یمن کے سابق صدر کے بیٹوں کو باغیوں نے رہا کر دیا

باغیوں
loading...

صنعا: یمن میں برسرپیکار حوثی باغیوں نے مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کے دونوں بیٹوں کو رہا کردیا۔

تفصیلات کے مطابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو گذشتہ سال دسمبر میں حوثی باغیوں نے قتل کرنے کے بعد ان کے دونوں بیٹوں کو اغوا کرلیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یمنی حوثی باغیوں نے سابق صدر کے بیٹوں مدین علی اور صلاح علی کو رہا کردیا، یہ فیصلہ حوثی باغیوں کے سربراہی کونسل نے کیا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی رہائی عمان کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بعد عمل میں آئی، اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہیں عمان کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں بیٹوں کو صنعا ایئر پورٹ کے ذریعے اردن کے دارالحکومت عمان پہنچا دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملے جاری ہیں، جبکہ یمن میں بھی سرکاری فوج سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے یمن میں سرکاری فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 73 باغی جبکہ 11 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ خیال رہے کہ الحدیدہ بندرگاہ پر سعودی عسکری اتحاد کی جانب سے حوثی کے لیے انخلا کے لیے ایک بڑا فوجی آپریشن کیا گیا تھا جس میں یمنی فوجیوں نے بھی حصہ لیا تھا۔

البتہ اب تک باغیوں کا انخلا عمل میں نہیں آیا، جبکہ عسکری اتحاد کے ترجمان کی جانب سے دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ وہ جلد الحدیدہ کو باغیوں سے کلیئر کرالیں گے۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں