مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینا ایک حساس معاملہ ہے

3rd Oct 2018 - آج کا کارٹون

(محمد اکرم خالد)

محترم وزیراعظم پاکستان نے چند روز پہلے اپنے دورہ کراچی کے موقع پر بنگالیوں اور افغانیوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا جو ایک طرح سے خوش آئند ہے مگر دوسری جانب اس اعلان سے سیاسی حلقوں اور عوام میں مِلا جلا رجحان پایا جارہا ہے یہ بات درست ہے کہ کراچی میں بسنے والے بنگالیوں کو لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک شناختی کارڈ تک جاری نہیں ہوسکے ہیں یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ان اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں مزید اضافہ ممکن ہے ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں نئے آنے والے بنگالیوں یا افغانیوں کی کوئی سرزمین نہیں ہے بنگلہ دیش اور افغانستان یہ وہ دو ممالک ہیں جن کے لوگ پاکستان میں گذشتہ بیس سالوں میں غیرقانونی طور پر یہاں آباد ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی آبادی اور بنیادی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم صاحب کا یہ کہنا شاید غریب پاکستانی کے لیے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی کہ پاکستانیوں کہ مقابلے میں بنگالی افغانی تھوڑی اجرت پر کام کر لیتے ہیں مگر کیا خان صاحب یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ ان کم پیسوں میں کام کرنے والے لوگوں کی وجہ سے اس وقت ہزاروں لاکھوں غریب پاکستانی بے روز گار ہوگئے ہیں۔ افغانی باشندوں کی پاکستان میں ا کثر یت سے موجودگی نے پاکستان کے امن کو بھی نقصان پہنچایا ہے جن کے روپ میں پاکستان مخالف دہشت گرد کالعدم تنظیمیں بھی جنم لیتی رہی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کا آسان ہدف بنتا رہا ہے۔

اس وقت کراچی شہر میں پولیس ریکارڈ کو چیک کیا جائے تو اکثریت افغانستان سے غیرقانونی طور پر آنے والے نوجوانوں کی ہے جو اسٹریٹ کرائم میں ملوث ہیں افغان باڈر سے ہمیں کئی دفعہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آج ہمارے ملک میں ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کا قاتل گلبھوشن جادھو جو اعتراف جرم کے باوجود بھی پاکستانی مہمان بنا ہوا ہے اس جیسے دہشت گرد با آسانی وطن عزیز میں داخل ہو پاکستان کے دفاع کو چیلنج کرتے ہیں جن کو ریاست پاکستان آج تک روک نہیں سکی ہے۔

مزید پڑھیں۔  6 ستمبرایک یاد گار دن
loading...

ہم یہاں اُن لوگوں کی بات نہیں کر رہے جو قیام پاکستان سے یا سویت جنگ کے نتیجے میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے چاہے وہ بنگالی ہوں یا افغانی۔ ہم اُن لاکھوں لوگوں کی مذمت کر رہے ہیں جو گذشتہ بیس سالوں سے مسلسل غیرقانونی طور پر ہماری سرحدوں کے تحفظ کو پامال کر کے پاکستان میں داخل ہورہے ہیں پاکستان نے ہمیشہ بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے۔ سویت جنگ کے دوران ہزاروں افغانیوں کو پاکستان میں جگہ دی مگر افغانستان پاکستان کی دوستی کو نہ سمجھ سکا۔

افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو سب سے آخر میں تسلیم کیا۔ 1948ء میں اقوام متحدہ کا رکن بننے میں بھی افغانستان نے پاکستان کی مخالفت کی۔ 1949ء میں پاکستان کے وجود سے انکار کیا گیا کیوں کہ افغانستان کو پاکستان کے ساتھ شروع دن سے تحفظات رہے ہیں جس کی وجہ فاٹا اور پاک افغان سرحد کا تنازع ہے۔

افغا ن حکومت فاٹا کو افغانستان کا حصہ مانتی ہے جس کے لیے اُس وقت کے افغان ایلچی نجیب اللہ نے پاکستان کو فاٹا سے دسبردار نہ ہونے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دی تھی دوسری جانب 1971ء پاکستان مخالف قوتوں نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔

مارچ 1948ء میں قائداعظم نے بحیثیت گورنر جنرل مشرق پاکستان کا دور کیا تو ڈھاکہ میں ایک تقریر میں یہ اعلان کیا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اُردو ہوگی یہ اعلان مشرق پاکستان کے بنگالیوں کو پسند نہ آیا اس اعلان کے خلاف مختلف مقامات پر مظاہرے کیے گئے جس کی قیادت بنگلہ دیش کے بانی عوامی لیگ کے صدر شیخ مجیب رحمن کر رہے تھے۔ قائداعظم کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہ تھا بلکہ جناح کا مقصد اُردو بولنے والے اور بنگالی بولنے والے پاکستانیوں کو یکجا کرنا تھا مگر بھارت کی سازش نے ایسا نہ ہونے دیا۔ جس کی وجہ سے پا کستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا جس کا پاکستان کو بہت بڑا نقصان ہوا جیسے ہمارے ارباب اختیار آج تک سمجھ نہیں سکے۔

مزید پڑھیں۔  جوتوں کے اوپر جرابیں

پاکستان کی شہریت ہر محب وطن پاکستانی کا حق ہے جب اس ملک میں غیر مسلم کو قومی شناختی کارڈ دیے جاسکتے ہیں تو پھر بنگالی مسلمان جو تقسیم کے دوران پاکستان میں رہتے رہے خاص کر ان کو اور اسی طرح سویت جنگ کے دوران افغانستان سے آنے والے افراد کو بھی پاکستانی شہریت ملنی چاہیئے جو ان کا جائز حق ہے مگر گذشتہ بیس سالوں سے جو لوگ بنگلہ دیش سے یا افغانستان سے پاکستان میں غیر قانونی طور پر آکر بس رہے ہیں ان کو بھی پاکستانی شہریت د ینے کا فیصلہ مناسب نہیں ہے۔

Spread the love
  • 6
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں