بے گناہوں کیلئے آواز اٹھانے والے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی ساتویں برسی۔

سلمان تاثیر
سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر 4 جنوری 2011 کو ان کے اپنے ہی سکیورٹٰی گارڈ انتہا پسند نظریات رکھنے والے “ممتاز قادری” کے ہاتھوں قتل کر دیئے گئے تھے۔ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے جرم میں ملوث مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی آسیہ بی بی کو انصاف دلوانے کیلئے آواز اٹھائی تھی۔ سابق گورنر سلمان تاثیر کا ماننا تھا کہ آسیہ بی بی معصوم ہیں اور توہین رسالت کے مبینہ الزامات جھوٹے لگائے گئے ہیں۔ سابق گورنر نے یہ موئقف اپنایا تھا کہ توہین رسالت کے قوانین میں ترمیم کی جانی چاہیے۔ کیونکہ لوگ اس قانون کا استعمال ذاتی جھگڑے نبٹانے کے لیے کرتےہیں۔ سلمان تاثیر 1988 میں پہلی بار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2008 میں عبوری حکومت میں قائمقام وزیر رہے۔ پھر 2008 مٰیں پیپلز پارٹی کی حکومت میں انہیں گورنر پنجاب بنا دیا گیا۔ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ممتاز قادری کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور عدالت میں کیس چلا اور ممتاز قادری کو سزا مو ت سنا دی گئی۔ لیکن اس فیصلے نے پاکستان کو تقسیم کر دیا۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو سمجھتے تھے کہ سلمان تاثیر کا قتل جائز تھا اور مزید یہ کہ ممتاز قادری کو پھانسی نہیں دی جانی چاہیے۔ اس حلقے نے ممتاز قادری کو غازی علم دین شہید کے روپ میں پیش کیا۔ دوسری طرف وہ لوگ تھے جو سمجھتے تھے سلمان تاثیر کا قتل کسی صورت قابل برداشت نہیں ہے یا ناجائز ہے اور ممتاز قادری کو سزا ملنی چاہیے۔
ممتاز قادری کی سزائے موت رکوانے کے لیے مذہبی حلقوں کو جانب سے جلسے جلوس اور احتجاج بھی کیے گے۔ لیکن 2016 میں ممتاز قادری کو سزائے موت دے دی گئی۔ سلمان تاثیر کی ساتویں برسی منائی جارہی ہے اور ان سات سالوں میں توہین رسالت کے قانون کے تحت بہت سارے لو گ گرفتار کیے گئے اوربہت سارے ایسے ہیں جن پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگا کرمشتعل ہجوم نے قتل کر دیا۔ لیکن بعد میں ان لوگوں پر توہین رسالت یا توہین مذہب کو کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ مشال خان کیس اس کی ایک مثال ہے۔ سلمان تاثیر کا بھی یہی موئقف تھا کہ توہین رسالت کا قانون ہر حال میں موجود رہنا چاہیے لیکن اس کے غلط استعمال کا راستہ روکا جانا ضروری ہے۔ نہیں تو بہت سارے بے قصور جان سے جائیں گے۔
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں