انتخابات میں ’دھاندلی‘: اپوزیشن کے ٹی او آرز پر آج غور ہوگا

Combined-Opposition

اسلام آباد: 25 جولائی کے عام انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا، جس میں کمیٹی کو فعال کرنے سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کے پیش کردہ ٹرم آف ریفرنسز (ٹی او آرز) پر غور کیا جائے گا۔

ایک رپورٹ کے مطابق قبلِ ازیں یہ اجلاس 28 نومبر کو ہونا تھا جسے کرتار پور راہداری کے سنگِ بنیاد کی تقریب میں وزرا کی شرکت کے باعث ملتوی کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ٹی او آرز جمع کروائے جانے کے باوجود کمیٹی میں شامل حکومتی اراکین، آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت اس کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

چند روز قبل وفاقی وزیر برائے تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود کی کنوینر شپ میں پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں اپوزیشن جماعتوں نے 10 نکاتی ٹی او آرز جمع کروائے تھے جن میں انتخابات کے انعقاد پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔

یہ ٹی او آرز پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی جانب سے تیار کیے گئے تھے جس پر پاکستان مسلم لیگ(ن) سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے حمایت کا اعلان کیا۔

اس حوالے سے منعقد ہونے والے دوسرے ان کیمرہ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا تھا کہ گزشتہ اجلاس میں کچھ کمیٹی اراکین کی جانب سے آئین کی دفعہ 225 کی روشنی میں کمیٹی کی قانونی اور آئینی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر قانونی رائے حاصل کرنے کے لیے مرکزی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کو خط ارسال کردیا تھا تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے جواب موصول نہ ہونے کے باوجود کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ حکومت یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کے وہ تحقیقات سے بھاگ رہی ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن اراکین نے کمیٹی کے قیام کے قانونی جواز کے حوالے سے سوالات اٹھانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ حکمراں جماعت اپنے وعدے سے فرار ہونے کی کوشش کررہی ہے۔

اس بارے میں ڈان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی تک پرویز خٹک کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے اراکین نے بھی ٹی او آر کا مسودہ تیار کیا ہے لیکن اسے حتمی شکل کمیٹی کی کارروائی سے قبل ہونے والے اجلاس میں دی جائے گی۔

اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے ٹی او آرز میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں اس میں یہ پوچھا گیا کہ ’کس قانون کے تحت اور کس نے پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا حکم دیا؟’

امیدواروں کی جانب سے بھیجے گئے پولنگ ایجنٹس کو زبردستی پولنگ اسٹیشنوں سے باہر کیوں نکالا گیا؟، رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) یا رزلٹ مینجمنٹ سسٹم ( آر ایم ایس) کیوں ناکام ہوا؟

اپوزیشن کے مطابق کمیٹی کو اس بات کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ کیا الیکشن کمیشن کو قانون اور آئین کے مطابق انتخابات کا انعقاد کروانے کے لیے آزادانہ کام کرنے کی اجازت اور خودمختاری حاصل تھی؟ اور الیکشن کمیشن پاکستان اور دیگر اداروں نے انتخابی ایکٹ برائے سال 2017 پر عمل کیا؟

اپوزیشن کی جانب سے یہ بھی تجویز پیش کی گئی کہ کمیٹی اس بات کی تحقیقات کرے کہ آیا تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو برابر سطح پر مہم چلانے کے مواقع فراہم کیے گئے اور آدھی رات کے بعد کتنے نتائج کا اعلان کیا گیا اور نتائج کو قانون کے مطابق تحریری طور پر فراہم کیوں نہیں کیا گیا۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں