تھر: ایک ماہ کے بچوں کی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ

تھرپارکر

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائےاطلاعات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ تھرپارکر میں بچوں کی اموات کی وجہ غذائی قلت کے ساتھ بچوں کی پیدائش میں وقفہ نہ ہونا بھی ہے۔

مٹھی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں تمام تر سہولیات اور ادویات موجود ہیں، حاملہ یا بچے کو دودھ پلانے والی خواتین کے خاندانوں کو تین ماہ راشن دیا جائے گا لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جاکر آگاہی فراہم کریں گی۔

دائیوں کی تربیت کیلئے حکومت نے کام شروع کر دیا ہے، تھرپارکر کے ڈاکٹروں کی وہیں پوسٹنگ کر رہے ہیں۔ جنرل سیکرٹری دعا فاؤنڈیشن ڈاکٹر فیاض عالم نے کہا کہ تھرپارکر میں غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کے ساتھ ماؤں کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔

loading...

پاکستان میں پیدائش کے 28 دنوں کے اندر بچوں کی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، تھرپارکر میں یہ شرح 80 سے بھی زیادہ ہے، صحیح علاج و ادویات سے 80 فیصد بچوں کو بچایا جاسکتا ہے۔

ڈس ایبل افراد کے نمائندوں عاصم رضا، آغا حسنین، وقار احمد خان اور کامران خان سے بھی گفتگو کی گئی۔ ڈاکٹر فیاض عالم نے مزید کہا کہ تھر کے زیادہ تر لوگ علاج کیلئے عمر کوٹ آتے ہیں، عمر کوٹ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں نرسری ہی موجود نہیں ہے۔

مٹھی ہیڈکوارٹر اسپتال میں ہمارا چھ افراد کا اسٹاف 2015ء سے کام کررہا ہے، تھرپارکر میں 82 فیصد بچے ابھی بھی دائیوں کے ذریعہ پیدا ہورہے ہیں ، حکومت ان دائیوں کی تربیت کا انتظام کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں