پراپیگنڈہ سیاست: جمہوریت کے خلاف سازش

رانا مشہود
loading...

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں شہباز شریف نے متنازعہ بیان پر رانا مشہود کی پارٹی رکنیت معطل کر تے ہوئے انکوائری کے لیے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔ کمیٹی میں راجہ ظفر الحق، ایاز صادق اور رانا تنویر شامل ہیں۔ یہ کمیٹی 2 ہفتے میں اجلاس بلا کر رانا مشہود سے متنازعہ بیان پر باز پرس کرے گی اور اپنی رپورٹ صدر مسلم لیگ کو پیش کرے گی۔

ادھر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد شہباز شریف باہر نکلے تو ایک صحافی نے رانا مشہود کے بیان سے متعلق سوال کر دیا جس پر شہباز شریف نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رانا مشہود کے بیان پر پارٹی نے مؤقف دے دیا ہے۔

پراپیگنڈہ سیاست اور پراپیگنڈہ جرنلزم کا تعلق بہت گہرا ہے۔ پراپیگنڈہ سیاست میں بعض اوقات گڑے مردوں کو اس لیے اکھاڑا جاتا ہے کہ تاکہ نان ایشوز کو دوبارہ ابھارہ جائے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرکے مخالفین کو زچ کیا جائے۔

اسی طرح کی جرنلزم کے دو فوائد ہو سکتے ہیں پہلا یہ کہ عوام کی ذہن سازی کی جائے اور دوسرا مخالفین پر نفسیاتی دباؤ بڑھایا جائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ طریقہ واردات پاکستان کی سیاست میں بھی سرائیت کر چکا ہے جیسے سابق وزیر تعلیم پنجاب رانا مشہود کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے اپنے ہی ملک کی فوج کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی ہے اور یہ تاثر دینے یا خبر کے لیے جگہ بنانے کی کوشش کی ہے کہ حکومت بنانے کے لیے شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اچھے ہوگئے ہیں۔

درحقیقت رانا مشہود نے بتا دیا کہ نون لیگ اب تک سول بالادستی کے جس بیانیے پر مصر تھی وہ محض پراپیگنڈے کا ایک ہتھیار ہے۔ ان کا یہ ارشاد کہ اسٹیبلشمنٹ سے ان کی بات طے پا چکی، اس امر کا اعلان ہے کہ وہ اب بھی انہی حربوں پہ یقین رکھتی ہے۔ تین عشرے قبل جو اس کی بنیاد بنے۔ جہاں میاں نواز شریف نے پرورش پائی۔ جنہوں نے انہیں وزارت بخشی، وزیراعلیٰ بنایا اور 1990ء میں وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کیا۔

عسکری قیادت سے ان کی کشمکش انا پروری کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ 1999ء میں برطرفی کے بعد سول بالادستی کے لیے بظاہر ان کے مؤقف میں سختی آتی گئی۔ اس کے بعد کے حالات بھی عوام جانتے ہیں کہ رانا مشہود کے بڑے کس کس طرح حکومت کرتے رہے۔ کب کب انہوں نے اپنے مفادات کے لیے بھارت تک سے مدد لینے کو ترجیح دی، کب کب امریکی مفادات کے لیے پاکستان کے مفادات کو قربان کرتے رہے اور پھر قارئین کو یاد ہوگا کہ جب جب ان کے بڑوں کے خلاف نیب کے فیصلے آنا شروع ہوئے اور عدالتیں بھی لوٹ کھسوٹ کے خلاف متحرک ہوئیں تو انہوں نے اقتدار میں رہنے کے لیے عوام میں یہ تاثر پھیلانا شروع کر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کے خلاف ہے جبکہ شہباز شریف کے ساتھ اس کے تعلقات ٹھیک ہیں اس لیے وہ بچ جائیں گے۔

ان لوگوں کی ذہنی اپروچ پر حیرانگی ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے آج تک نہ سیاسی معاملات میں کبھی مداخلت کی ہے اور نہ ہی کبھی ایسے کام کو ترجیح دی ہے جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔ ملک میں آج جمہوریت ہے، ملک کے جمہوری حکمران اس وقت موجود ہیں جن کے پاس اپنی حکومت کو بچانے کے حوالے سے آئینی، قانونی اور اسمبلیوں کے راستے موجود ہیں۔ سیاستدان اگر اس طرح کے بیانات دیتے ہیں تو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور دوسرا عوام کو سمجھنے کے لیے یہ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہونے کا تاثر شاید اس لیے دیتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ حساس ادارے ملکی بقاء کے لیے کام کرتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک میں سیاسی افراتفری کو کم کرنے اور عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور اگر نظام کو بچانے کے لیے قربانی کی ضرورت پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیئے۔ اس نظام کی خامیوں کو دور کرنا چاہیئے۔

احتساب کو غیر جانبدار اور سب کے لیے قابل قبول اور آزاد احتساب کی بات کی جانی چاہیئے خواہ اس سے کوئی بھی متاثر ہو اس کی بھی فکر نہیں کرنی چاہیئے اور آئندہ آنے والے الیکشن میں اگر وہ عوام کے سامنے جانا چاہتے ہیں تو غریب کی آواز بنیں اور اس کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کریں اور ایسا پاکستان بنا دیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ جو ایسا پاکستان ہو جس میں غریب اور امیر کے لیے ایک جیسا نظام، ایک جیسی تعلیم، ایک جیسی صحت، اور ایک جیسا انصاف مل سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ ان سیاسی مداریوں اور مفاد پرست گروہوں کو چاہیئے کہ یہ لوگ اپنے کرپٹ پارٹی لیڈروں کے ایماء پر پراپیگنڈہ سیاست کا حصہ نہ بنیں کیوں کہ سیاسی جماعت ایک تنظیم اور نصب العین کا نام ہوتی ہے۔ نصب العین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ تنظیم مقصد کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔ افسوس کہ ان پراپیگنڈہ میکرز کے لیے جب اقتدار ہی پہلی اور آخری ترجیح ہو تو کہاں کا نصب العین اور کیسی تنظیم۔

بہرحال عوام کو اس پراپیگنڈہ سیاست کے حوالے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے لیے مسائل پیدا کرنے والے آج کس طرح اداروں کو نشانہ بنا کر دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے مختلف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ انہیں شاید یہ علم بھی ہوگا کہ اس وقت پاکستان کے تمام بارڈرز ایکٹو ہیں اور پاک فوج کو اندرونی و بیرونی شدید قسم کے مسائل کا سامنا ہے ایسے میں اگر ہم اپنی سیاست میں فوج کو نہ گھسیٹیں تو یہی ملک کی بقاء ہے اور یہی وقت کا تقاضا بھی ہے۔

Spread the love
  • 6
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں