمی کی جاسکتی ہے۔

حکومت کے ابتدائی دنوں میں ہی بجلی و گیس مہنگی ہونے پر اس پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہیں 100 دن کام کرنے دیا جائے اسکے بعد جوابدہی کرلیں۔ اسکے بعد تنقید کی کچھ تلواریں کسی حد تک میان میں چلی گئیں کئی کی دھار مزید تیز ہوگئی۔ بہرحال حکومت کے 100 دن مکمل ہوئے جس پر حکومتی حلقے جشن مناتے نظر آئے۔ اس دوران بعض بڑے اقدام نظر آئے بیرون ممالک سے لوٹی دولت واپس لانے کی کوششیں کی گئیں۔وزیر اعظم ایک بار پھر ان اقدامات پر عمل کا اعلان کررہے ہیں۔ ہاؤسنگ سکیم اور شیلٹر ہومز کے منصوبوں کی بنیادیں رکھی گئیں۔ جعلی اکاؤنٹس پکڑے گئے قبضہ مافیا کیخلاف کارروائیاں تیز ہوئیں۔ 100 دن میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ سکتی تھیں نہ ہی کسی کو ایسی توقعات تھیں۔ 100 دن میں حکومتی ایجنڈے کی سمت متعین کی جا سکتی تھی جو حکومت کے بقول متعین ہوگئی ہے۔

عوام کو ریلیف حکومتی پروگرام اور منصوبوں کی تکمیل سے ملے گا۔وزیراعظم کہتے ہیں کہ آنیوالے دن آسان نہیں مشکل ہیں، عام آدمی تو آج بھی مہنگائی کی صورت میں مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ اسے شیلٹر ہومز، جعلی اکاؤنٹس، چین سعودی عرب سے امدادی پیکیجز، مافیا کیخلاف سخت کارروائیوں سے نہیں بہلایا جا سکتا۔ اسے اپنی روٹی روزی کی فکر لاحق ہے، مہنگائی سے عام آدمی جانکنی کے عالم میں ہے۔ اسے ایسے معاملات میں بلاتاخیر ریلیف کی ضرورت ہے۔ دوسری صورت میں اپوزیشن عوام کی آواز بنتی ہے تو اس حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا جسے قومی اسمبلی میں محض چند ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ عمومی تاثر ہے کہ حکومت عوام کو 100 دن میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں کر سکی ۔ مہنگائی کا جادو تو پہلے ہی سرچڑھ کر بول رہا ہے۔گزشتہ سودنوں میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی زیادہ تر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں 65 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ اب سردی کے اس موسم میں گیس کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے تو یہ مرے کو مارے شاہ مدار کے مترادف اور مہنگائی کے ذریعے عوام کو اشتعال دلانے والا اقدام ہو گا۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں