بھارت: 18 افراد پر ماں اور بیٹی کے ساتھ ریپ کا الزام

ریپ

بھارت کی ریاست ہریانہ میں ایک 16 سالہ لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ انہیں اور ان کی والدہ کو ایک پولیس اہلکار کی جانب سے ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ اے ایس آئی رینک کے پولیس افسر نے گزشتہ ماہ کیتھل کے ایک گاؤں میں ماں بیٹی کے ساتھ ریپ کیا تھا۔

پولیس نے مقدمے میں 7 پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد کو نامزد کرلیا۔

ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ جس وقت پولیس افسر انہیں اور ان کی والدہ کو مکان میں ریپ کا نشانہ بنارہا تھا، مکان کے باہر علاقے کا سرپنچ (پنچایت کا سربراہ) اور دیگر پولیس اہلکار اس کی مدد کے لیے موجود تھے۔

پولیس نے لڑکی کی شکایت پر 18 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، ان افراد میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا کہ 3 ماہ قبل اسی علاقے سے ایک کم عمر لڑکی نے اپنے والد پر غیر فطری جنسی تعلقات کا الزام لگایا تھا لیکن بعد ازاں لڑکی نے الزامات واپس لے لیے تھے۔

یاد رہے کہ بھارت میں کم عمر لڑکیوں کے ریپ کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جبکہ حکام ان کی روک تھام میں ناکام نظر آتے ہیں۔

بھارت بھر میں ایک عرصے سے لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کے واقعات تواتر سے رونما ہو رہے ہیں اور عالمی برادری سمیت بھارت میں بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

چند ماہ قبل ہی ایک 4 ماہ کی بچی کو اغوا اور ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل کشمیر کی 8 سالہ لڑکی آصفہ بانو کا متعدد مرتبہ ریپ کرنے کے بعد اسے قتل کر کے لاش مقامی مندر میں پھینک دی گئی تھی۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں