بل گیٹس کا غربت کم کرنے کا “چکن منصوبہ” تنقید کا شکار

بل گیٹس

کراچی: دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کا’چکن‘ سے غربت کے خاتمے کا نظریہ برازیل میں قابل قدر توجہ حاصل نہ کرسکا، امریکی ماہر معاشیات نے اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بنیادی اقتصادی اصولوں کے خلاف قرار دیا۔

برازیل کی طرف سے سستے داموں چکن کی فراہمی بل گیٹس کے اس منصوبے کو بھی نمایاں کامیاب نہ کراسکی۔دنیا بھر میں غربت کے خاتمے کیلئے لائیو اسٹاک نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ زمبا بوے ، موزمبیق،گھانا اور یوگنڈا سمیت کئی ممالک میں گھرانے درجنوں اور سیکڑوں مرغیاں پالتے ہیں لیکن ان کی سالانہ آمدنی ایک ہزار ڈالر تک نہیں پہنچ پاتی۔

بیس کروڑ سالانہ مرغیاں پیدا کرنے والے بولیویا نے بل گیٹس کی پیش کش یہ کہہ کرٹھکرادی کہ ان کے پاس سالانہ چار کروڑ اضافی مرغیاں ہوتی ہیں،یہ غربت کے خاتمے کا حل نہیں۔بکریاں اور مرغیاں دینے کے ساتھ بنیادی تربیت والے گھرانوں نے سالانہ 82 ڈالر کمائے جب کہ ان پر خرچ 1700 ڈالرا ٓئے۔ بل گیٹس کاکوپ ڈریمز اور آڈبریچٹ کا ملین چکن کا منصوبہ کبھی غربت کو ختم کرنے میں کردارادا نہیں کرسکا۔

بل گیٹس کی اہلیہ ملیندہ گیٹس نے چکن کو غریبوں کا اے ٹی ایم قرار دیا۔عالمی ذرائع ابلاغ کی متعدد تجزیاتی رپورٹس کے مطابق مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے2016 میں ‘چکن’ سے غربت کے خاتمے کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے سب صحارا افریقی ممالک کے 30 فیصد دیہی خاندانوں کو ایک لاکھ مرغیاں عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔

بل گیٹس نے اس حوالے ایک مثال دیتے ہوئے کہاکہ فرض کریں ایک کسان پانچ مرغیاں پالتا ہے اور اس کے پڑوسی کے پاس ایک مرغا موجود ہے تو صرف تین مہینے میں اس کے پاس چالیس چوزے موجود ہوں گے جبکہ یہی چوزے مرغی بنیں گے تو ان کی قیمت پانچ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ اس طرح سات سو ڈالر سالانہ کمانے والا باآسانی ایک ہزار ڈالر سالانہ کما سکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جب مرغیوں کی تعداد بڑھے گی تو ان کے لیے خوراک کہاں سے آئے گی اور کیا مرغیوں کے لیے خوراک پیدا کرنے کے لیے قابل کاشت زمین کو چکن فیڈ بنانے کے لیے استعمال کرنا پڑے گا۔

مارکیٹ میں اضافی چکن کی فراہمی سے پولٹری کی قیمتوں میں کمی ہو گی۔امریکا،یورپی یونین اور برازیل کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ افریقی ممالک کی مارکیٹ میںمقامی کسانوں کے مقابلے میں کم قیمت چکن فروخت کرتے ہیں۔ گیٹس کا کوپ ڈریمز کا منصوبہ دیکھنے میں تو بہت اچھا ہے لیکن یہ حکمت عملی سب کیلئے کارگر نہیں۔

بل گیٹس کے اس نظریہ میں معاشی گہرائی اور عملی سوچ کا فقدان ہے۔گیٹس کے اس نظریے کا جواب شکاگو یونیورسٹی کے ماہر معاشیات کرس بلیٹ مین نے ایک کھلے خط کے ذریعے دیا اور اس تجویز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بل گیٹس نے بنیادی اقتصادی اصولوں کو نظر انداز کیا۔

کیونکہ مرغیوں کی زیادہ فراہمی سے مارکیٹ کی قیمتوں کے توازن میں بگاڑ پیدا ہوتا جس سے ایک ہزار ڈالر کا ہدف ناممکن ہے۔انہوں نے غربت کے خاتمے میں متاثر کن عنصر کیش قرار دیا۔ دوسال قبل نو اسکالرز نے چھ ممالک میں چھ پروگرام کے تجربات کیے جن میں انہوں غریبوں کوبکریوں اور مرغیاں دینے کے ساتھ انہیں بنیادی تربیت دی،تین سال بعد اس پروگرام میں شامل ہر گھرانے نے سالانہ80 ڈالر کمائے۔

اس پروگرام میں شامل ہر شریک کار پر اوسطاً1700 ڈالر خرچ آیا، جس میں تربیت پر زیادہ لاگت آئی۔یوگنڈا میں غریب خواتین کو 150 ڈالر امداد کے ساتھ انہیں بزنس ٹریننگ دی گئی اور اس عمل کی نگرانی کی گئی۔دوسال بعدپروگرام میں شامل گھرانوں نے سالا نہ 202 ڈالرکمائے ،تاہم اس پروگرام میں شامل ہر گھرانے پر   843 ڈالرخرچ آیا۔بل گیٹس کا شماردنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اتنے امیر نہ ہوتے اور یومیہ صرف دو ڈالر کما رہے ہوتے تو مرغیاں پال لیتے۔ انہوں نے اپنے آفیشل بلاگ پوسٹ میں تخمینہ لگایا کہ مرغیوں کی لاگت بیشتر ترقی پذیر ممالک میں 5 ڈالرز کے لگ بھگ ہوتی ہے تو روزانہ کے دو ڈالرز کو خرچ کرکے وہ ایک ماہ میں 12 مرغیاں خرید لیتے۔ چند ماہ بعد ان کے پاس درجنوں مرغیاں ہوتیں جو پیسہ کمانے کی مشین ثابت ہوتیں اور انہیں بہت زیادہ آمدنی کے ساتھ غربت کی لکیر سے باہر نکال کر درمیانے طبقے کا باسی بنا دیتی۔

انہوں نے مرغیوں کی تقسیم کے لئے ایک این جی او ہیفر انٹرنیشل کے ساتھ مفاہمتی معاہدے پر دستخط کیے۔یہ ادارہ دنیا بھر میں غریب خاندانوں میں لائیواسٹاک تقسیم کرتا ہے۔ہیفر کے سی ای او کہتے ہیں کہ گیٹس اور ہیفر نے مرغیوں کی تقسیم کیلئے ایک درجن ممالک کا انتخاب کیا جو کہ افریقی ،وسطی امریکا اور ایشیا میں ہیں جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ۔

گیٹس فاؤنڈیشن کے سنیئر پروگرام آفیسر کا کہنا ہے کہ مشرقی افریقا میں کئی کسان مرغیوں سے حاصل آمدن کے بعد گائے خریدتے ہیں، گھریلو آمدنی کا تیس سے چالیس فی صد حصہ لائیواسٹاک پر مشتمل ہے۔رپورٹ کے مطابق بل گیٹس کا خواتین کو بااختیا ر بنانے کا نظریہ ’کوپ ڈریم‘چکن سے حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک سیاسی عمل ہے،بل گیٹس نے اس کا اعتراف کیا کہ وہ کبھی بھی مرغیوں کو پالنے کے عمل سے نہیں گزرے۔ تاہم وہ سیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ویکسین کی لاگت بہت کم ہے مرغیوں کے لئے اس کی زیادہ ضرورت نہیں۔ گزشتہ تین عشروں سے برازیل نے بالکل مختلف ماڈل اپنایا اور دنیا کا دوسرا بڑا چکن پیداکرنے والا اور سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا۔لاکھوں خاندان اس سے منسلک ہیں، لیکن ان خاندانوں کاچوزوں کی فراہمی، خوراک، ادو یا ت،تکنیکی معاونت اور مارکیٹ کی ضمانت تک بڑی کمپنیوں سے معاہدے ہیں۔ برازیل کی بڑی تعمیراتی کمپنی آڈبر یچٹ جس نے ناکالہ ائیرپورٹ اور میپٹوبس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم تیا رکیا اس نے 82 ملین ڈالر کی لاگت سے چکن پیدا کرنے کا ایک منصوبہ بنایا، جس کا مقصد موزمبیق کی چکن کی ایک چوتھائی ضرورت کوپوری کرنا تھا۔

تاہم یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کرسکااور کمپنی کا مالک بدعنوانی کے الزام میں 19سال کیلئے جیل چلاگیا۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق سب صحارا افریقی ممالک میں 41 فیصد افراد خط غربت سے نیچے رہتے ہیںجن خاندانوں کی سالانہ آمدن 700 ڈالر سے کم ہو انھیں خط غربت سے نیچے تصور کیا جاتا ہے۔افریقی ملک موزمبیق میں صرف دو فی صد کسانوں کی سالانہ آمدنی ایک ہزار ڈالر ہے۔یہاں زیادہ تر کسان مرغیا ں پالتے ہیں۔

لیکن مقامی مرغیوں کے مقابلے میں برازیل یا جنوبی افریقا سے درآمد مرغیاں سستے داموں ملتی ہیں جس کی وجہ سے مقامی افراد کیلئے بل گیٹس کی پانچ مرغیوں کا نسخہ قابل قدر نہیں لگا۔ اور وہ سالانہ ان سے ایک ہزارڈالر کی بجائے صرف ایک سو ڈالر کما پاتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق زمبابوے کے اکثر گھروں میں مرغیاں پالی جاتی ہیں،لیکن ان سے خاطرخواہاں آمدنی نہیں ہوتی ، میسونگو صوبے میں ایک سروے میںچار سو گھروں اور سولہ نئے برائلر آپریشن کو شامل کیا گیا ان میں سے ہر ایک کے پاس پچاس سے سو مرغیاں تھیںجن میں سے صرف دو کی سالانہ آمدنی یک ہزار ڈالرتھی۔زیادہ تر پانچ سو ڈالر یا اس سے کم کما پاتے ہیں۔

گھانا میں بھی یہی صورت حال ہے۔ شمالی امریکی ملک بو لیو یا نے مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کی جانب سے عطیہ کی گئی مرغیاں لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پولٹری غربت کے خاتمے کا حل نہیں۔ بولیویا سالانہ 19 کروڑ 70 لاکھ مرغیاں پیدا کرتا ہے اور تین کروڑ 60لاکھ ایکسپورٹ کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دولت مند ہمیں بھکاری سمجھتے ہیں جبکہ ہماری قوم محنت کش قوم ہے جو صرف مرغیوں پر گزارا نہیں کرتی۔ بولیویا کے دیہی ترقی کے وزیر کیسر کوکاریکو نے کہا کہ ہم پانچ سو سال قبل بھی جنگلوں میں رہتے تھے،اور جانتے تھے کہ انہیں کیسے پالنا ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں