سست بچوں کو ایکٹو بنانے کے لیے 4 طریقے

سست بچوں
loading...

اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین گھروں میں زیادہ ایکٹو نہیں رہتے۔ والدین کو دیکھ کر بچے بھی سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں اور صوفے پر بیٹھے بیٹھے پورا دن گزار دیتے ہیں۔

لیکن جسمانی سرگرمی صرف بچوں کے لیے نہیں خود بطور والد یا والدہ آپ کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔

اپنی فیملی کے ساتھ ایکٹو یا سرگرم رہنے سے آپ کی ان کے ساتھ قربت بڑھے گی اور آپ صحتمند بھی رہیں گے۔

اپنی فیملی کی صحت بہتر بنانے کے لیے مندرجہ ذیل طریقے اختیار کریں۔

بھاگو، کھیلو کودو!

یاد رکھیں کہ بچوں کی بہتر صحت کے لیے روزانہ کم از کم 60 منٹ کی جسمانی سرگرمی ضروری ہوتی ہے۔

آپ اپنے بچوں کی تیز قدموں کے ساتھ پیدل چلنے، رسی کودنے، سائکلنگ، اسکیٹنگ، سوئمنگ، باسکٹ بال یا فٹ بال کھیلنے حتیٰ کہ سیڑھیاں چڑھنے کے لیے بھی حوصلہ افزائی کریں۔

چلو کہیں گھوم آتے ہیں

ہفتہ وار چھٹی کے دنوں میں بچوں کے ساتھ ہائکنگ یا سائیکلنگ کے لیے کسی پارک کا رخ کریں۔ اپنی فیملی کو اگلی چھٹیوں میں کسی ایسی جگہ لے جائیں جہاں آؤٹ ڈور سرگرمیوں کے بہت سارے مواقع ہوں۔

آج پیدل چلیں

کھانے کے بعد چہل قدمی کی عادت اپنا لیں۔ بچوں کو اسکول یا دوست کے گھر گاڑی میں یا موٹر سائیکل پر لے جانے کے بجائے پیدل چلنے کو فوقیت دیجیے (اگر فاصلہ بہت زیادہ طویل نہ ہو تو۔)

اپنی فیملی کو اگلی چھٹیوں میں کسی ایسی جگہ لے جائیں جہاں آؤٹ ڈور سرگرمیوں کے بہت سارے مواقع ہوں

گھر کے ایک حصے میں بچوں کو کھیلنے کودنے کی پوری اجازت ہے!

گھر کا ایک کمرہ بچوں کے لیے مختص کیجیے جہاں وہ بڑے آرام سے ہلہ گلہ کرسکیں اور کھیل کود سکیں۔ اس کمرے میں گیند، کودنے کے لیے رسی اور ہر اس کھیل کا سامان رکھیں جس میں جسمانی سرگرمی شامل ہو، اس کے علاوہ ذہنی آزمائش کے لیے پزلز بھی رکھے جاسکتے ہیں اور ہاں بچوں کے ساتھ کھیل کود میں شامل ہونے میں ذرا بھی ہچکچانے کی ضرورت نہیں۔

ہر چیز کا وقت ہوتا ہے

بچوں کو ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیجیے جس میں ایک جگہ بیٹھنے کے بجائے جسمانی مشق شامل ہو۔ بچوں کے لیے ٹی وی دیکھنے، ویڈیو گیمز کھیلنے اور انٹرنیٹ پر وقت گزارنے کے اوقات کی حدود مقرر کردیجیے، لیکن ہاں آپ کے لیے یہ دھیان رکھنا ضروری ہے کہ کہیں آپ کے بچے مقررہ وقت سے تجاوز نہ کر رہے ہوں۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں