پیرس میں ٹیکسوں کے خلاف احتجاج پر تشدد مظاہروں میں تبدیل

پیرس
loading...

پیرس: فرانسیسی حکومت کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج پیرس میں پہنچنے کے بعد پرتشدد صورت اختیار کر گیا جہاں مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسز کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج دارالحکومت پیرس تک پہنچ گیا جہاں گزشتہ روز مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران کئی افراد زخمی ہوگئے۔

مظاہرین نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا جب کہ مشتعل افراد نے پیٹرول چھڑک کر کئی گاڑیوں کو بھی آگ لگادی، دارالحکومت میدان جنگ بنا تو صدر ایمانیول میکرون نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور کابینہ سے مشاورت بھی کی۔

صدارتی ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ایمانیول میکرون نے وزیراعظم ڈوارڈ فلپ کو سیاسی رہنماؤں اور مظاہرین سے مذاکرات کا حکم دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر میکرون نے وزیر داخلہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی احتجاج سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کو تیار رکھیں۔

صدارتی ہاؤس کے ذرائع کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ صدر میکرون قوم سے خطاب نہیں کریں گے اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اجلاس میں تجویز پر بات چیت بھی نہیں ہوئی۔

دارالحکومت پیرس میں ہونے والے ہنگاموں کو اس دہائی کے بدترین مظاہرے قرار دیے جارہے ہیں جس میں سیکڑوں افراد زخمی اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی گئی ہے۔

فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ منگل کو سینیٹ میں ٹیکس کے خلاف احتجاج  کے پرتشدد صورت حال اختیار کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا اور اسے روکنے کے لیے اقدامات اور نقصانات سے متعلق بھی بریف کیا جائے گا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں