تحریک انصاف کا طلسماتی شہر! دروازہ کب کھلے گا؟

تبدیلی، سو روزہ ایجنڈا

(راؤ عمران سلیمان)

آج قوم نے دیکھ لیا ہے کہ حکومت چلانے کی نسبت اپوزیشن کرنا کس قدر آسان کام ہے اور حکومت چلانے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کی مثال کے لیے موجودہ حی تکومت ہمارے سامنے ہے جبکہ اپوزیشن میں تو اخبارات اور نیوز چینلوں پر خبریں دیکھی اور تنقید کرڈالی۔

ہم اپنے من پسند حکمرانوں کو کامیاب کروا کر ایوانوں میں تو لے آتے ہیں مگر خود ہی یہ بھول جاتے ہیں کہ ان حکمرانوں نے بدلے میں ہم لوگوں سے کیا کیا وعدے کیے ہوتے ہیں۔

یہ واحد حکومت ہے جس کے وعدے عوام بھولنے کی بجائے وفا ہونے کے انتظار میں ہیں کیوںکہ یہ وعدے تھے ہی اس قدر دلفریب کہ جسے نہ تو بھولنے کو دل کرتا ہے اور نہ ہی بھلانے کو۔ نوازشریف نے اس ملک سے اندھیروں اور دھشت گردی کے خاتمے کا نعرہ لگایا تھا جبکہ پیپلز پارٹی نے تو ہر دو ر میں جہاں روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگایا وہاں غربت مٹاؤ مہم کو بھی اپنے منشور میں شامل کیا مگر ان کی حکومت آنے کے بعد عوام نے نہ تو کبھی سو دن کا انتظار کیا اور نہ ہی ان باتو ں پر توجہ دی کی یہ لوگ عوام کو جواب دہ بھی ہیں۔

یہ واحد حکومت ہے جسے لوگوں نے اپنے لیے جادوئی چراغ سمجھا۔ مثلاً وزیر خزانہ اسد عمر ایک جادوئی چراغ یعنی رگڑا تو مہنگائی کم ہوجائے گی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ جسا رگڑا تو ہندوستان قدموں میں آگرے گا۔ شیخ رشید وزیر ریلوے جسا اگر رگڑا تو لاہور سے کراچی کا کرایہ اڑھائی سو روپے ہوجائے گا اور ریل گاڑی کے تمام ڈبے اے سی سلیپر۔

اسی انداز میں تمام وزراء عوام کے لیے الہٰ دین کے چراغ کی صورت میں کام کرینگے یعنی عوام یہ سمجھتے رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آئی تو سب کچھ الف لیلیٰ کی داستانوں جیسا ہی ہوگا لہٰذا عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دیکر اپنا اپنا ٹکٹ تو کٹوا چکے ہیں مگر ابھی تک اس طلسماتی شہر کا دروازہ ان کے لیے نہیں کھولا گیا۔

خیرمیں یہ سمجھتا ہوں کہ حکومت کے سو دن کے ایجنڈے کو تنگ نظری کی بجائے فراخ دلی سے قبول کرنا چاہیئے مگر یہ سو دن کا ایجنڈا ایسا بھی نہیں ہے کہ خاموشی سے یا دبے پاؤں گزر رہا ہو بلکہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہر کوئی یہ جاننے کے لیے بے تاب ہے کہ وہ تبدیلی آخر کیا ہے؟ کچھ لوگ تو نئے پاکستان کے حوالے سے اس قدر مشتاق دکھائی دیتے تھے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے تھے کہ اس نئے پاکستان میں موجود بلڈنگیں کیسی ہونگی؟ لوگ یہ سمجھنے لگے تھے کہ دکانوں پر اشیاء خورد و نوش بھی اس قدر سستی ملے گی کہ ایک سو روپے کے نوٹ میں پورا دن نکل جایا کرے گا۔

الیکشن سے قبل پرانا پاکستان اس قسم کی صورتحال سے دوچارتھا کہ لوگ اس جادوئی دنیا میں آنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ میں تو ووٹ تحریک انصاف کو ہی دونگا سامنے والا اگر پوچھ بھی لیتا کہ بھائی وہ کیوں؟ تو جواب آتا کہ تبدیلی کے لیے۔ نئے پاکستان کے لیے۔

یہ ایک ایسی تحریک تھی جس نے بچے بڑے یہاں تک کے بوڑھوں کو بھی اپنی جانب مائل کیا تھا اور خواتین کا تو یہ حال تھا کہ مت پوچھیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان صاحب اگر اس سو روزہ ایجنڈے میں ستر فیصد بھی کامیاب ہوجائیں تو یہ تحریک انصاف کی حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ عمران خان نے خود ہی اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ہمارے سو دن ہی اس بات کی عکاسی کرینگے کہ ہماری حکومت کس راستے پر گامزن ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ان سو دنوں میں اگر مہنگائی پر قابو پا لیا جائے اور تعلیم سمیت صحت کے نظام میں ہی بہتری لائی جاسکی تو یہ عمران خان کی حکومت کی یقینی کامیابی ہوگی۔ یہ صرف تین چیزوں پر عملدرآمد ہی اس حکومت کو چار چاند لگا دینے کے مترادف ہونگیں۔ یہ وہ بنیادی سہولیات ہیں جو اس وقت آج اور گزشتہ کئی سالوں سے ہی نظر انداز ہوتے چلے آئے ہیں کیونکہ اس ملک کا اصل مسئلہ کرپشن ہی نہیں ہے بلکہ کچھ اور بھی ہے۔

loading...

مثال کے طور پر عمران خان اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر بھی دیں تو کیا ہوگا؟ یہ ہی کہ اس ملک میں نیک اور ایماندار لوگوں کا راج ہوگا مگر نیک اور ایماندار ہونے سے مسجدیں تو آباد ہوسکتی ہیں مگر ملک نہیں چلا کرتے اس ملک کو چلانے کے لیے ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہیں جو تجربہ کار ہوں اور باصلاحیت ہو اور جناب عمران خان کے ساتھ جو لوگ موجود ہیں وہ ایماندار اور باصلاحیت نہیں ہوسکتے اگر ہیں اور وہ اس طرح کے ایسا عمران خان نے خود ہی کہا تھا اور یقیناً اس ملک کا وزیراعظم جھوٹ تو کم از کم نہیں بولے گا نا۔

عمران خان نے اپنے دھرنوں میں گزشتہ حکومتوں پر جو چور بازاری کے الزامات لگائے ہیں وہ سب بے بنیاد بھی نہیں ہوسکتے کیونکہ ان ہی چوروں اور ڈاکوؤں کی حکومتوں کو چلانے والے آج اس حکومت میں بھی دکھائی دے رہیں ہیں۔ خیر میں بھی سو دن سے قبل زیادہ بولنے کا قائل نہیں ہو فی الحال جہاں تک میں نے اوپر دیے گئے تین ایشوز پر کام کرنے کی بات کی ہے اس میں سب سے پہلے مہنگائی کا معاملہ ہے۔

حکومت خود بتائے کہ ان دو مہینوں میں کس قدر مہنگائی کا طوفان مچا ہے پٹرول مہنگا، سی این جی مہنگی، حتیٰ کہ دالیں اور سبزیاں بھی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہیں۔ صحافیوں تک کا برا حال ہے ملک کے بڑے بڑے اداروں میں وہ صحافی حضرات جو پچھے تیس تیس سالوں سے نوکریاں کرتے رہے انہیں بغیر کسی وجہ کے نکالا جارہا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ کیا اس نئے پاکستان کے لیے ہر ایک شے پر بوجھ ڈالنا ضروری ہے؟ کیا غریب کی پیٹھ کے پیچھے چھرا گھونپے بغیر یہ نیا پاکستان نہیں بن سکتا؟ کیا عوام کی جیبوں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے بغیر اس ملک کی معیشت کبھی ٹھیک نہ ہوسکے گی۔

یہ تو طے ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس لازمی جائیگی اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے بغیر ملک کے معاشی نظام کو درست کیا جاسکے گا۔ آج بھی ہسپتالوں کا وہ ہی حال ہے آج بھی مریض علاج معالجے اور ادویات نہ ہونے کے باعث در بدر ہیں۔ اس ملک کا تعلیمی نظام اب پہلے سے بھی زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے اسلام آباد والے دھرنے میں کہا تھا کہ ان کے پاس 200 ایسے ماہرین موجود ہیں جو اس ملک کی تقدیر کو بدل دیں گے۔ ابھی تک حکومتی ٹیم میں ایک عاطف میاں جو شدید تنقید کے باعث جاتے رہے اور دوسرے زلفی بخاری جو اس وقت شدید تنقید میں گھرے ہوئے ہیں۔ باقی 198 ایکسپرٹ کدھر ہیں؟

اگر ہم موجودہ حکومتی وزراء اور مشیروں کی بات کرتے ہیں تو پھر یہ غلط بیانی ہوگی کیونکہ یہ تمام وزراء اور مشیر حضرات جن کی تعداد اگر 25 ہے تو ان میں سے 20 لوگ تو پرویز مشرف اور دیگر جماعتوں کے ایکسپرٹ تھے اگر یہ لوگ واقعی ملک چلانے میں ماہر تھے تو پھر وہ پچھلی حکومتیں جن میں یہ ہی چہرے موجود تھے تو ان حکومتوں کو گرانے اور گندہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

آپ نے کہا تھا کہ 8 ہزار ارب جمع کرینگے جس سے قرضے کی ضرورت نہیں پڑے گی مگر آپ کے وزیر خزانہ اسد عمر تو کہتے ہیں کہ ہمارے پا س آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ کوئی پوچھے کہ تبدیلی اگر یہ تھی کہ نواز شریف جائے اور عمران خان آجائے تو پھر کیا یہ تبدیلی نہیں تھی کہ زرداری گیا تو نواز شریف آ گیا؟ مطلب یہ تو ہوئی چہروں کی تبدیلی اور معاملہ اگر نظام کی تبدیلی کا ہے تو پھر موجودہ نظام آج سے دو ماہ پہلے والی حکومت سے زیادہ عوام کو بھاری پڑ رہا ہے بلکہ اس نئے پاکستان کا آدمی اس انتظار میں مزید چڑچڑا اور بدمزاج سا ہوگیا ہے کہ ہر ایک نقصان کی صورت میں اب یہ ہی کہتا دکھائی دے رہاہے کہ بھائی نیا پاکستان ہے یہ۔ یعنی نئے پاکستان کا نعرہ اب مذاق بن چکا ہے۔ خیر سے میں موجودہ حکومت کے لیے دعاگو ہوں کہ وہ اپنا ہر وعدہ پورا کرے۔

Spread the love
  • 8
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں