اصلی جن

منٹو

لکھنؤ کے پہلے دنوں کی یاد نواب نوازش علی اللہ کو پیارے ہوئے تو ان کی اکلوتی لڑکی کی عمر زیادہ سے زیادہ آٹھ برس تھی۔

اکہرے جسم کی، بڑی دُبلی پتلی، نازک، پتلے پتلے نقشوں والی۔ گڑیا سی۔ نام اس کا فرخندہ تھا۔ اُس کو اپنے والد کی موت کا دُکھ ہوا۔ مگر عمر ایسی تھی کہ بہت جلد بھول گئی۔ لیکن اُس کو اپنے دُکھ کا شدید احساس اُس وقت ہوا جب اُس کو میٹھا برس لگا اور اُس کی ماں نے اُس کا باہر آنا جانا قطعی طور پر بند کر دیا اور اس پر کڑے پردے کی پابندی عائد کر دی۔ اس کو اب ہر وقت گھر کی چار دیواری میں رہنا پڑتا۔

اُس کا کوئی بھائی تھا نہ بہن۔ اکثر تنہائی میں روتی اور خدا سے یہ گلہ کرتی کہ اُس نے بھائی سے اسے کیوں محروم رکھا اور پھر اس کا ابا میاں اُس سے کیوں چھین لیا۔ ماں سے اُس کو محبت تھی ٗ مگر ہر وقت اُس کے پاس بیٹھی وہ کوئی تسکین محسوس نہیں کرتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کوئی اور ہو جس کے وجود سے اُس کی زندگی کی یک آہنگی دُور ہو سکے۔ وہ ہر وقت اُکتائی اُکتائی سی رہتی۔ اب اُس کو اٹھارواں برس لگ رہا تھا۔

سالگرہ میں دس بارہ روز باقی تھے کہ پڑوس کا مکان جو کچھ دیر سے خالی پڑا تھا پنجابیوں کے ایک خاندان نے کرائے پر اُٹھا لیا۔ اُن کے آٹھ لڑکے تھے اور ایک لڑکی۔ آٹھ لڑکوں میں سے دو بیا ہے جا چکے تھے۔ باقی اسکول اور کالج میں پڑھتے تھے۔

لڑکی ان چھیوں سے ایک برس بڑی تھی۔ بڑی تنومند ٗ ہٹی کٹی ٗ اپنی عمر سے دو اڑھائی برس زیادہ ہی دکھائی دیتی تھی۔ انٹرنس پاس کر چکی تھی اُس کے بعد اس کے والدین نے یہ مناسب نہ سمجھا تھا کہ اسے مزید تعلیم دی جائے۔ معلوم نہیں کیوں؟ اُس لڑکی کا نام نسیمہ تھا۔

لیکن اپنے نام کی رعایت سے وہ نرم و نازک اور سست رفتار نہیں تھی۔ اُس میں بلا کی پھرتی اور گرمی تھی۔ فرخندہ کو اُس مہین مہین مونچھوں والی لڑکی نے کوٹھے پر سے دیکھا، جب کہ وہ بے حد اُکتا کر کوئی ناول پڑھنے کی کوشش کرنا چاہتی تھی۔ دونوں کوٹھے ساتھ ساتھ تھے۔

چنانچہ چند جملوں ہی میں دونوں متعارف ہو گئیں۔ فرخندہ کو اُس کی شکل و صورت پہلی نظر میں قطعاً پر کشش معلوم نہ ہوئی لیکن جب اُس سے تھوڑی دیر گفتگو ہوئی تو اُسے اس کا ہر خدو خال پسند آیا۔ موٹے موٹے نقشوں والی تھی، جیسے کوئی جوان لڑکا ہے۔

جس کی مسیں بھیگ رہی ہیں۔ بڑی صحت مند بھرے بھرے ہاتھ پاؤں۔ کشادہ سینہ مگر اُبھاروں سے بہت حد تک خالی۔ فرخندہ کو اُس کے بالائی لب پر مہین مہین بالوں کا غبار خاص طور پر بہت پسند آیا۔ چنانچہ ان میں فوراً دوستی ہو گئی۔ نسیمہ نے اس کے ہاتھ میں کتاب دیکھی تو پوچھا

’’یہ ناول کیسا ہے؟‘‘

فرخندہ نے کہا

’’بڑا ذلیل قسم کا ہے۔ ایسے ہی مل گیا تھا۔ میں تنہائی سے گھبرا گئی تھی۔ سوچا کہ چند صفحے پڑھ لُوں۔ ‘‘

نسیمہ نے یہ ناول فرخندہ سے لیا واقعی بڑا گھٹیا سا تھا۔ مگر اس نے رات کو بہت دیر جاگ کر پڑھا۔ صبح نوکر کے ہاتھ فرخندہ کو واپس بھیج دیا۔ وہ ابھی تک تنہائی محسوس کر رہی تھی اور کوئی کام نہیں تھا۔ اس لیے اس نے سوچا کہ چلو چند اوراق دیکھ لوں۔ کتاب کھولی تو اس میں سے ایک رقعہ نکلا جو اس کے نام تھا۔

یہ نسیمہ کا لکھا ہوا تھا۔ اسے پڑھتے ہوئے فرخندہ کے تن بدن میں کپکپیاں دوڑتی رہیں۔ فوراً کوٹھے پر گئی۔ نسیمہ نے اس سے کہا تھا کہ اگر وہ اسے بُلانا چاہے تو اینٹ جو منڈیر سے اکھڑی ہوئی تھی زور زور سے کسی اور اینٹ کے ساتھ بجا دیا کرے۔

وہ فوراً آ جائے گی۔ فرخندہ نے اینٹ بجائی تو نسیمہ سچ مچ ایک منٹ میں کوٹھے پر آگئی۔ شاید وہ اپنے رقعے کے جواب کا انتظار کررہی تھی آتے ہی وہ چار ساڑھے چار فٹ کی کی منڈیر پر مردانہ انداز میں چڑھی اور دوسری طرف کود کر فرخندہ سے لپٹ گئی اور چٹ سے اس کے ہونٹوں کا طول بوسہ لے لیا۔ فرخندہ بہت خوش ہوئی۔

دیر تک دونوں گل مل کے باتیں کرتی رہیں۔ نسیمہ اب اُسے اور زیادہ خوبصورت دکھائی دی۔ اس کی ہر ادا جو مردانہ طرز کی تھی اسے بے حد پسند آئی اور وہیں فیصلہ ہو گیا کہ وہ تادم آخر سہیلیاں بنی رہیں گی۔ سالگرہ کا دن آیا تو فرخندہ نے اپنی ماں سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنی ہمسائی کو جو اس کی سہیلی بن چکی ہے بُلا سکتی ہے اس نے اپنے ٹھیٹ لکھنوی انداز میں کہا

’’کوئی مضائقہ نہیں‘‘

بلا لو۔ لیکن وہ مجھے پسند نہیں۔ میں نے دیکھا ہے لونڈوں کی طرح کد کڑے لگاتی رہتی ہے۔ ‘‘

فرخندہ نے وکالت کی

’’نہیں امی جان۔ وہ تو بہت اچھی ہے۔ جب ملتی ہے بڑے اخلاق سے پیش آتی ہے‘‘

نواب صاحب کی بیگم نے کہا

’’ہو گا، مگر بھئی مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں لڑکیوں کی کوئی نزاکت نہیں۔ لیکن تم اصرار کرتی ہو تو بلا لو۔ لیکن اس سے زیادہ ربط نہیں ہونا چاہیے۔ فرخندہ اپنی ماں کے پاس تخت پر بیٹھ گئی اور اس کے ہاتھ سے سروتالے کر چھالیا کاٹنے لگی۔

’’لیکن امی جان ہم دونوں تو قسم کھا چکی ہیں کہ ساری عمر سہیلیاں رہیں گی۔ انسان کو اپنے وعدے سے کبھی پھرنا نہیں چاہیے‘‘

بیگم صاحبہ اصول کی پکی تھیں اس لیے انھوں نے کوئی اعتراض نہ کیا اور صرف یہ کہہ کر خاموش ہو گئیں

’’تم جانو۔ مجھے کچھ معلوم نہیں‘‘

سالگرہ کے دن نسیمہ آئی۔ اس کی قمیص دھاری دار پوپلین کی تھی۔ چست پائجامہ جس میں سے اس کی مضبوط پنڈلیاں اپنی تمام مضبوطی دکھا رہی تھیں۔ فرخندہ کو وہ اس لباس میں بہت پیاری لگی۔ چنانچہ اس نے اپنی تمام نسوانی نزاکتوں کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور اس سے چند ناز نخرے بھی کیے۔ مثال کے طور پر جب میز پر چائے آئی تو اُس نے خود بنا کر نسیمہ کو پیش کی۔ اُس نے کہا

’’میں نہیں پیتی، تو فرخندہ رونے لگی۔ بسکٹ اپنے دانتوں سے توڑا تو اُس کو مجبور کیا کہ وہ اس کا بقایا حصہ کھائے۔ سموسہ منہ میں رکھا تو اس سے کہا کہ وہ آدھا اس کے منہ کے ساتھ منہ لگا کر کھائے۔ ایک آدھ مرتبہ معمولی معمولی باتوں پر لڑائی ہوتے ہوتے رہ گئی، مگر فرخندہ خوش تھی۔

وہ چاہتی تھی کہ نسیمہ ہر روز آئے۔ وہ اس سے چہل کرے اور ایسی نرم و نازک لڑائیاں ہوتی رہیں جن سے اس کی ٹھہرے پانی ایسی زندگی میں چند لہریں پیدا ہوتی رہیں۔ لہریں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ اور ان میں فرخندہ اور نسیمہ دونوں لہرانے لگیں۔ اب فرخندہ نے بھی اپنی امی سے اجازت لے کر نسیمہ کے گھر جانا شروع کر دیا۔ دونوں اُس کمرے میں جو نسیمہ کا تھا دروازے بند کر کے گھنٹوں بیٹھی رہتیں۔ جانے کیا باتیں کرتی تھیں؟ اُن کی محبت اتنی شدت اختیار کر گئی کہ فرخندہ جب کوئی چیز خریدتی تو نسیمہ کا ضرور خیال رکھتی۔ اس کی اُمی اس کے خلاف تھی۔ چونکہ اکلوتی تھی اس لیے وہ اسے رنجیدہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔

دولت کافی تھی اس لیے کیا فرق پڑتا تھا کہ ایک کے بجائے دو قمیصوں کے لیے کپڑا خرید لیا جائے۔ فرخندہ کی دس شلواروں کے لیے سفید ساٹن لی تو نسیمہ کے لیے پانچ شلواروں کے لیے لٹھا لے لیا جائے۔ نسیمہ کو ریشمی ملبوس پسند نہیں تھے۔ اُس کو سوتی کپڑے پہننے کی عادت تھی۔ وہ فرخندہ سے یہ تمام چیزیں لیتی مگر شکریہ ادا کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتی۔ صرف مسکرا دیتی اور یہ تحفے تحائف وصول کر کے فرخندہ کو اپنی بانھوں کی مضبوط گرفت میں بھینچ لیتی اور اس سے کہتی

’’میرے ماں باپ غریب ہیں۔ اگر نہ ہوتے تو میں تمہارے خوبصورت بالوں میں ہر روز اپنے ہاتھوں سے سونے کی کنگھی کرتی۔ تمہاری سینڈلیں چاندی کی ہوتیں۔ تمہارے غسل کے لیے معطر پانی ہوتا۔ تمہاری بانھوں میں میری بانھیں ہوتیں اور ہم جنت کی تمام منزلیں طے کر کے دوزخ کے دہانے تک پہنچ جاتے۔ ‘‘

معلوم نہیں وہ جنت سے جہنم تک کیوں پہنچنا چاہتی تھی۔ وہ جب بھی فردوس کا ذکر کرتی تو دوزخ کا ذکر ضرور آتا۔ فرخندہ کو شروع شروع میں تھوڑی سی حیرت اس کے متعلق ضرور ہوئی مگر بعد میں جب وہ نسیمہ سے گھل مل گئی تو اس نے محسوس کیا کہ ان دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ سردی سے نکل اگر آدمی گرمی میں جائے تو اُسے ہر لحاظ سے راحت ملتی ہے اور فرخندہ کو یہ حاصل ہوتی تھی۔ ان کی دوستی دن بدن زیادہ استوار ہوتی گئی بلکہ یوں کہیے کہ بڑی شدت اختیار کر گئی جو نواب نوازش علی مرحوم کی بیگم کو بہت کھلتی تھی۔ بعض اوقات وہ یہ محسوس کرتی کہ نسیمہ اس کی موت ہے۔ لیکن یہ احساس اس کو باوقار معلوم نہ ہوتا۔ فرخندہ اب زیادہ تر نسیمہ ہی کے پاس رہتی۔ صبح اٹھ کر کوٹھے پر جاتی۔ نسیمہ اُسے اُٹھا کر منڈیر کے اُس طرف لے جاتی اور دونوں کمرے میں بند گھنٹوں جانے کن باتوں میں مشغول رہتیں۔

فرخندہ کی دو سہیلیاں اور بھی تھیں ٗ بڑی مردار قسم کی۔ یو پی کی رہنے والی تھیں۔ جسم چھیچھڑا سا۔ دو پلی ٹوپیاں سی معلوم ہوتی تھیں۔ پھونک مارو تو اُڑ جائیں۔ نسیمہ سے تعارف ہونے سے پہلے یہ دونوں اُس کی جان و جگر تھیں مگر اب فرخندہ کو ان سے کوئی لگاؤ نہیں رہا تھا۔ بلکہ چاہتی تھی کہ وہ نہ آیا کریں اس لیے کہ ان میں کوئی جان نہیں تھی۔ نسیمہ کے مقابلے میں وہ ننھی ننھی چوہیاں تھیں جو کُترنا بھی نہیں جانتیں۔

ایک بار اُسے مجبوراً اپنی ماں کے ساتھ کراچی جانا پڑا وہ بھی فوری طور پر نسیمہ گھر میں موجود نہیں تھی اُس کا فرخندہ کو بہت افسوس ہوا۔ چنانچہ کراچی پہنچتے ہی اس نے اُس کو ایک طویل معذرت نامہ لکھا۔ اُس سے پہلے وہ تار بھیج چکی تھی۔ اس نے خط میں سارے حالات درج کر دئیے اور لکھا کہ تمہارے بغیر میری زندگی یہاں بے کیف ہے۔ کاش تم بھی میرے ساتھ آتیں۔ اس کی والدہ کو کراچی میں بہت کام تھے۔ مگر اُس نے اُسے کچھ بھی نہ کرنے دیا۔ دن میں کم از کم سو مرتبہ کہتی

’’میں اُداس ہو گئی ہوں۔ یہ بھی کوئی شہروں میں شہر ہے۔ یہاں کا پانی پی کر میرا ہاضمہ خراب ہو گیا ہے۔ اپنا کام جلدی ختم کیجیے اور چلیے لاہور‘‘

نواب نوازش علی کی بیگم نے سارے کام ادھورے چھوڑے اور واپس چلنے پر رضا مند ہو گئی۔ مگر اب فرخندہ نے کہا

’’جانا ہے تو ذرا شاپنگ کر لیں۔ یہاں کپڑا اور دوسری چیزیں سستی اور اچھی ملتی ہیں‘‘

شاپنگ ہوئی۔ فرخندہ نے اپنی سہیلی نسیمہ کے دس سلیکس کے لیے بہترین ڈیزائن کا کپڑا خریدا۔ واکنگ شُو لیے۔ ایک گھڑی خریدی جو نسیمہ کی چوڑی کلائی کے لیے مناسب و موزوں تھی۔ ماں خاموش رہی کہ وہ ناراض نہ ہو جائے۔ کراچی سے لاہور پہنچی تو سفر کی تھکان کے باوجود فوراً نسیمہ سے ملی مگر اُس کا منہ سوجھا ہوا تھا۔ سخت ناراض تھی کہ وہ اس سے ملے بغیر چلی گئی۔

فرخندہ نے بڑی معافیاں مانگیں۔ ہر سطح سے اُس کی دلجوئی کی مگر وہ راضی نہ ہوئی اس پر فرخندہ نے زارو قطار رونا شروع کر دیا اور نسیمہ سے کہا کہ اگر وہ اسی طرح ناراض رہی تو وہ کچھ کھا کر مر جائے گی۔ اس کا فوری اثر ہوا اور نسیمہ نے اس کو اپنے مضبوط بازوؤں میں سمیت لیا اور اُس کو چومنے پچکارنے لگی۔

دیر تک دونوں سہیلیاں کمرہ بند کر کے بیٹھی پیار محبت کی باتیں کرتی رہیں۔ اس دن کے بعد ان کی دوستی اور زیادہ مضبوط ہو گئی۔ مگر فرخندہ کی ماں نے محسوس کیا کہ اس کی اکلوتی بیٹی کی صحت دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ چنانچہ اُس نے اُس کا گھر سے نکلنا بند کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرخندہ پر ہسٹیریا ایسے دورے پڑنے لگے۔ بیگم صاحبہ نے اپنی جان پہچان والی عورتوں سے مشورہ کیا تو انھوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ لڑکی کو آسیب ہو گیا ہے۔

دوسرے لفظو ں میں کوئی جن اس پر عاشق ہے جو اُس کو نہیں چھوڑتا۔ چنانچہ فوراً ٹونے ٹوٹکے کیے گئے۔ جھاڑ پھونک کرنے والے بُلائے گئے۔ تعویز گنڈے ہوئے مگر بے سود۔ فرخندہ کی حالت دن بدن غیر ہوتی گئی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ عارضہ کیا ہے۔ دن بدن دبلی ہو رہی تھی۔ کبھی گھنٹوں خاموش رہتی۔ کبھی زور زور سے چلانا شروع کر دیتی اور اپنی سہیلی نسیمہ کو یاد کر کے پہروں آنسو بہاتی۔ اس کی ماں جو زیادہ ضعیف الاعتقاد نہیں تھی۔ اپنی جان پہچان کی عورتوں کی اس بات پر یقین ہوا کہ لڑکی پر کوئی جن عاشق ہے۔

اس لیے کہ فرخندہ عشق و محبت کی بہت زیادہ باتیں کرتی تھی اور بڑے ٹھنڈے ٹھنڈے سانس بھرتی تھی۔ ایک مرتبہ پھر کوشش کی گئی۔ بڑی دُور دُور سے جھاڑنے والے بُلائے گئے دوا دارو بھی کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ فرخندہ بار بار التجا کرتی کہ اُس کی سہیلی نسیمہ کو بُلایا جائے مگر اس کی ماں ٹالتی رہی۔ آخر ایک روز فرخندہ کی حالت بہت بگڑ گئی۔ گھر میں کوئی بھی نہیں تھا۔ اس کی والدہ جو کبھی باہر نہیں نکلی تھی برقعہ اوڑھ کر ایک ہمسائی کے ہاں گئی اور اس سے کہا کہ کچھ کرے۔ دونوں بھاگم بھاگ فرخندہ کے کمرے میں پہنچیں مگر وہ موجود نہیں تھی۔ نواب نوازش علی مرحوم کی بیگم نے چیخنا چلانا اور دیوانہ وار

’’فرخندہ بیٹی، فرخندہ بیٹی‘‘

کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔ سارا گھر چھان مارا مگر وہ نہ ملی اس پر وہ اپنے بال نوچنے لگی۔ ہمسائی نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے مگر وہ برابر واویلا کرتی رہی۔ فرخندہ نیم دیوانگی کے عالم میں اوپر کوٹھے پر کھڑی تھی۔ اس نے منڈیر کی اکھڑی ہوئی اینٹ اُٹھائی اور زور زور سے اُسے دوسری اینٹ کے ساتھ بجایا۔ کوئی نہ آیا۔ اُس نے پھر اینٹ کو دوسری اینٹ کے ساتھ ٹکرایا۔ چند لمحات کے بعد ایک خوبصورت نوجوان جو نسیمہ کے چھ کنوارے بھائیوں میں سے سب سے بڑا تھا اور برساتی میں بیٹھا بی اے کے امتحان کی تیار کررہا تھا باہر نکلا اس نے دیکھا منڈیر کے اس طرف ایک دبلی پتی نازک اندام لڑکی کھڑی ہے۔ بڑی پریشان حال بال کھلے ہیں۔ ہونٹوں پر پیڑیاں جمی ہیں۔ آنکھوں میں سینکڑوں زخمی اُمنگیں سمٹی ہیں۔ قریب آ کر اس نے فرخندہ سے پوچھا

’’کسے بُلا رہی ہیں آپ‘‘

فرخندہ نے اُس نوجوان کو بڑے گہرے اور دلچسپ غور سے دیکھا

’’میں نسیمہ کو بلا رہی تھی‘‘

نوجوان نے صرف اتنا کہا

’’اوہ چلو آؤ !‘‘

اور یہ کہہ کر منڈیر کے اُس طرف سے ہلکی پھلکی فرخندہ کو اُٹھایا اور برساتی میں لے گیا جہاں وہ امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ دُوسرے دن جن غائب ہو گیا۔ فرخندہ بالکل ٹھیک تھی۔ اگلے مہینے اُس کی شادی نسیمہ کے اُس بھائی سے ہو گئی جس میں نسیمہ شریک نہ ہوئی۔ سعادت حسن منٹو ۲۶ مئی ۱۹۵۴ء

(وسعادت حسن منٹو)

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں