ریکوڈک ذخائر اور سعودی تیل

تیل کا معاہدہ

وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے سعودی عرب کی جانب سے5 سال کے لیے تاخیری ادائیگیوں پر پاکستان کو تیل دینے پر آمادگی کی تصدیق کردی۔ گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے سعودی عرب سے اُدھار پر تیل لینے کی باضابطہ درخواست کی تھی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے تصدیق کی ہے پاکستان نے 5 سال کے لیے ادھار پر سعودی عرب سے تیل مانگا ہے۔ انہوں نے کہا ہماری 5 سال کے لیے ادھار پر تیل لینے کی حکمت عملی سے سعودی حکام آمادہ ہیں۔ گوادر میں آئل ریفائنری لگانے میں سعودی عرب دلچسپی رکھتا ہے اور ہم بھی یہی چاہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ریکوڈک پر بھی بات ہو رہی ہے اور سعودی عرب اس میں بھی دلچسپی لے رہا ہے۔ غلام سرور خان نے کہا کہ صوبوں سے اس معاملے پر بات ہو رہی ہے اور پارلیمان کو بھی اعتماد میں لیں گے۔

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کی شاید شدید ترین معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ قوم ایک طرف اربوں ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے تو دوسری طرف برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کا حجم بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے تجارتی خسارے سے دو چار ہے۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے برسراقتدار حکومت اپنے دو سب سے قریبی دوستوں چین اور سعودی عرب کی طرف دیکھ رہی ہے جو اس کی مشکل آسان کر سکتے ہیں جبکہ چین سے مستقل رابطے جاری ہیں۔

اس حوالے سے پاکستان کی سعودی عرب سے اُدھار تیل دینے کی باقاعدہ درخواست غیر متوقع نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے تین ماہ تک روزانہ 2 لاکھ بیرل تیل ادھار مانگا ہے۔ پاکستان مجموعی طور پر سالانہ 2 ارب 25 کروڑ ڈالر مالیت کے تیل کی کم از کم دو سال کے لیے اُدھار خریداری کا خواہش مند ہے اور مالی مشکلات میں کمی کے لیے سعودی وفد سے گرانٹ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کو پیٹرولیم کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً مالی امداد بھی دیتا ہے جبکہ خلیج تعاون کونسل کے پلیٹ فارم سے تجارتی شراکت دار بھی ہے۔ دونوں ملکوں میں دو طرفہ تجارت کا حجم 15 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی دفاعی ضروریات پوری کرتا ہے۔ سعودی عرب نے نہ صرف دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے بلکہ توانائی اور کئی دوسرے شعبوں میں بھی اس کے بھاری سرمایہ لگانے کے روشن امکانات ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی وفد کے دورے کے دوران مختلف معاہدوں پر دستخط ہوں گے جنہیں حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

فی الوقت آئی ایم ایف کا ایک مشن بھی پاکستان آیا ہوا ہے۔ وزارت خزانہ اور ایف بی آر سے اس کی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اس نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مالی وسائل بڑھانے کے لیے مزید محصولات لگائے۔ اس نے ضمنی بجٹ میں لگائے گئے ٹیکسوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینے کی قوم کو کتنی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ اس لیے حکومت کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ آئی ایم ایف یا کسی بھی عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ لینے کی بجائے خود انحصاری کی راہ اختیار کرے۔

حکومت خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کو منافع بخش بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ برآمدات میں اضافے کے لیے ترغیبات بڑھائے۔ ملکی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے کاروباری افراد کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔

پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو تیل گیس اور سونے اور تانبے کی کان کنی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی ہے۔ ان میں سے بعض منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری کے عظیم اقتصادی منصوبے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں چنانچہ ان منصوبوں میں سعودی عرب کی شرکت سی پیک منصوبے کی مالی اور جغرافیائی وسعت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اقتصادی اعتبار سے یہ منصوبے سعودی عرب کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں خاص طور پر گوادر میں آئل سٹی کا مجوزہ منصوبہ جو عرب ممالک سے چین کو تیل کی رسد میں وقت اور لاگت کی خاطر خواہ بچت کا باعث بنے گا۔ پاکستان کی جانب سے چین کو بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ریکوڈک ذخائر کی بھی پیش کش کی گئی ہے۔

غیر معمولی معدنی وسائل کے یہ سربستہ راز اگر اب تک بروئے کار نہیں آ سکے تو اس کی ذمہ داری پاکستان کی مقتدر شخصیات اور اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ سعودی عرب اگر اس بڑے منصوبے میں بھی شامل ہوتا ہے تو پاکستان اور سعودی عرب دونوں اس عظیم معدنی ذخیرے سے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو دنیا کے لیے کھولنے کا یہ ایک اچھا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے جو اس منصوبے کی معاشی افادیت کو دنیا پر افشاء کرنے کا سبب بنے گا۔ سی پیک منصوبہ بنیادی طور پر پاکستان اور چین کا مشترکہ منصوبہ ہے تاہم یہ چین اور پاکستان تک محدود نہیں جیسا کہ اکثر قیاس کیا جاتا ہے یا جنوبی ایشیاء کا انقلابی اقتصادی منصوبہ ثابت ہونے کی صلاحیت کے حامل اس منصوبے کے مخالفین اسے بنا کر پیش کرتے ہیں۔

بہرحال سعودی وزیر خزانہ وزیر توانائی اور دیگر اعلیٰ حکام کی پاکستان میں موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب میں پاکستانی محنت کشوں کے مسائل کو بھی اجاگر کیا جانا چاہیئے اور ان مسائل کے حل اور پاکستانی محنت کشوں کے لیے خصوصی رعایتوں اور سہولتوں میں اضافے کے لیے بھی ضرور کوشش کرنی چاہیئے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید سعودی عرب کی تعمیر و ترقی میں پاکستانی مہارت اور افرادی قوت کا بنیادی کردار ہے تاہم حالیہ چند برسوں میں پاکستانی محنت کش اجرتوں کی عدم ادائیگی ملازمتوں سے برخاستگی ملک بدری اور قید و جرمانے کی سزاؤں کا شکار رہے ہیں۔ اسی وجہ سے پچھلے چند برس میں اڑھائی لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو سعودی عرب سے بے دخل کر دیا گیا اس کے نتیجے میں پچھلے دو سال کے دوران سعودی عرب سے پاکستانی محنت کشوں کی ترسیلات زر میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی کمی آئی۔

اس سلسلے کو روکنے کی ضرورت ہے۔ سی پیک خصوصاً ریکوڈک ذخائر پر مختلف معاشی ماہرین اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات ہیں جنہیں دور کیا جانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کیونکہ کوئی بھی معاشی منصوبہ قومی ہم آہنگی کے بغیر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ پالیسی سازوں کو ان معاملات میں قومی خدمت کے جذبے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں