لاہور: پولیس اہلکاروں کے اغواء میں استعمال ہونے والی گاڑی محمود الرشید کے بیٹے کی نکلی

میاں محمود الرشید

لاہور کے علاقے غالب مارکیٹ میں کار سواروں کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے اغواء کے واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی صوبائی وزیر پنجاب محمود الرشید کے بیٹے کی نکلی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ غالب مارکیٹ کے قریب ایک کار کو روکا تو اس میں موجود لڑکا نشے میں تھا۔ گاڑی میں موجود لڑکی نے فون کر کے اپنے ساتھیوں کو بلوایا۔

پولیس کی جانب سے دائر ایف آئی آر کے مطابق دو گاڑیوں میں سوار افراد نے موقع پر پہنچ کر پولیس اہلکاروں کو مارا پیٹا، ان کا اسلحہ چھینا اور انہیں اغواء کر لیا جب کہ روکی گئی گاڑی میں موجود لڑکا اور لڑکی فرار ہو گئے۔

ملزمان کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق روکی گئی کار پنجاب کے وزیر ہاؤسنگ محمود الرشید کے بیٹے کی تھی۔

loading...

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور صوبائی وزیر ہاؤسنگ محمود الرشید کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے بیٹے کے بارے میں من گھڑت الزامات لگائے جا رہے ہیں، ان کا اس واقعے میں کوئی قصور نہیں ہے۔

محمود الرشید کا کہنا تھا کہ میرا بیٹے کو اس کے دوست نے فون کیا جس پر وہ وہاں پہنچا۔ میں نے بیٹے کو کہا کہ فوری طور پر گلبرگ تھانے جا کر شامل تفتیش ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے تفتیش اور تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جائے گا اگر بیٹے یا کسی نے بھی کوئی جرم کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیئے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر بیٹے پر الزام ثابت ہو گیا تو وزارت سے استعفیٰ دے دوں گا۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں