وائٹ کالر جرائم سے نمنٹے کے لیے چین کا تعاون چاہتے ہیں، عمران خان

وزیر اعظم

بیجنگ : وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان شمالی کوریا اور ملائیشیا کے لیے ایک مثال تھا لیکن بدقسمتی سے بدعنوانی اورمنی لانڈرنگ نے ملک کو بری طرح متاثر کیا۔

تفصیلات کے مطابق بیجنگ میں سینٹرل پارٹی اسکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین کے مستقبل کی قیادت سے بات کررہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 1960ء کی دہائی میں پاکستان کی شرح نمو سب سے زیادہ تھی لیکن بدعنوانی نے ملک کے لیے مسائل پیدا کیے۔

عمران خان نے کہا کہ بدعنوانی کی بری ترین صورت رقم کی غیرقانونی منتقلی ہے، ڈالرز ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملکوں میں غیرقانونی منتقل ہوتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ 1996ء میں بدعنوانی کے خلاف اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا لیکن اس وقت ہماری جماعت کو اہمیت نہیں دی گئی اور آج پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 30 سال میں چین نے 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا اور جو ترقی کی وہ ہمارے لیے مثال ہے۔

عمران خان نے کہا ہم پاکستان میں بھی لوگوں کو غربت سے نکالیں گے، جب بھی ضرورت پڑی چین نے پاکستان کی مدد کی، وائٹ کالر جرائم سے نمنٹےکے لیے چین کا تعاون چاہتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ اداروں کو مضبوط کرکے ہی بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے، ہم چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے شدید متاثرہوئی تاہم پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ سی پیک سے رابطوں کا فروغ، اقتصادی زونزسے معاشی بہتری آئے گی۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں