چمگادڑوں کی وجہ سے آسٹریلوی شہری اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور

چمگادڑوں

آسٹریلیا کے شہر کیرنز کے شہریوں نے عارضی طور پر اپنے گھروں کو چھوڑ دیا ہے۔

گھروں کو چھوڑنے کی وجہ یہ ہے کہ گرمی کی شدید لہر کے باعث ہزاروں چمگادڑیں اڑتے ہوئے مرمر کر ان کے گھروں میں گر رہی ہیں۔ دنیا کے دیگر حصوں کے برعکس آسٹریلیا میں یہ گرمیوں کے دن ہیں۔

کوئنزلینڈ کے علاقے میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا ہے۔ جانوروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رات میں نکلنے والے ممالیہ 40 ڈگری سے اوپر کا درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے۔

ٹھنڈک کا کوئی نظام نہ ہونے کے باعث ان کے اندرونی اعضا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور وہ بتدریج مر جاتے ہیں۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے دن رات سپرے کی بوتلوں سے سپرے کرتے ہیں اور جانوروں کی رہائشی علاقوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم یہ کوشش تمام جانوروں کو بچانے کے لیے کافی نہیں۔

loading...

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک گرمی کی لہر جاری رہے گی چمگادڑیں اسی طرح مرتی رہیں گی۔ مرنے والی چمگادڑوں کے گلنے سڑنے سے شدید ماحولیاتی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے۔

حکام نے لوگوں کے گھروں سے مری ہوئی چمگادڑیں اٹھانا شروع کر دیں ہیں، پھر بھی بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں میں اب بھی ہزاروں مردہ چمگادڑیں موجود ہیں جو گرمی کی وجہ سے گل سڑ رہی ہیں، جس سے کئی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی کئی کئی ایکڑ زمینوں پر مردہ چمگادڑیں موجود ہے، جن کی بدبو سے بچنے کے لیے وہ دوسرے علاقوں میں جا رہے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں